• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان نے کئی فلموں میں عمدہ کام کیا

Updated: January 12, 2026, 3:55 PM IST | Agency | Mumbai

ناصر خان پشاور کے قصہ خوانی بازارکے ایک محلے خداداد میں غلام سرور علی خان اور عائشہ بیگم کے گھر۱۱؍جنوری ۱۹۲۴ءکوپیدا ہوئے تھے۔

Nasir Khan also had a unique style. Picture: INN
ناصر خان کا بھی ایک الگ انداز تھا۔ تصویر: آئی این این
ناصر خان پشاور کے قصہ خوانی بازارکے ایک محلے خداداد میں  غلام سرور علی خان اور عائشہ بیگم کے گھر۱۱؍جنوری ۱۹۲۴ءکوپیدا ہوئے تھے۔ وہ کل ۱۳؍بہن بھائی تھے جن میں ناصر خان کا نمبرچھٹاتھا اور وہ  دلیپ کمار سے عمر میں۲؍سال چھوٹے تھے۔ ناصر خان کا بچپن پشاورمیں گزرا۔اسی دوران ان کے والد محمد سرورخان ممبئی چلے آئے یہاں انہوں نےکرافورڈ مارکیٹ میں پھلوں کی ایک دکان کھولی اور جب ان کا کاروبار جم گیا تو انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو ممبئی بلالیا۔۱۹۴۴ءمیںان کے بڑے بھائی یوسف خان کو دیویکا رانی نے فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ایک برس بعد ناصر خان نےبھی فلمی دنیا میںقدم رکھ دیا۔ ان کی پہلی فلم ’مزدور‘تھی جس کے ہدایت کار نتن بوس تھے۔ اس  فلم کی نمائش ۱۹۴۵ءمیں ہوئی لیکن یہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اس کے بعد ان کی دوسری فلم ’شہنائی‘ منظرعام پر آئی جس کے ہدایت کار پی ایل سنتوشی تھے۔ ۱۹۴۷ءمیںریلیز ہوئی یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایاگیت ’آنا میری جان سنڈے کے سنڈے‘ بے حد مقبول ہوا۔
انہوں نے نوتن کے ساتھ فلم نگینہ میں کام کیا۔یہ بالی ووڈکی کامیاب ترین فلم تھی۔ اداکارہ کےساتھ ان کی چند مزید فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں آغوش اور شیشم شامل ہیں۔ ناصر خان نے اپنے بھائی دلیپ کمار کے ساتھ بھی گنگا جمنا نامی فلم میں اداکاری کےجوہر دکھائے۔ اس فلم کے بعد وہ ۱۹۷۰ءتک اسکرین سے دور رہے اور پھر یادوں کی بارات جیسی فلم سے چھوٹے موٹے کردار نبھانے کا آغاز کیا۔ ان کی مشہور فلموں میںنازنین، خزانہ، نگینہ، نخرے، سوداگر، آسمان، شریمتی جی، ہنگامہ، آغوش، شیشم،خوب صورت، انعام، لال کنور، دائرہ، انگارے، سوسائٹی، جواب، چار مینار اور سمندری ڈاکو کے نام سرفہرست تھے، مگر انہیں اصل شہرت ’گنگا جمنا‘ سےملی جس میں دلیپ کمار نے’گنگا‘اور ناصر نے ان کے چھوٹے بھائی ’جمنا‘کا کردار ادا کیا تھا۔’گنگا‘ ڈاکوؤں کا سردار تھا اور’جمنا‘پولیس انسپکٹر۔ اس فلم نے فرض اور محبت کی کشمکش کو بڑے خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا تھا۔جب فلم’گنگا جمنا‘سینسر کے لیے پیش ہوئی تو سینسربورڈ نے اسے پاس کرنے سے انکار کردیا۔ انہوںنےفلم میں فحاشی اور تشدد کے پھیلاؤ کا الزام لگایااور اسے نمائش کے لیے مسترد کر دیا، بعد ازاں ایک طویل قانونی جنگ کے بعد اس فلم کو نمائش کی اجازت ملی۔ اس کے بعداس فلم کی نمائش ۱۰؍ نومبر ۱۹۶۱ءکو ہوئی اوریہ سال کی بہترین فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم نے۳؍ فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے۔ اسی سال بطور ہیرو ان کی آخری فلم’سایہ‘ ریلیز ہوئی۔
’گنگا جمنا‘کی طویل قانونی جنگ کے بعد ناصر خان معاشی طور پرتباہ ہوچکے تھے۔ دلیپ کمار سے بھی ان کے تعلقات بہترنہ رہے تھے۔ انہوں نے ممبئی سےکچھ فاصلے پر ایک پولٹری فارم بنایا مگر وہ یہ کاروبار بھی نہ چلاسکے اور بالآخر انہیں اپنا یہ فارم انکم ٹیکس کے بقایا جات کی ادائیگی کے بدلے دینا پڑ گیا۔ انہی حالات میں۳؍ مئی ۱۹۷۴ءکو ۵۰؍برس کی عمرمیں ناصر خان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی آخری فلم ’بیراگ‘تھی جو ان کے انتقال کے بعد ۱۹۷۶ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو نے بھی کام کیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK