Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے اسٹیلتھ جیٹ مار گرایا گیا، نئے حملے، بحر ہند تک جنگ پھیل گئی

Updated: March 21, 2026, 4:07 PM IST | Tehran

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں میدانِ جنگ کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ایف ۳۵؍ اسٹیلتھ طیارہ مار گرایا جبکہ مختلف علاقوں میں حملوں کا دائرہ وسیع ہو کر بحر ہند تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے برطانوی زیر انتظام ڈیاگو گارسیا کو بھی نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائل حملے جاری ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

(۱) ایران کے میزائل حملے جاری، مختلف علاقوں میں سائرن اور دھماکے
ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث کئی شہروں میں سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’ہم نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کا پتہ لگایا ہے اور دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’شہریوں کو فوری طور پر حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔‘‘ یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

(۲) ایران نے امریکی ایف ۳۵؍ اسٹیلتھ جیٹ مار گرانے کا دعویٰ کیا
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ایف ۳۵؍ اسٹیلتھ جنگی طیارہ مار گرایا ہے، جسے ’’گھوسٹ آف دی اسکائیز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق طیارے کو اس کی حرارتی شناخت (thermal signature) کے ذریعے ٹریک کر کے نشانہ بنایا گیا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس طیارے کو نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔‘‘ امریکی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم اس واقعے نے جنگ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک جدید دفاعی نظام استعمال کر رہے ہیں۔

(۳) ایران نے ڈیاگو گارسیا کو نشانہ بنایا
رپورٹس کے مطابق ایران نے بحر ہند میں واقع برطانوی زیر انتظام جزیرہ ڈیاگو گارسیا کو نشانہ بنایا ہے، جہاں امریکی فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ ایک ایرانی بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم اپنے خلاف استعمال ہونے والے تمام اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘‘ رپورٹس میں کہا گیا کہ حملے کی نوعیت اور نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ واقعہ جنگ کے دائرے کے وسیع ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK