• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۴؍ ریاستوں میں قبل از وقت مردم شماری کااعلان

Updated: September 07, 2026, 10:45 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا میں مردم شماری کا عمل یکم دسمبر سے شروع ہوگا،۵؍سے ۹؍ جنوری ۲۰۲۷ء تک درج شدہ معلومات کی دوبارہ جانچ کا عمل ہو گا،کانگریس نےذات پر مبنی مردم شماری کو زیادہ شفاف، سائنسی اور حقیقت پسندانہ طریقے سے کرانے کا مطالبہ کیا۔

A team of female officials deployed for the census in Delhi can be seen in an area. Picture: INN
دہلی میں مردم شماری کے لئے تعینات کی گئی خواتین اہلکاروں کی ٹیم ایک علاقے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

آئندہ سال کے اوائل میں ممکنہ اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا کے بیشتر علاقوں میں مردم شماری ۲۰۲۷ء کا عمل ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں پہلے شروع کیا جائے گا۔ ملک کے رجسٹرار جنرل کی جانب سے جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان ریاستوں میں یکم دسمبر ۲۰۲۶ء سے ۴؍ جنوری  ۲۰۲۷ء تک آبادی کی گنتی کی جائے گی، جس کے بعد  ۵؍ سے ۹؍ جنوری  ۲۰۲۷ء تک درج شدہ معلومات کی دوبارہ جانچ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: گجرات کی ۶ سیاسی پارٹیوں کو بیشتر قومی پارٹیوں سے زیادہ عطیات ملے: بی بی سی رپورٹ

نوٹیفکیشن کے مطابق باشندوں کو ۱۶؍ نومبر سے ۳۰؍ نومبر۲۰۲۶ء تک اپنی معلومات خود درج کرنے یعنی ’سیلف اِنومریشن‘ کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ تاہم اتراکھنڈ کے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں مردم شماری کا شیڈول مختلف رہے گا۔حکومت کے مطابق اترپردیش، پنجاب، گوا اور اتراکھنڈ کے برفباری والے علاقوں کے علاوہ دیگر تمام علاقوں کے لئےمردم شماری ۲۰۲۷ء کی تاریخ ۵؍ جنوری  ۲۰۲۷ءکی نصف شب  ۱۲؍ بجے مقرر کی گئی ہے۔ تازہ نوٹیفکیشن کے بعد ریاست میں انتظامی سرگرمیاںبڑھ گئی ہیں اور اس سلسلے میں ریاست کے ۳۱؍ اضلاع کے نامزد ماسٹر ٹرینرز چار روزہ تربیت حاصل کریں گے۔ یہ ٹریننگ  ۱۶؍سے  ۱۹؍ ستمبر تک دین دیال اپادھیائے اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ لکھنؤ میں ہوگی۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ ماسٹر ٹرینرز اپنے متعلقہ اضلاع میں مردم شماری کے کام کیلئےمقرر کئے گئے فیلڈ ٹرینرز کو ضلعی ہیڈ کوارٹر میں تین روزہ تربیت فراہم کریں گے۔ وہیںاوریا ضلع میں مردم شماری ۲۰۲۷ء کے دوسرے مرحلے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے اتوار کو کلکٹریٹ میں ضلع سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ ضلع مجسٹریٹ نے افسران اور اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ مردم شماری سے متعلق تمام رہنما ہدایات اور سوالات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ شمار کنندگان ہر گھر اور خاندان تک پہنچ کر مقررہ سوالات کی بنیاد پر ہی معلومات درج کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی خاندان مردم شماری سے محروم نہ رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں کثیرمنزلہ عمارت منہدم، طلبہ مقیم تھے، ۵؍ ہلاک

مردم شماری کے تعلق سے کانگریس نےکیا کہا؟

کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کو زیادہ شفاف، سائنسی اور حقیقت پسندانہ طریقے سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ملک گیر مہم کے تحت منعقد ایک پروگرام میں سابق ریاستی وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن کملیشور پٹیل نے کہا کہ موجودہ طریقۂ کار سے ملک کی سماجی اور معاشی صورتحال سے متعلق درست اعداد و شمار سامنے آنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ ماڈل کی طرز پر ذات پر مبنی مردم شماری کو سائنسی اور شفاف انداز میں کرایا جائے۔کانگریس نے خبردار کیا کہ اگر مردم شماری کے نوٹیفکیشن اور اسکے طریقۂ کار میں ضروری ترمیم نہیں کی گئی تو سڑک سے پارلیمنٹ تک احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK