اردوشاعری کو ایک نئی جہت دینے والے ہندستان کے مشہور نغمہ نگار اور ہدایتکار گلزار پاکستان کےضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے قصبے دینہ میں کالرا ارورہ سکھ خاندان میں ۱۸؍ اگست ۱۹۳۶ءکوپیدا ہوئے۔
EPAPER
Updated: August 18, 2023, 11:52 AM IST | Agency | Mumbai
اردوشاعری کو ایک نئی جہت دینے والے ہندستان کے مشہور نغمہ نگار اور ہدایتکار گلزار پاکستان کےضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے قصبے دینہ میں کالرا ارورہ سکھ خاندان میں ۱۸؍ اگست ۱۹۳۶ءکوپیدا ہوئے۔
اردوشاعری کو ایک نئی جہت دینے والے ہندستان کے مشہور نغمہ نگار اور ہدایتکار گلزار پاکستان کےضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے قصبے دینہ میں کالرا ارورہ سکھ خاندان میں ۱۸؍ اگست ۱۹۳۶ءکوپیدا ہوئے۔ سمپورن سنگھ کالرا (گلزار) کو اسکول کے دنوں سے ہی شعر و شاعری اورساز موسیقی کابے حد شوق تھا۔کالج کے دنوں میں ان کا یہ شوق روز و افزوں بڑھنے لگا اور وہ اکثر مشہور ستار نوازروی شنکر اور سرود نواز علی اکبر خان کے پروگراموں میں جایا کرتے تھے۔
ہندستان کی تقسیم کےبعد گلزار کا خاندان امرتسرمیں بس گیا لیکن گلزار نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے ممبئی کا رخ کیا اور ورلي میں ایک گیراج میں کار مكینك کے طور پر کام کرنے لگے۔ فرصت کے لمحات میں وہ نظمیں لکھا کرتے تھے۔ اسی دوران وہ ڈائرکٹر بمل رائے کے رابطے میں آئے اور ان کے اسسٹنٹ بن گئے۔ بعد میں انہوں نےڈائریکٹر رشی کیش مکھرجی اور ہیمنت کمار کے اسسٹنٹ طور پر بھی کام کیا۔
اس کے بعد شاعر کے طور پر گلزار پروگریسو رائٹرس ایسوسی ایشن (پی ڈبلیو اے ) سے منسلک ہوگئے۔انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۶۱ء میں ومل رائے کے اسسٹنٹ کے طور پر کیا۔ نغمہ نگارکے طور پر گلزار نے اپنا پہلا نغمہ ’میرا گورا انگ لئی لے‘ ۱۹۶۳ءمیں ریلیز ومل رائے کی فلم بندنی کیلئے لکھا۔گلزارنےبطور شاعر بے شمار فلموں میں نغمے لکھے، ان کی فلمی شاعری میں ایک اچھوتا پن پایاجاتا ہے۔ شاعری میں تشبیہات کا استعمال ان کے نغموں کو منفرد بناتا ہے۔
انہوں نے۱۹۷۱ءمیں فلم ’میرے اپنے‘ کے ذریعے ہدایتکاری کے میدان میں بھی قدم رکھا۔اس فلم کی کامیابی کے بعد کوشش، پریچے، اچانک، خوشبو، آندھی، موسم، کنارا، کتاب، نمکین، انگور، اجازت، لباس ، لیکن، ماچس اور ہو تو تو جیسی کئی فلموں کی ہدایتکاری کی۔
گلزار ادبی کہانیوں اور خیالات کو فلموں میں بخوبی پیش کرتےہیں ۔ان کی فلم انگور شیکسپیئر کی کہانی ’كامیڈي آف ایررس‘فلم موسم اے جے كروننس کے’ جوڈاس ٹری‘ اور فلم پریچے ’ہالی وڈ کی کلاسک فلم ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘پر مبنی تھی۔ راہل دیو برمن کی موسیقی میں بطور نغمہ نگار گلزار کی صلاحیت نكھر کر سامنے آئی اور انہوں نے ناظرین اور سامعین کو مسافر ہوں یارو (پریچے)، تیرے بغیر زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں (آندھی)، گھر جائے گی(خوشبو)، میرا کچھ سامان (اجازت)، تجھ سے ناراض نہیں زندگی(معصوم) جیسے ادبی طرز کے نغمات دیئے۔ سنجیو کمار، جتیندر اور جیا بہادری کی اداکاری کو نکھارنے میں گلزار نے اہم کردار نبھایا تھا۔ہدایت کے علاوہ گلزار نے کئی فلموں کی اسکرپٹ اور ڈائیلاگ بھی لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے۱۹۷۷ءمیں کتاب اور کنارا جیسی فلموں کی تخلیق بھی كي۔ اپنے نغموں کیلئےوہ اب تک۱۱؍مرتبہ فلم فیئرایوارڈ اور۳؍مرتبہ قومی ایوارڈسے نوازے جا چکے ہیں ۔
۲۰۰۹ءمیں فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘میں ان کا نغمہ ’جے ہو‘کو اسكر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندوستانی سنیمامیں ان کی شراکت کو دیکھتےہوئے۲۰۰۴ء میں انہیں ملک کے تیسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے سرفراز کیا گیا۔
اردو زبان میں گلزار کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ دھواں ‘کو۲۰۰۲ءمیں ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ بھی مل چکاہے۔گلزار نے اپنی شاعری کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جسے’تروینی‘کہا جاتا ہے۔ہندوستانی سنیماکی دنیا میں قابل ذکر شراکت کو دیکھتے ہوئے گلزار فلم انڈسٹری کے اعلی ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازے جا چکے ہیں ۔