Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: دنیا تقسیم، سری لنکا کا انکار، یورپ میں امریکی پالیسی پر اختلافات

Updated: March 21, 2026, 5:11 PM IST | Colombo

ایران جنگ کے دوران عالمی سطح پر واضح تقسیم سامنے آ گئی ہے۔ سری لنکا نے امریکہ کو اپنے جنگی طیارے اتارنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جبکہ یورپی لیڈروں نے امریکی فوجی حکمت عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ قانون سازوں کو اسپین اور جرمنی میں امریکی اڈوں پر نظرثانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی دوران سابق جرمن چانسلر نے ایران پر حملوں کو ویتنام جنگ سے تشبیہ دی، جس سے مغربی دنیا کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

(۱) سری لنکا نے امریکی جنگی طیاروں کو لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کیا
سری لنکا نے ایران جنگ کے دوران امریکہ کو اپنے جنگی طیارے اتارنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ امریکہ نے دو میزائلوں سے لیس جنگی طیاروں کو متالا ایئرپورٹ پر اتارنے کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے واضح طور پر کہا ‘نہیں’ کیونکہ ہم اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ہم ایک ملک کو اجازت دیتے تو ہمیں دوسرے کو بھی دینی پڑتی، اس لیے ہم نے دونوں کو انکار کیا۔‘‘ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور امریکی و ایرانی سرگرمیاں بحر ہند تک پھیل چکی تھیں۔یہ اقدام سری لنکا کی غیر جانبدار پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔

(۲) ٹرمپ، قانون سازوں کو یورپ میں امریکی اڈوں پر نظرثانی کا حق
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی قانون سازوں کو اسپین اور جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر نظرثانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر قانون ساز سمجھتے ہیں کہ انہیں ان اڈوں پر نظرثانی کرنی چاہئے تو انہیں یہ حق حاصل ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو اپنے فوجی اخراجات اور بیرون ملک موجودگی کا جائزہ لینا چاہئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ قومی مفادات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں امریکی فوجی موجودگی پر بحث جاری ہے اور کچھ ممالک اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

(۳) سابق جرمن چانسلر نے ایران پر حملوں کو ویتنام جنگ سے تشبیہ دی
جرمنی کے سابق چانسلر نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے حملوں کو ویتنام جنگ سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ ہمیں ویتنام کی یاد دلاتی ہے جہاں ایک طویل اور پیچیدہ تنازع پیدا ہوا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں اور اس سے عالمی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تنازع کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں اس جنگ کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

(۴) اٹلی کی میلونی، ہرمز میں فوجی مشن مسترد
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یورپی یونین سفارتی حل کی حامی ہے اور ہم اسی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ میلونی نے واضح کیا کہ اٹلی کسی بھی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اپنے اتحادیوں سے ہرمز میں فوجی تعاون کی درخواست کر رہا ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK