Updated: May 31, 2026, 4:03 PM IST
| Los Angeles
ہالی ووڈ اداکار ٹام ہالینڈ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اسپائیڈر مین کا کردار کسی نئی نسل کے سپر ہیرو کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اپنی آنے والی فلم ’’اسپائیڈرمین: برانڈ نیو ڈے‘‘ سے قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ رابرٹ ڈاؤنی جونیئر کی طرح فرنچائز سے باوقار انداز میں رخصت ہونا چاہتے ہیں۔ ہالینڈ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نئی فلم کیلئے ’’اسپائیڈر پیوبرٹی‘‘ کے نام سے ایک منفرد آئیڈیا پیش کیا تھا، جس کے بعض عناصر بعد میں فلم کی کہانی کا حصہ بن گئے۔ فلم ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگی۔
ٹام ہالینڈ۔ تصویر: آئی این این
مارول سنیماٹک یونیورس (MCU) میں اسپائیڈر مین کا چہرہ بن چکے ٹام ہالینڈ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں مشہور سپر ہیرو کے کردار سے الگ ہونے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بعد آنے والی نسل کے کرداروں کیلئے راستہ ہموار ہو۔ ہالینڈ اس وقت اپنی ساتویں مارول سنیماٹک یونیورس فلم ’’اسپائیڈرمین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جو ان کی اسپائیڈر مین کے طور پر واپسی کا نیا باب ثابت ہوگی۔ اس سے قبل وہ فلم ’’کیپٹن امریکہ: سول وار‘‘، ’’اسپائیڈرمین: ہوم کمنگ‘‘، ’’اوینجرس: انفنٹی وار‘‘، ’’اوینجرس: اینڈگیم‘‘، ’’اسپائیڈرمین: فار فروم ہوم‘‘ اور ’’اسپائیڈرمین: نو وے ہوم‘‘ میں یہ کردار ادا کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: واشو بھگنانی کا ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ پر ۴۰۰؍ کروڑ کا مقدمہ
فلم میگزین ’’ایمپائر‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہالینڈ نے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کسی موقع پر نئی نسل کے کردار، جیسے مائلس موریلس، اسپائیڈر گوین یا اسپائیڈر وومن کو مرکزی مقام ملے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو بھی اگلا باب ہوگا، چاہے وہ مائلس موریلس ہو، اسپائیڈر گوین ہو یا اسپائیڈر وومن، میں اس سفر کا حصہ بننا چاہوں گا اور اگلی نسل کیلئے بنیاد رکھنے میں کردار ادا کرنا پسند کروں گا۔‘‘ ہالینڈ نے مزید کہا کہ وہ اسی انداز میں فرنچائز کو الوداع کہنا چاہتے ہیں جس طرح رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے آئرن مین کے کردار کو خیرباد کہا تھا۔
ان کے مطابق ’’اگر میں وہی کر سکوں جو ڈاؤنی نے میرے لئے کیا، یعنی نئی نسل کیلئے راستہ بناؤں، تو میں خوشی سے غروبِ آفتاب کی طرف روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘ اداکار نے پہلی بار اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہیں نئی فلم کی کہانی تیار کرنے کے عمل میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تجویز کا نام ’’اسپائیڈر پیوبرٹی‘‘ تھا۔ ہالینڈ کے مطابق، ان کا خیال تھا کہ اگر پیٹر پارکر کی طاقتیں ایک نئی اور بے قابو شکل اختیار کر لیں اور وہ اپنی زندگی پر کنٹرول کھونے لگے تو ایک دلچسپ کہانی سامنے آسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شویتا ترپاٹھی نے کہا: علی فضل اور نمرت کور کی ترقی دیکھ کر فخر ہوتاہے
انہوں نے کہا کہ ’’میرے کانسیپٹ کا عنوان ’’اسپائیڈر پیوبرٹی‘‘ تھا۔ اگر پیٹر پارکر اچانک ایسی تبدیلیوں سے گزرنے لگے جن پر اس کا کنٹرول نہ ہو تو کیا ہوگا؟ اسٹوڈیو نے فوراً یہ عنوان مسترد کر دیا، لیکن انہیں اس خیال کا بنیادی تصور پسند آیا اور بعد میں یہی تصور فلم کی کہانی میں شامل ہو گیا۔‘‘ فلم کی ہدایتکاری ڈیسٹن ڈینئیل کریٹن کر رہے ہیں، جو اس سے قبل فلم ’’شانگ چی اینڈ دی لیجینڈ آف دی رنگز‘‘ کی کامیاب ہدایتکاری کر چکے ہیں۔
فلم کے آفیشیل خلاصے کے مطابق کہانی وہاں سے شروع ہوگی جہاں فلم ’’اسپائیڈرمین: نو وے ہوم‘‘ ختم ہوئی تھی۔ دنیا پیٹر پارکر کی اصل شناخت بھول چکی ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر نیویارک کی حفاظت کرتے ہوئے ایک نئے اور پراسرار خطرے کا سامنا کرے گا۔ اسی دوران اس کی سپر پاورز میں غیر متوقع اور ممکنہ طور پر خطرناک تبدیلیاں بھی رونما ہوں گی ۔ فلم کی کاسٹ میں زینڈایا، سیڈی سنک، جیکب بیٹالون، جان برنتھل،مائیکل مینڈو اور مارک روفالو بھی شامل ہیں۔ مارول کے شائقین کیلئے یہ فلم نہ صرف اسپائیڈر مین کی نئی مہم جوئی لے کر آ رہی ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہی فلم ٹام ہالینڈ کے مستقبل کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کرے کہ وہ کب اور کس انداز میں اس کردار کو نئی نسل کے حوالے کریں گے۔