• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جعلی بالی ووڈ سے مایوس ہوکر امیت سانا نے شوبز سے دوری اختیار کرلی

Updated: October 09, 2026, 6:06 PM IST | Mumbai

مشہور گلوکاری کے مقابلے ’’انڈین آئیڈل‘‘ کے پہلے سیزن سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکار امیت سانا نے بالی ووڈ اور موسیقی کی صنعت سے متعلق اپنے تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

Amit Sana.Photo:INN
امیت سانا۔ تصویر:آئی این این

مشہور گلوکاری کے مقابلے ’’انڈین آئیڈل‘‘ کے پہلے سیزن سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکار امیت سانا نے بالی ووڈ اور موسیقی کی صنعت سے متعلق اپنے تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ان کے مطابق، انڈین آئیڈل کے بعد انہیں جس کامیابی اور کام کی امید تھی، وہ حاصل نہیں ہوسکی۔ شوبز کی دنیا کے طور طریقوں سے مایوسی کے باعث انہوں نے آہستہ آہستہ اس صنعت سے دوری اختیار کرلی۔ امیت سانا کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے انہیں ایک ایسی حقیقت نظر آئی جس نے ان کی توقعات کو بدل دیا۔
 امیت سانا نے بتایا کہ جب وہ محض ۲۲؍ سال کے تھے تو سال ۲۰۰۴ء میں نشر ہونے والے انڈین آئیڈل کے پہلے سیزن نے انہیں اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ وہ اس مقابلے میں رنر اَپ رہے تھے۔ چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والے امیت کے لیے اچانک ملنے والی شہرت اور لوگوں کی توجہ ایک نیا تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہرت کے بعد ان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور بعض اوقات انہیں خود سمجھ نہیں آتا تھا کہ لوگ انہیں اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں۔
گلوکار کے مطابق، ممبئی پہنچنے کے بعد انہیں بالی ووڈ کی سماجی زندگی اور فلمی دنیا کے ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ فیشن، پارٹیوں اور مشہور شخصیات کے درمیان رہتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی دور سے دکھائی دیتی ہے۔ امیت سانا نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بعض لوگوں کی تعریفیں حقیقی محسوس نہیں ہوئیں، بلکہ ایسا لگا جیسے ان کی خوشامد کی جارہی ہو۔ ان کے بقول، بالی ووڈ میں کئی مرتبہ لوگوں کی ظاہری زندگی اور حقیقت میں فرق نظر آتا تھا۔ یہی تجربات ان کی مایوسی کی ایک بڑی وجہ بنے۔امیت سانا نے انٹرویو میں یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کی ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ لوگوں کو آسانی سے انکار نہیں کرپاتے تھے۔ ان کے مطابق، بعض مواقع پر انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کام یا ملاقاتوں میں شریک ہونے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے انہوں نے لوگوں سے میل جول کم کرنا شروع کردیا اور رفتہ رفتہ خود کو سماجی سرگرمیوں سے الگ کرلیا۔

یہ بھی پڑھئے:دوستانہ فٹ بال میچ میں روس کے ہاتھوں ہندوستان خواتین ٹیم کو شرمناک شکست ملی

انہوں نے بتایا کہ انڈین آئیڈل کے دوران ان کی ملاقات پروگرام کے ججوں فرح خان اور انو ملک سے ہوئی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنے تیار کردہ گانے فرح خان کو سنانے کی کوشش بھی کی، لیکن جب انہیں اپنے کام کے لیے مناسب موقع نہیں ملا تو انہوں نے مزید کوشش کرنا چھوڑ دیا۔ امیت کے مطابق انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری رہنمائی اور مواقع حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔
 انڈین آئیڈل کے بعد امیت سانا نے اپنے موسیقی کے سفر کو آگے بڑھانے کی کوشش جاری رکھی۔ انہوں نے اپنا دوسرا البم تیار کرنے کے لیے خاصی رقم لگائی، لیکن ان کے مطابق، البم کو وہ تشہیر نہیں مل سکی جس کی انہیں امید تھی۔ نتیجتاً ان کی موسیقی کو بڑے پیمانے پر سامعین تک پہنچانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ گلوکار نے اعتراف کیا کہ شہرت کے باوجود انہیں مستقل کام نہیں ملا اور وہ مالی پریشانیوں سے دوچار ہوگئے۔ گھر کے قرض کی ماہانہ قسطیں ادا کرنا بھی مشکل ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں کبھی پیسے نہیں کما سکا، میں ہمیشہ جدوجہد کی حالت میں رہا۔“ امیت کے مطابق، وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ٹیلی ویژن پر اتنی شہرت حاصل کرنے کے باوجود انہیں گلوکاری کے باقاعدہ مواقع کیوں نہیں مل رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:فلمی تنظیم نے تنوشری دتہ کے بیان پر سخت تنقید کردی

۲۰۰۸ء میں امیت سانا نے گلوکاری کے ایک اور مقابلے ’’جو جیتا وہی سپر اسٹار‘‘ میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق، اس وقت انہیں مالی استحکام کی ضرورت تھی اور وہ چاہتے تھے کہ دوبارہ ٹیلی ویژن پر کام کرکے اپنے حالات بہتر کرسکیں۔ تاہم، اس تجربے سے بھی انہیں وہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی انہیں توقع تھی۔ امیت نے یہ بھی بتایا کہ ۲۰۰۶ء سے ۲۰۰۸ء کے درمیان وہ بعض اخراجات پورے کرنے کے لیے سونی سے ملنے والی رقم پر انحصار کرتے رہے۔ ان کے مطابق، معاہدے کے تحت انہیں ہر تین ماہ بعد چیک ملتا تھا، جس سے وہ اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ ان حالات نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اچانک ملنے والی شہرت اور مستقل روزگار دو مختلف چیزیں ہیں۔مسلسل پیشہ ورانہ مشکلات کے بعد امیت سانا نے خود کو شہرت کی دنیا سے دور کرلیا۔ انہوں نے روحانیت کی طرف بھی توجہ دی اور بتایا کہ آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن سے وابستگی نے انہیں اپنے آپ کو سمجھنے اور زندگی میں سکون حاصل کرنے میں مدد دی۔ وہ اب موسیقی کو پہلے سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق گانے تیار کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اب امیت سانا ایک مرتبہ پھر اسی پروگرام کی طرف لوٹ رہے ہیں جس نے انہیں ملک بھر میں پہچان دلائی تھی۔ وہ ’’انڈین آئیڈل لیجنڈز ریٹرن‘‘ میں نظر آئیں گے، جہاں ان کی جوڑی سابق امیدوار پراجکتا شکری کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ یہ واپسی ان کے لیے نہ صرف پرانے سامعین سے دوبارہ جڑنے کا موقع ہے بلکہ اپنے موسیقی کے سفر کو نئے سرے سے آگے بڑھانے کی کوشش بھی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد امیت سانا کی واپسی نے ان کے مداحوں میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK