• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی این جی کی قیمتوں میں پھر اضافے سے ناراضگی

Updated: November 02, 2026, 11:15 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اپریل سے لے کر اب تک چھٹی مرتبہ سی این جی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ، پرائیویٹ کار ،ٹرک اور ٹیمپو چلانے والوں کے علاوہ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں اور مالکان میں برہمی۔

Vehicles are seen at a CNG pump in Mumbai. Photo: Inquilab, Shadab Khan
ممبئی کے ایک سی این جی پمپ پر گاڑیاں نظر آرہی ہیں۔ تصویر: انقلاب، شاداب خان

یکم اپریل سے یکم نومبر ۲۰۲۶ء کے درمیان ایک دو نہیں بلکہ’ کمپریسڈ نیچرل گیس‘ (سی این جی)کی قیمت میں مسلسل ۶؍ مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ یکم نومبر سے سی این جی فی کلو گیس پر پھر ایک روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔سی این جی پر مسلسل ہونے والے اضافہ سے جہاں ٹرک ، ٹیمپو اور پرائیویٹ گاڑیاں چلانے والےپریشان ہیں، وہیں کالی پیلی ٹیکسی اور رکشا چلانے والے ایک بار پھر فی کلو سی این جی پر ایک روپے کا مالی بوجھ بڑھنے سے نہ صرف شدید ناراض ہیں بلکہ ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کی یونینس محکمہ ٹرانسپورٹ سے ٹیکسی اور رکشا کرائے میں بھی اضافہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔

ممبئی میٹرو پولیٹین ریجن ( ایم ایم آر ) میں یکم نومبر کو مہانگر گیس لمیٹیڈ ( ایم جی ایل) نے سی این جی پر فی کلو ایک روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب ۸۹؍ کے بجائے سی این جی گیس کا استعمال کرنے والی گاڑیاں چلانے والوں پر فی کلو ایک روپے کا مالی بوجھ بڑھ گیا ہے اور اب انہیں فی کلو ۹۰؍ روپے ادا کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ سی این جی سے چلائی جانے والی گاڑیوں میں پرائیویٹ کار، ٹیمپو ٹرک اور بس وغیر شامل ہیں ۔ان کے علاوہ ایپ کے ذریعہ چلائی جانے والی کار اور عوامی سطح پر استعمال ہونے والی ذاتی گاڑیوں کے ساتھ کالی پیلی ٹیکسی اور رکشا چلانےو الے لاکھوں ڈرائیور اور مالکان بھی شامل ہیں ۔یکم نومبر سے ہونے والے اضافہ کے بعدسے اب تک سی این جی کی قیمت میںفی کلو ۹؍روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ مہانگر گیس لمیٹیڈ کے ذریعہ مسلسل کئے جانے والے اضافہ سے پرائیویٹ گاڑیاں ، ایپ بیسڈ گاڑیاں یا پھر ٹیکسی و رکشا چلانے والے ڈارئیور و مالکان شدید ناراض ہیں۔ اس اضافہ کے سبب ایک طرف پرائیویٹ گاڑیاں چلانے والے گاڑیوں کا استعمال کم کرنے یا گاڑیاں فروخت کرنے پر غور کررہے ہیں۔ وہیں ایپ سے چلنے والی گاڑیوں کی کمپنی کرایہ میں اضافہ کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ: وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ٹرمپ کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج

دوسری جانب کالی پیلی ٹیکسی اور آٹو رکشا چلانے والے ڈرائیور و مالکان سی این جی گیس میںاضافہ کے سبب انتہائی پریشان ہیں ۔اس سلسلے میں ٹیکسی اور رکشا ڈرائیور و مالکان کی یونینس نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی محکمہ ٹرانسپور ٹ سے ٹیکسی اور رکشا کے کرائے میں بھی اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

آٹورکشا یونین کے صدر تھمپی کورین کے مطابق ایندھن سےچلنے والی گاڑیوں میں مسلسل ہونے والے اضافہ سے نہ صرف غریب ڈرائیور اور مالکان پر ۲۵؍ فیصد مالی بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ ڈرائیور اور مالکان پیدا ہونے والے مالی بحران سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ہر چند کہ حال ہی میں رکشا اور ٹیکسی کرایہ میں اضافہ کیا گیاہےلیکن ایک سے زائد مرتبہ سی این جی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاچکا ہے جس سے ڈرائیور یا مالکان مزید مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ان ہی وجوہات کی بناء پر محکمۂ ٹرانسپور ٹ سے ایک بار پھرکرایہ میں اضافے کا مطالبہ کیا جائےگا۔

مہا نگرگیس لمیٹڈ کا کیا کہنا ہے؟
  مہانگر گیس لمیٹڈ نے قیمتوں میں تازہ اضافے کی وجہ گیس کی خریداری کی لاگت میں اضافے کو قرار دیا ہے۔ اس میں درآمد شدہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) بھی شامل ہے جس کی قیمت بین الاقوامی گیس انڈیکس سے منسلک ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق بین الاقوامی بازار میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گیس کی خریداری پر اس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK