Updated: May 02, 2026, 9:06 PM IST
| Los Angeles
ہالی ووڈ اسٹوڈیو ڈزنی بڑے پیمانے پر چھٹنی کے بعد تنقید کی زد میں ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار ملازمتیں ختم کی گئیں۔ اداکارہ Evangeline Lilly نے کھل کر اس فیصلے کی مخالفت کی، خاص طور پر اینڈی پارک جیسے تخلیق کاروں کی برطرفی پر۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی انسانی فنکاروں کو ہٹا کر اے آئی کے استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے نہ صرف ملازمین بلکہ ان کے خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ایونجلین للی۔ تصویر: آئی این این
عالمی تفریحی کمپنی ڈزنی ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئی ہے، اس بار بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کٹوتی کے فیصلے کے بعد۔ رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے حالیہ دنوں میں تقریباً ایک ہزار ملازمتیں ختم کر دی ہیں، جس نے ہالی ووڈ اور تخلیقی صنعت میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ایونجلین للی نے اس فیصلے پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے نہ صرف ملازمین کی برطرفی پر سوال اٹھایا بلکہ اس کے پیچھے ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی نشانہ بنایا۔چھٹنی میں شامل افراد میں اینڈی پارک کا نام خاص طور پر نمایاں ہے، جو مارول سنیماٹک یونیورس کے لیے اہم تصوراتی ڈیزائنز تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ پارک نے ۱۶؍ سال سے زائد عرصہ ڈزنی کے ساتھ کام کیا اور متعدد مشہور کرداروں کے بصری انداز کو تشکیل دینے میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے: آمدنی کے معاملے میں بالی ووڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم کون سی ہے؟
ایونجلین للی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس خبر کے بعد فوراً اینڈی پارک سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے دوست اینڈی پارک سے پوچھا، کیا یہ واقعی سچ ہے؟ اور اس نے جواب دیا، ہاں، مجھے نکال دیا گیا ہے۔ میں اس بات پر یقین نہیں کر سکتی کہ ڈزنی نے ان فنکاروں کو چھوڑ دیا جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مارول کائنات کو زندہ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کمپنی اب انسانی تخلیق کاروں کی جگہ اے آئی کو ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے ان کرداروں کو تخلیق کیا، اب ان کی جگہ اے آئی لے رہا ہے، ایسا اے آئی جو انہی فنکاروں کے کام کو استعمال کر کے نئی چیزیں تخلیق کرے گا۔‘‘ اداکارہ نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور کمپنی کو براہ راست مخاطب کیا کہ ’’شرم آنی چاہئے، آپ ان لوگوں سے منہ موڑ رہے ہیں جنہوں نے آپ کو طاقت دی۔ کہاں ہیں وہ قوانین جو انسانی فن کو اے آئی کے غلط استعمال سے بچائیں؟ کیوں ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کر کے چند افراد کو امیر بنایا جا رہا ہے جبکہ فنکاروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرح خان، سونو سود سمیت دیگر فلمی شخصیات راہل رائے کی حمایت میں سامنے آئے
یہ معاملہ صرف ایک کمپنی کے اندرونی فیصلے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ٹیکنالوجی اور اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے نتیجے میں تخلیقی صنعت میں انسانی کردار کمزور ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی تخلیقی عمل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال فنکاروں کے حقوق، روزگار اور تخلیقی ملکیت کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔
ڈزنی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی ماضی میں بھی تنظیمی تبدیلیوں اور لاگت کم کرنے کے اقدامات کے تحت ملازمتوں میں کٹوتی کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے خلاف ردعمل بڑھتا جا رہا ہے، جہاں صارفین اور صنعت سے وابستہ افراد ایونجلین کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو تفریحی صنعت میں تیزی سے رونما ہو رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، معاشی دباؤ اور تخلیقی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔