دوردرشن کے مقبول اور یادگار ٹیلی ویژن سیریل’’گل گلشن گلفام‘‘کے ہدایت کار، معروف مصنف اور فلم ساز وید راہی ۹۳؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے ادبی، فلمی اور ٹیلی ویژن حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 6:01 PM IST | Mumbai
دوردرشن کے مقبول اور یادگار ٹیلی ویژن سیریل’’گل گلشن گلفام‘‘کے ہدایت کار، معروف مصنف اور فلم ساز وید راہی ۹۳؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے ادبی، فلمی اور ٹیلی ویژن حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوردرشن کے مقبول اور یادگار ٹیلی ویژن سیریل’’گل گلشن گلفام‘‘کے ہدایت کار، معروف مصنف اور فلم ساز وید راہی ۹۳؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے ادبی، فلمی اور ٹیلی ویژن حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اتوار کی صبح مہاراشٹر کے ضلع تھانے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ ان کی آخری رسومات تھانے کے کوپری شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔ وید راہی اپنے پیچھے دو بیٹیاں، گیتانجلی اور پونم، اور ان کے اہل خانہ کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
وید راہی کے انتقال پر ملک کے ممتاز ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اکادمی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری تعزیتی پیغام میں انہیں جدید ڈوگری ادب کی ایک ممتاز شخصیت، صاحبِ فکر مصنف اور فلم ساز قرار دیا۔ ادارے نے کہا کہ ہندوستانی ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ وید راہی کو ۱۹۸۳ء میں ان کے ڈوگری افسانوں کے مجموعے ’آلے‘ (Aale) پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ۲۰۲۴ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی کی باوقار فیلوشپ بھی عطا کی گئی، جسے ادارے کے اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے۶۱؍ویں سالگرہ پر منّت کی بالکونی سے مداحوں کو دیدار نہیں کرایا
وید راہی مئی ۱۹۳۳ء میں جموں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ملک راج صراف خطے کے معروف اور ابتدائی صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ صحافتی اور ادبی ماحول میں پرورش پانے والے وید راہی نے اپنے ادبی سفر کا آغاز جموں سے کیا اور بہت جلد ڈوگری زبان کے اہم ادیبوں میں اپنی شناخت قائم کرلی۔ انہوں نے ڈوگری زبان میں افسانے، ناول اور شاعری کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی زندگی، انسانی جذبات اور علاقائی تہذیب و ثقافت کی عکاسی نمایاں تھی۔ ڈوگری زبان و ادب کو قومی سطح پر شناخت دلانے میں بھی ان کی خدمات اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ادب کے ساتھ ساتھ وید راہی نے ہندی فلمی صنعت میں بھی نمایاں کام کیا۔ انہوں نے ۲۵؍ سے زائد فلموں کے لیے کہانیاں، مکالمے اور اسکرین پلے تحریر کیے۔ ان کی تحریری خدمات سے جن معروف فلموں کو فائدہ پہنچا، ان میں ’’یہ رات پھر نہ آئے گی‘‘، ’’آپ آئے بہار آئی‘‘،’ ’بے ایمان‘‘،’ ’موم کی گڑیا‘‘، ’’سنیاسی‘‘،’ ’چرس‘‘ اور’ ’بے زبان‘‘ شامل ہیں۔ بعد میں انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ ان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلموں میں ’’پریم پربت‘‘، ’’کالی گھٹا‘‘ اور’ ’ویر ساورکر‘‘ (۲۰۰۱ء) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ فلم ’’پریم پربت‘‘ کا گیت ’یہ دل اور ان کی نگاہوں کے سائے‘ بھی اپنی موسیقی اور شاعرانہ انداز کے باعث یاد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آرسنل نے لیورپول کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی
اگرچہ وید راہی نے فلموں اور ادب میں بھی اہم خدمات انجام دیں، لیکن ٹیلی ویژن کے ناظرین انہیں خاص طور پر دوردرشن کے مقبول سیریل ’’گل گلشن گلفام‘‘ کے لیے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۱۹۸۰ء اور۱۹۹۰ء کی دہائی میں نشر ہونے والے اس سیریل نے انہیں ملک بھر میں شہرت دلائی۔ اس پروگرام کی کہانی اور کرداروں نے اس دور کے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’میرا‘‘،’’کتھا ساگر‘‘، ’’زندگی‘‘،’ ’احساس‘‘ اور’ ’رشتے‘‘ جیسے ٹیلی ویژن پروگراموں سے بھی وابستگی رکھی۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں نے ادب، فلم اور ٹیلی ویژن کے مختلف شعبوں میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ وید راہی کا انتقال ہندوستانی ادب، ہندی سنیما اور ٹیلی ویژن کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی تحریریں، فلمیں اور یادگار ٹیلی ویژن سیریل آنے والی نسلوں کو ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی خدمات کی یاد دلاتے رہیں گے۔ ساہتیہ اکادمی سمیت ادبی اور ثقافتی حلقوں نے ان کے انتقال کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔