مشہور فینٹسی سیریز Game of Thrones میں ڈینیریز ٹارگرین کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ Emilia Clarke نے برسوں سے گردش کرنے والی ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ سیریز کے ہر ایپی سوڈ کے لیے ۳؍ لاکھ ڈالر وصول کرتی تھیں۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 7:03 PM IST | London
مشہور فینٹسی سیریز Game of Thrones میں ڈینیریز ٹارگرین کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ Emilia Clarke نے برسوں سے گردش کرنے والی ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ سیریز کے ہر ایپی سوڈ کے لیے ۳؍ لاکھ ڈالر وصول کرتی تھیں۔
ہالی ووڈ اداکارہ Emilia Clarke نے بالآخر ان افواہوں پر خاموشی توڑ دی ہے جو برسوں سے ان کی مقبول ترین سیریز Game of Thrones سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں گردش کرتی رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور تفریحی ویب سائٹس پر طویل عرصے سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ’’گیم آف تھرونز‘‘ کے مرکزی اداکاروں کو سیریز کے آخری سیزنز میں فی قسط لاکھوں ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ انہی رپورٹس میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ایمیلیا کلارک، جنہوں نے ڈینیریز ٹارگرین کا یادگار کردار نبھایا، ہر ایپی سوڈ کے لیے تقریباً ۳؍ لاکھ ڈالر وصول کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کے ۹۰؍ فیصد یادگار فوٹو شوٹس ’منت‘ میں ہوئے ہیں: ڈبو رتنانی کا انکشاف
تاہم حال ہی میں امریکی جریدے ورائٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اداکارہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس سے مختلف تھی۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’ہم نے اتنی کمائی نہیں کی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو میں آج دو پورشے گاڑیاں چلا رہی ہوتی۔‘‘ اگرچہ کلارک نے اپنی اصل تنخواہ یا مجموعی معاوضے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن ان کے تبصرے سے یہ واضح ہو گیا کہ آن لائن گردش کرنے والے اعداد و شمار درست نہیں تھے اور حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: کاسٹنگ ڈائریکٹر کے تبصرے کے بعد۱۰؍ سال تک مسکرانا چھوڑ بیٹھی تھیں: نیہا دھوپیا
گفتگو کے دوران اداکارہ نے اپنے مشہور کردار ڈینیریز ٹارگرین کے بارے میں بھی بات کی، جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ انہوں نے کہا کہ سیریز کے دوران ان کی کوشش یہی رہی کہ وہ اپنے کردار کے ہر فیصلے اور ہر جذباتی موڑ کو پوری طرح سمجھ سکیں۔ کلارک کے مطابق، ’’مجھے ہر سیزن کی کہانی دی جاتی تھی اور میں پوری ہمدردی کے ساتھ اس کردار کے ہر فیصلے کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرتی تھی تاکہ سب کچھ میرے لیے حقیقی محسوس ہو۔ مجھے لگتا تھا کہ بطور اداکار یہی میرا کام ہے۔‘‘ اداکارہ نے ماضی میں بھی سیریز میں کام کے دوران پیش آنے والے تجربات پر بات کی ہے۔ ۲۰۱۸ء میں کانز فلم فیسٹیول کے دوران انہوں نے تنخواہوں میں صنفی مساوات کے سوال پر کہا تھا کہ ’’گیم آف تھرونز‘‘ ان کی پہلی بڑی پیشہ ورانہ ملازمت تھی اور انہیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ مالی سطح پر امتیازی سلوک کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ٹام ہالینڈ نے ’’اسپائیڈر مین‘‘ سے ممکنہ رخصتی کا اشارہ دیا
یاد رہے کہ ’’گیم آف تھرونز‘‘ ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۹ء تک نشر ہونے والی ایچ بی او کی ایک تاریخی فینٹسی سیریز تھی، جسے جارج آر آر مارٹن کے ناولوں پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سیریز نہ صرف ناظرین کے درمیان بے حد مقبول ہوئی بلکہ ٹیلی ویژن کی تاریخ کی کامیاب ترین پروڈکشنز میں بھی شمار کی جاتی ہے۔ سیریز میں ایمیلیا کلارک کے علاوہ کٹ ہیرنگٹن، لینا ہیڈی، صوفی ٹرنر اور نکولاج کوسٹر جیسے اداکاروں نے بھی مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ ان کرداروں نے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی اور سیریز کو ایک ثقافتی مظہر بنا دیا۔ ’’گیم آف تھرونز‘‘ کے اختتام کے بعد ایمیلیا کلارک نے متعدد اہم فلموں اور سیریز میں کام کیا۔ان کے حالیہ منصوبوں میں Ponies بھی شامل ہے، جس میں وہ سرد جنگ کے دور کے پس منظر میں ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں جو اپنے شوہر کی پراسرار موت کی تحقیقات کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اداکارہ جلد ہی ہارر فلم When Darkness Loves Us میں بھی نظر آئیں گی۔