اپنی ادبی شاعری میں انہوں نے جہاں عورت کی عزت وعصمت کی حمایت کی ہے، وہیں اپنے فلمی گیتوں میں بھی عورت پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف وہ کھل کر آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 11:42 AM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
اپنی ادبی شاعری میں انہوں نے جہاں عورت کی عزت وعصمت کی حمایت کی ہے، وہیں اپنے فلمی گیتوں میں بھی عورت پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف وہ کھل کر آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔
ساحر لدھیانوی کا شمار ایسےنغمہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فلموں میں بھی ادب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ہے۔ ان کے دادا فتح محمد لدھیانہ کے ایک بڑے رئیس اور زمیندار تھے۔ ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا۔ فضل محمد کی کئی بیویوں میں سے ایک سردار بیگم تھیں جوکشمیری نسل کی تھیں۔ ۸؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو سردار بیگم کے یہا ں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ چند ہی برسوں میں سردار بیگم کا اپنے شوہر فضل محمد سے جھگڑا ہو گیا جس کے بعد وہ عبدالحئی کو ساتھ لے کرمیکے چلی گئیں۔ اُس وقت عبدالحئی کی عمر صرف ۷؍ سال تھی۔ فضل محمد نے بچے کو اپنی سرپرستی میں لینے کیلئے عدالت میں اپیل کی۔ عدالت میں جب عبدالحئی سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تو اُس نے اپنی ماں کی طرف اشارہ کر دیا اور اس طرح عبدالحئی ہمیشہ کیلئے اپنے باپ سے دستبردار ہوکر اپنی ماں کے حصے میں آگیا۔ عبدالحئی نے جب لدھیانہ کے تہذیبی اور سماجی ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں تو وہاں ایک طرف زوال یافتہ جاگیرداریت کے ساتھ نیم سرمایہ دارانہ صنعتی نظام تشکیل پا رہا تھا وہیں دوسری طرف بے زمین کسان تھے جنہیں بھرپیٹ روٹی بھی مشکل سے میسّر آتی تھی۔ عبدالحئی کے ذہن پر اِن سب حالات کا تاثر بچپن سے ہی تھا۔
لدھیانہ کے خالصہ اسکول میں ۱۹۲۸ء میں عبدالحئی کا داخلہ ہوگیا اور جب۱۹۳۷ء میں وہ ہائی اسکول کرکے انٹر میں داخل ہوئے تو شعر و شاعری کی طرف راغب ہو گئے اور پہلا شعر کہہ کر عبدالحئی سے ساحرؔ لدھیانوی بن گئے۔ ۱۹۳۹ء میں لدھیانہ کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا انہوں نے سیاست اور معاشیات کے مضامین پڑھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملک میں تحریک آزادی اپنے شباب پر تھی اور انگریز بھی اپنے ظلم و جبر کا استعمال دل کھول کر کررہے تھے۔ اُدھر باپ کی ظالمانہ روش سے ساحرؔ کے دل میں جاگیردارانہ نظام کے تئیں نفرت کا بیج پہلے ہی سے موجود تھا، لہٰذا یہ سب چیزیں ساحرؔ کی شاعری میں اس طرح گھل مل گئیں کہ اس کا رومان بھی حالاتِ حاضرہ کی بھٹّی میں تپ کر اُس کے شعروں میں ڈھلنے لگا۔
ساحرؔ اپنی والدہ کی سرپرستی اور نگرانی میں تعلیم پاتے رہے۔ اسکول اور کالج میں اُن کا شمار اچھے اور محنتی طلبہ میں ہوتا تھا۔ ساحرؔ کا ابھی کالج میں بی اے کا پہلا ہی سال تھا کہ کالج کے پرنسپل کی لڑکی سے اُنہیں عشق ہو گیا جس کی پاداش میں انہیں کالج سے نکال دیا گیا۔ برسوں بعد جب ساحرؔ ہندوستان کے ایک بڑے شاعر اور فلمی دُنیا کے مقبول ترین نغمہ نگار بن گئے تو اُسی کالج میں اُن کے اعزاز میں ایک جلسہ ہوا، جہاں ساحرؔ نے اپنی مشہور زمانہ نظم ’نذرِ کالج‘ پڑھی، جس کے آخری مصرعے کچھ یوں ہیں ...
معصومیوں کے جرم میں بدنام ہی سہی
تیرے طفیل مورد الزام ہی سہی
اس سرزمیں پہ آج اک بار ہی سہی
دنیا ہمارے نام سے بیزار ہی سہی
لیکن ہم ان فضائوں کے پالے ہوئے تو ہیں
گر یاں نہیں تو یاں کے نکالے ہوئے تو ہیں
بی اے کے آخری سال میں وہ لدھیانہ سے لاہور منتقل ہو گئے اوردیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی چنے گئے۔ ساحرؔ کا اولین مجموعۂ کلام ’تلخیاں ‘ ۱۹۴۴ء میں زمانۂ طالب علمی ہی میں شائع ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ نوجوان شاعر کی حیثیت سے ادبی دُنیا میں اپنی شناخت قائم کر چکے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ’دیوانِ غالبؔ‘ کے بعد اردو شاعری میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ’تلخیاں ‘ ہی ہے۔ اس مجموعے کے اب تک ۵۰؍ سے زیادہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، جس کے پہلے ہی صفحے پر ساحرؔ کا یہ شعر درج ہے:
دُنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
لدھیانہ گورنمنٹ کالج سے نکالے جانے کے بعد جب ساحرؔ لاہور گئے تو مکتبہ اُردو والوں کے رسالے ’ادب لطیف‘ میں ۴۰؍ روپے ماہانہ تنخواہ پر ایڈیٹر بھی مقرر ہو گئے۔ لاہور ہی میں ساحرؔ کو ’سویرا‘ اور ’شاہکار‘ جیسے رسالوں کی ادارت کے مواقع بھی ملے۔ اُس وقت تک پنجابی زبان کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پریتم کی شادی ہو چکی تھی اور وہ آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں انائونسر تھیں۔ اس کے باوجود لاہور میں امرتا اور ساحرؔ کی دوستی ادبی حلقوں میں گفتگو کا موضوع بنی رہی۔ خود امرتا پریتم نے اپنی سوانح ’رسیدی ٹکٹ‘ میں ساحرؔ سے اپنی دوستی کے واقعات بڑی ایماندارانہ بے باکی کے ساتھ تحریر کئے ہیں۔
۱۹۸۲ء تا۱۹۸۸ء، مَیں جب ’اسٹار پبلی کیشنز‘ کے فلمی ماہنامہ ’مووی اسٹار‘ میں مدیر تھا تو بارہا امرتا پریتم کے یہاں میرا جانا ہوا۔ ایک بار میں نے امرتا سے یادگار کے طور پر آٹوگراف کی فرمائش کی تو انہوں نے پنجابی زبان میں لکھا: ’’پرچھائیوں کے پیچھے بھاگنے والو! سینے میں جو آگ سلگتی ہے، اس کی کوئی پرچھائی نہیں ہوتی۔ ‘‘یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے کہ بمبئی میں ساحرؔ کے مکان کا نام بھی ’پرچھائیاں ‘ تھا اور ان کی ایک مشہور نظم کا عنوان بھی۔
۱۹۴۸ء میں جب ساحرؔ نے دہلی سے ماہنامہ ’شاہراہ‘ کا اجرا کیا تو اس کے ساتھ ہی رسالہ’پریت کی لڑی‘ کی بھی ادارت کی۔ ان رسائل کے ذریعہ انہوں نے نئے لکھنے والوں کی ہمت افزائی اور رہنمائی کی۔ ۱۹۴۹ء میں ہندوستانی کلامندر کی فلم ’آزادی کی راہ پر‘کیلئے گانے لکھوانے کی غرض سے فلمساز کلونت رائے نے ساحرؔ کو بمبئی بلوایا۔ اس کے ۴؍ گانے ساحرؔ نے لکھے تھے۔ پہلے گانے کے بول تھے ’’بدل رہی ہے زندگی...‘‘ مگر ان گانوں کو زیادہ مقبولیت نہیں ملی۔ ۱۹۵۰ء میں ساحرؔ نے مستقل طور پر دہلی کو الوداع کہااور بمبئی میں سکونت اختیار کر لی۔ ۱۹۵۸ء میں ساحر نے فلمساز رمیش سہگل کی فلم ’پھر صبح ہوگی‘ کے نغمے لکھے۔ راج کپور کے پسندیدہ میوزک ڈائریکٹر شنکر جے کشن اس فلم کا میوزک تیار کرنے والے تھے مگر بعد میں موسیقار خیام کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے ساحرؔ کے نغمہ ’’وہ صبح کبھی تو آئے گی.....‘‘ کی دھن تیار کی جسے مکیش نے بہت خوبصورت انداز میں گایا ہے۔ اس کے بعد کئی فلموں میں ساحرؔ کے گیتوں کو خیام نے اپنی دھنوں سے سجایا جن میں ’کبھی کبھی‘ بہت مشہور ہے۔
ساحرؔ نے نہ صرف یہ کہ اپنی شاعری کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ فلمی شاعری کے معیار کو بھی بلند کیا اور اُس بدذوقی کی روک تھام کی جسے فلم بینوں پر مسلط کیا جا رہا تھا۔ فلمی دُنیا سے وابستہ ہونے کے بعد اگرچہ ان کی شعر گوئی کی رفتار نسبتاً کم ہو گئی لیکن شاعر کی حیثیت سے ان کی مقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ بہت کم ادیبوں اور شاعروں کو ان کی زندگی میں اتنی شہرت اور عزت حاصل ہوتی ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں ساحرؔ خوش قسمت رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے محبوب و مقبول شاعر تھے بلکہ عالمی سطح پر بھی انہوں نے اپنا مقام پیدا کر لیا تھا۔ دُنیا کی مختلف زبانوں جیسے انگریزی، فرانسیسی، چیک، روسی، فارسی اور عربی میں اُن کی شاعری کے ترجمے کئے جا چکے ہیں۔ وہ جتنے بڑے شاعر تھے، اُتنے ہی عظیم انسان بھی تھے۔ اپنی شاعری میں انہوں نے انسان اور انسانیت کا جو تصور پیش کیا ہے، وہ خود بھی اُس معیار پر بڑی حد تک پورا اُترتے تھے۔ انہوں نے اپنی ادبی شاعری میں جہاں عورت کی عزت وعصمت کی حمایت کی ہے، وہیں فلمی گیتوں میں بھی وہ عورت پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف کھل کر آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔ فلم ’پیاسا‘ کا نغمہ ’’یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے...‘‘ اور فلم’سادھنا‘ کا نغمہ ’’عورت نے جنم دیا مردوں کو....‘‘ اور فلم ’انصاف کا ترازو‘ میں ساحرؔ کا لکھا گیت ’’لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں ...‘‘ اس بات کے شاہد ہیں۔
ساحرؔ کی ایک مشہور نظم ’چکلے‘ سننے کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ حالانکہ یہ نظم ساحرؔ کے لاہور کے زمانے کی ہے مگر آزادی کے بعد یہ نظم فلم ’پیاسا‘ میں شامل ہوئی تو برصغیر ہندو پاک میں دھوم مچ گئی۔ اکثر مشاعروں میں لوگ ساحرؔ سے فرمائش کرکے یہ نظم سنا کرتے تھے۔ اس نظم سےمتعلق ساحرؔ کے قریبی دوست حمید اخترؔنے اظہر جاوید کی کتاب ’ناکام محبت: ساحرؔ لدھیانوی‘ کے پیش لفظ میں بعنوان ’خوش قسمت شاعر‘ اپنے مضمون میں لکھا ہے:
’’ساحرؔ لدھیانوی کی خوش بختی میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس نے اپنی ابتدائی زندگی میں اپنے لئے جو منزل متعین کی تھی اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ میں یہ بات پہلے بھی ایک سے زائد بار لکھ چکا ہوں کہ اُس نے کبھی بڑا شاعر بننے کی تمنا نہیں کی تھی۔ وہ اپنی شاعری کی ابتدائی منزلیں طے کر رہا تھا، اس وقت بار بار یہی کہتا تھا کہ وہ فلمی نغمہ نگاری میں نام پیدا کرے گا اور اس ذریعہ سے دولت، عزت اور شہرت حاصل کر کے رہے گا۔ اُس کا یہ سارا ابتدائی زمانہ میرے ساتھ ہی گزرا تھا۔ مجھے لاہور کے بازار حسن میں تقریباً ایک ہفتہ روزانہ اُس کے ساتھ دو تین چکر بھی لگانے پڑے۔ اس گلی میں جہاں جسم فروش عورتیں بیٹھتی تھیں، وہ روزانہ دو تین چکر لگاتا۔ اُس نے اس دَوران کبھی بھی کسی عورت سے بات نہیں کی، البتہ کچھ ہی دنوں میں اُس کی شاہکار نظم ’چکلے‘ وجود میں آگئی، جس کا ٹیپ کا مصرعہ ہے:
’’ثناخوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟‘‘
ساحرؔ شروع ہی سے انجمن ترقی پسند مصنّفین سے وابستہ ہو گئے تھے، مگر ان کی انقلابی اور سیاسی شاعری حد سے بڑھی ہوئی جذباتیت اور نعرہ بازی سے پاک ہے۔ انہوں نے بے خوفی کے ساتھ دو ٹوک انداز میں براہ راست اپنے خیالات اپنی شاعری کے ذریعہ پیش کر دئیے ہیں۔
ساحر لدھیانوی اپنی زندگی میں ایک چیلنج تھے ہمارے روایتی شاعروں اور شاعری کیلئے اور روایتی فرسودہ معاشرے کیلئے۔ اس نے اپنا قلم اُٹھایا تو ماضی کی عشقیہ شاعری کو پسینہ آگیا۔ ساحرؔ نے اردو شاعری میں ایک نئے دَور کا آغاز کیا۔ انہوں نے خواص کے بجائے عوام کیلئے انقلابی شاعری کے دروازے کھول دئیے اور اپنی شاعری کو عوامی رنگ میں پیش کیا۔ موجودہ زندگی کے مسائل اور استحصال کو جتنے خوبصورت اور سہل انداز میں ساحرؔ نے پیش کیا، کوئی اور پیش نہیں کر سکا۔ ساحرؔ کو فلمی قوالی لکھنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ انہوں نے اب تک کی بہترین قوالیاں فلموں کو پیش کی ہیں۔ یاد کیجئے فلم ’وقت‘ کی وہ قوالی، جب بلراج ساہنی اپنی بیگم کی تعریف یوں کرتے ہیں :
اے میری زہرا جبیں، تجھے معلوم نہیں
تو ابھی تک ہے حسیں اور میں جواں
فلمی قوالیوں کے سلسلے میں ساحرؔ کی ایک قوالی ابھی تک میل کا پتھر بنی ہوئی ہے۔ فلم’برسات کی رات‘ کی محمد رفیع کی آواز میں گائی ہوئی یہ قوالی:
نہ تو کارواں کی تلاش ہے، نہ تو ہمسفر کی تلاش ہے
میرے شوقِ خانہ خراب کو، تیری رہ گزر کی تلاش ہے
فلم ’سادھنا‘میں ساحر کی یہ قوالی آج بھی مقبول ہے:
آج کیوں ہم سے پردہ ہے...
اسی طرح راج کپور اور نوتن کی فلم ’دل ہی تو ہے‘ میں ساحرؔ کی ایک قوالی ’’نگاہیں ملانے کو جی چاہتا ہے‘‘ بے حد مقبول فلمی قوالی کہی جا سکتی ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر بی ایل رویل اور ہدایتکار پی ایل سنتوشی تھے۔ موسیقار روشن کی دُھنوں سے سجی یہ فلم۱۹۶۳ء میں نمائش کیلئے پیش ہوئی تھی۔ اس قوالی میں عید سے متعلق کہا گیا ہے کہ:
جس گھڑی میری نگاہوں کو تیری دید ہوئی
وہ گھڑی میرے لیے عیش کی تمہید ہوئی
جب کبھی میں نے ترا چاند سا چہرہ دیکھا
عید ہو یا کہ نہ ہو، میرے لیے عید ہوئی
اس قوالی میں ساحرؔ نے جس طرح اس بند میں ’تمہید‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، اسی طرح ایک اور بند میں ’اوجھل‘ اور ’تہمت‘ کے الفاظ اس طرح استعمال کئے ہیں :
وہ تہمت جسے عشق کہتی ہے دُنیا
وہ تہمت اُٹھانے کو جی چاہتا ہے
وہ جلوہ جو اوجھل بھی ہے سامنے بھی
وہ جلوہ چرانے کو جی چاہتا ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ ساحرؔ کے بے شمار فلمی نغموں میں اُردو کے ایسے مشکل الفاظ مل جاتے ہیں جو فلمی نغموں میں بہت کم مستعمل ہیں، مگر ساحرؔ نے انہیں بہت خوبصورتی سے اپنے فلمی نغموں میں استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر ’تیر و تفنگ، تہمت، اوجھل، تمہید، غرور، جرمِ اُلفت، قضا کے رستے، ترکِ وفا، جنگ وجدال، فتح و ظفر، ملکیت، کبر وغرور، زنگ، عرش، رنجور، ہدایت کی روشنی، میزان، ناگاہ، بشر، جینے کا شعور اورمرنے کا سلیقہ‘ وغیرہ۔ یہ بھی سچ ہے کہ فلمی نغموں کے سلسلے میں جتنی بہترین قوالیاں ساحرؔ لدھیانوی اور شکیل بدایونی نے لکھی ہیں، کسی دوسرے فلمی نغمہ نگار نے نہیں لکھیں۔
مشہور گلوکارہ سدھا ملہوترہ جب فلم انڈسٹری میں اپنی پہچان بنا نے کیلئے جد و جہد کر رہی تھیں، جسے’اسٹرگل‘ کا زمانہ کہا جاتا ہے تو ساحرؔ نے اُن کو کئی فلموں میں پروموٹ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے معاشقے کے قصے فلمی رسالوں کی زینت بننے لگے۔ ہمیشہ کی طرح ساحرؔ اس بار بھی خاموش رہے اور سُدھا بھی کچھ نہیں کہہ سکیں، اُسی دَوران سدھا کی منگنی ہو گئی۔ انہیں دنوں ساحرؔ کے دوستوں اور مداحوں نے ’ایک شام ساحرؔ کے نام‘ ایک محفل کا انعقاد کیا۔ اس واقعے کو ابراہیم جلیس نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے:
’’وہ شامِ کسی عالیشان بنگلے کے ٹیرس پر منائی گئی۔ چند دوستوں نے وہاں اظہار خیال کیا، موسیقاروں اور گلوکاروں نے ساحرؔ کے مشہور گیت گائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود سدھا ملہوترہ نے ساحر کے گیت گائے۔ پروگرام کے آخر میں، ساحرؔ نے اپنی نئی اور مشہور نظم سنائی۔
چلو، اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی اُمید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں میں
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اُسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
اُس شام کی روداد بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ساحرؔ کی اِس نظم نے وہاں پر موجود ہر شخص کی آنکھوں کو نم کر دیا تھا اور ماحول پر ایک سناٹا طاری ہو گیا تھا۔ ہر نفس جذباتی تھا اور خاموش بھی۔ سُدھا ملہوترہ اپنے آنسوئوں اور جذبات کو روکنے اور سنبھالنے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھیں اور کچھ کہے سنے بغیر، چپ چاپ فلیٹ کی سیڑھیوں سے اُترکر اپنی کار میں جا بیٹھیں۔ دُوسری طرف ساحرؔ بھی بے قراری اور بے بسی کی کیفیت میں اپنی جگہ سے اُٹھے اور پلٹ کر کسی کی طرف دیکھے بغیر ہی سیڑھیاں اُتر گئے۔ سڑک پر سُدھا اپنی کار میں اور ساحرؔ اپنی کار میں بیٹھ کر دو مختلف سمتوں کی جانب روانہ ہو گئے۔ سارے ماحول اور تمام محفل کو اجنبی بناکر دونوں اپنی اپنی منزلوں کی جانب چلے گئے اور پھر کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملے۔ بعد میں اِس نظم کو فلم ’گمراہ‘ میں فلمایا گیا۔ اس سے قبل یہ بھی سنا جا رہا تھا کہ سدھا سے پہلے ساحرؔ لتامنگیشکر سے شادی کرنا چاہتے تھے اور اس ناکامی کی وجہ ہی سے ساحرؔ اور لتا میں اختلافات ہوئے تھے۔
ساحرؔ کی خودداری بھی بہت مشہور ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک بار فلمساز و ہدایت کار یش چوپڑا کے کسی فلمی نغمے کی ریکارڈنگ تھی جس میں ساحرؔ بھی موجود تھے کیونکہ وہ نغمہ ساحرؔ ہی نے لکھا تھا۔ ساحرؔ سے یش چوپڑا کی بہت اچھی دوستی بھی تھی۔ ریکارڈنگ کے وقت جب لتاآئیں تو ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا گیااور گلدستے پیش کئے گئےجبکہ ساحرؔ کے ساتھ اسا کچھ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بات ساحرؔ کو بہت ناگوار گزری۔ انہوں نے شام ہی سے خوب شراب پی اور دیر رات ایک بجے کے قریب یش چوپڑا کو فون کیا۔ اتنی رات کو فون پر ساحرؔ کی آواز سن کر یش چوپڑا گھبرا گئے۔ ساحرؔ نے پنجابی لہجے میں کہا۔ ’’اوئے یش! لتا کی آواز بہت خوبصورت ہے نا.... تم ایسا کرو کہ اس کی آواز ریکارڈ کرا لو اور میرے لفظ مجھے واپس دے دو۔ ‘‘ یش چوپڑا نے فون پر ساحرؔ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ اپنا ہی جملہ دہراتے رہے۔ صبح کو یش چوپڑا نے پہلا کام یہ کیا کہ وہ ساحرؔ کے گھر پہنچے اور اس بات کیلئے ان سے معذرت کی۔ صبح تک ساحرؔ کا نشہ بھی اُتر چکا تھا، اسلئے بات آئی گئی ہو گئی اور دونوں کی دوستی برقرار رہی۔
فلم ’بازی‘ کے نغمے ساحرؔ نے لکھے تھے اور موسیقار ایس ڈی برمن نے دھنیں تیار کی تھیں۔ اس کے سارے گیت ہٹ ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک فلمی پارٹی میں برمن نے ساحرؔ کی موجودگی میں کہا کہ میری دھنوں کی وجہ سے یہ نغمے مقبول ہوئے ہیں، ساحرؔ کی شاعری کی وجہ سے نہیں۔ ساحرؔ نے اُسی وقت طے کر لیا کہ وہ اب کسی مشہور میوزک ڈائریکٹر کیلئے گیت نہیں لکھیں گے اور دنیا کو بتادیں گے کہ موسیقار سے کہیں زیادہ بڑا شاعر ہوتا ہے۔ فلم ’’بازی‘‘ کے بعد ساحرؔ نے کسی مخصوص یا سکہ بند میوزک ڈائریکٹر کیلئے گیت نہیں لکھے، بلکہ نئے نئے موسیقاروں کے لیے نغمے تحریر کیے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ساحرؔ کے گیت لگاتار مقبول ہوتے رہے۔
ساحرؔ کی مقبولیت اور ان کی عظمت کا عالم یہ تھا کہ ساحرؔ کے انتقال کے بعد موسیقار اعظم نوشاد علی نے اپنی آپ بیتی میں ان کا تذکرہ نہایت خلوص اور اچھے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’مجھے اس بات کا ملال ہے کہ میں اور ساحرؔ کسی فلم میں اکٹھے کام نہ کر سکے۔ ‘‘دراصل نوشاد علی صاحب عرصے سے شکیل بدایونی کے ساتھ اپنی ٹیم بنائے ہوئے تھے۔ کسی فلم ساز نے ساحرؔ اور نوشاد علی کو اکٹھا کرنا چاہا تو وہ پہلے نوشاد کے پاس گئے اور پھر ساحرؔ سے رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے ساحرؔ سے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے نوشاد جی کو سائن کرلیا ہے، اور وہ آپ کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہیں۔
ساحرؔ نے اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور پھر سارا دھواں ایک ساتھ باہر نکال دیا۔ فلم ساز سے پوچھا کہ اُن کا کتنا معاوضہ طے ہوا ہے؟ فلم ساز نے کہا کہ ایک لاکھ میں ہم نے اُن کو سائن کر لیا ہے۔ ساحرؔ نے اُسی لاپروائی سے کہا کہ شاید آپ کو علم نہیں ہے کہ میں ہمیشہ میوزک ڈائریکٹر سے زیادہ معاوضہ لیتا ہوں لہٰذا میں ایک لاکھ ایک روپیہ لوں گا اور دوسری بات یہ کہ میں موسیقار کے ساتھ یا اسٹوڈیو جاکر گیت نہیں لکھتا بلکہ اُن کو یہاں آنا پڑے گا۔ فلم ساز نے تمام شرطیں مان لیں، اس کے باوجود پتہ نہیں بعد میں کیا ہوا کہ یہ بیل منڈیر نہ چڑھ سکی۔
خواجہ احمد عباس، بہت تیکھے اور بے باک فلمی نقاد تھے۔ اُنہوں نے ’ٹریبیون‘ میں ساحرؔ کی زندگی میں ایک انگریزی مضمون لکھا کہ ساحرؔ ہند و پاک کے مقبول ترین شاعر ہیں۔ نرگس نے ساحرؔ پر فلم فیئر میں انگریزی میں ایک مضمون لکھا جس میں ساحرؔ کے ’پیاسا‘ کے گیتوں کی اتنی تعریف کی، اتنی تعریف کی کہ بے شمار لوگ حسرت سے جلنے لگے۔ نرگس نے اس فلم میں کام نہیں کیا تھا، مگر یہ اُن کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اُنہوں نے فلم کی بھی تعریف کی اور گیتوں کے بارے میں لکھا کہ میں اُنہیں اب تک سیکڑوں بار سن چکی ہوں اور سیکڑوں بار سنتی رہوں گی۔ اسی طرح گرودت بھی ساحرؔ کی شاعری سے بے حد متاثر تھے اور وہ اپنی فلموں کے نغمے ساحرؔ سے ہی لکھواتے تھے۔ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ فلم ’پیاسا‘ میں ساحرؔ کی زندگی کی جھلک بھی پیش کی۔ یش چوپڑا نے اپنی فلم ’کبھی کبھی‘ میں ساحرؔ کی زندگی کی عکاسی پیش کی تھی۔ اس فلم کے نغمے بھی ساحرؔ نے ہی تحریر کئے تھے۔