Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسدالدین اویسی نے پاکستان کو ’’اسرائیل کا چھوٹا بھائی‘‘ قرار دیا

Updated: March 21, 2026, 6:08 PM IST | Hyderabad

اسد الدین اویسی نے پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ہندوستان کی توانائی سلامتی پر بھی سوالات اٹھائے۔

Asaduddin Owaisi. Photo: INN
اسدالدین اویسی۔ تصویر: آئی این این

اسدالدین اویسی نے جمعہ کو حیدرآباد میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور خطے کی جغرافیائی سیاست پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے پاکستان کو ’’اسرائیل کا چھوٹا بھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنے پڑوسیوں کو امن کے ساتھ جینے نہیں دیتا۔ اویسی نے اپنے خطاب میں حالیہ علاقائی کشیدگی، خاص طور پر افغانستان میں مبینہ پاکستانی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو اسلامی اقدار کا محافظ قرار دیتا ہے، لیکن اس کے اقدامات اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ ایک حالیہ دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، اویسی نے پاکستانی ریاست کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’’یہ کیسا اسلام ہے‘‘۔ انہوں نے اسرائیل اور پاکستان کے کردار کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک اپنے اپنے خطوں میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
اپنی تقریر میں اویسی نے صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی اندرونی اقتصادی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے ملک کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً ۶۰؍ فیصد گیس درآمد کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں انہوں نے حکومت کے ’’آتمنیر بھر بھارت‘‘ کے دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ ملک کے پاس صرف محدود دنوں کا ذخیرہ موجود ہے، جو کسی بڑے بحران کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بڑے دعوے کرتی ہے لیکن توانائی کے شعبے میں حقیقی خود انحصاری ابھی حاصل نہیں ہو سکی۔
تقریر کے دوران اویسی نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان ممالک کی معیشت سے بھارت کو بڑی مقدار میں ترسیلات زر حاصل ہوتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان ممالک کی اقتصادی صورتحال متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستانی معیشت اور وہاں کام کرنے والے افراد پر پڑے گا۔ دوسری جانب سجاتا شرما جو وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سیکریٹری ہیں، نے ایل پی جی کی صورتحال پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سپلائی کی کوئی کمی نہیں ہے اور گھبراہٹ میں بکنگ کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں بکنگ کے باوجود اسٹاک کافی مقدار میں موجود ہے اور کسی علاقے میں قلت نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ اسی دوران صنعتی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK