Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول اور ڈیزل نہیں، تیل کے ’کچرے‘ نے دنیا کی پریشانی میں اضافہ کیا

Updated: March 15, 2026, 10:26 PM IST | New Delhi

ایران جنگ کے درمیان دنیا پر ایک نیا اور بڑا بحران منڈلا رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل تو اپنی جگہ، لیکن اب جہازوں کو چلانے والا فیول آئل ملنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر سمندر میں مال بردار جہاز رک گئے تو آپ کی ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ تیل کے اس ’کچرے‘ نے پوری دنیا کی نیند کیوں اڑا دی ہے۔

Oil Waste.Photo:INN
تیل کا کچرا۔ تصویر:آئی این این

جب بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام انسان کے طور پر ہماری فکر عموماً پیٹرول اور ڈیزل کے مہنگے ہونے تک محدود رہتی ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل تقریباً ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے آس پاس تجارت کر رہا ہے۔ ایران جنگ کے اثرات کے باوجود اوپر سے دیکھنے پر صورتحال اتنی خوفناک نہیں لگتی۔ لیکن اصل بحران ریفائنری کے سب سے نچلے حصے میں پیدا ہو رہا ہے جسےفیول آئل کہا جاتا ہے۔
یہ سب سے سستا اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا تیل ہوتا ہے جو خام تیل کو گرم کرنے والے پیٹرولیم ڈسٹلیشن ٹاور کے نچلے حصے سے نکلتا ہے۔ ایران جنگ نے اس صنعت کی پوری تصویر بدل کر رکھ دی ہے۔ آج یہ سستا ایندھن اتنا مہنگا اور نایاب ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کے رک جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت پر اس کے انتہائی سنگین اثرات پڑیں گے۔
 خام تیل کا’کچرا‘ اتنا اہم کیوں ہے؟
خام تیل سے پیٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن فیول جیسی مہنگی چیزیں نکال لینے کے بعد جو باقی بچتا ہے وہی فیول آئل ہے۔ اگرچہ اسے’’بیرل کا سب سے نچلا حصہ ‘‘کہا جاتا ہے، لیکن جدید دنیا کی پوری تجارت اسی کے سہارے چلتی ہے۔ عالمی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بڑے کنٹینر جہاز اسی ایندھن پر چلتے ہیں۔
دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی اے پی مولرمارسک کے سی ای اووِنسنٹ کلرک نے فرانسیسی اخبار لے موند کو بتایا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایشیا کی بڑی بندرگاہوں پر ایندھن کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے تین بڑے بنکرنگ (جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے والے) مقامات میں سے سنگاپور اور متحدہ عرب امارات کے فجیرہ میں فیول آئل کی شدید کمی ہو چکی ہے۔ یورپ اور امریکہ کی بندرگاہوں پر فی الحال سپلائی ٹھیک ہے، لیکن ٹاپ ۱۰؍میں شامل کئی دیگر مقامات پر بحران گہرا ہونے لگا ہے۔
 خام تیل کا پرانا حساب ٹوٹ گیا
مالیاتی منڈیاں عموماً برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ جیسے خام تیل کے معیار پر نظر رکھتی ہیں۔ پالیسی سازوں سے لے کر سرمایہ کاروں تک سب کی نظر خام تیل پر ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریفائنریوں کے علاوہ کوئی بھی براہ راست خام تیل نہیں خریدتا۔ اصل دنیا ریفائن شدہ مصنوعات خریدتی ہے، اس لیے ہمارے لیے ریفائنری کے بعد کی قیمتیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
عام طور پر خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی قیمتیں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ مگر اب یہ روایتی حساب ٹوٹ چکا ہے۔ برینٹ خام تیل ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل ہے، جس کا مطلب ہے کہ ریفائننگ لاگت شامل کرنے کے بعد بھی فیول آئل کی قیمت اس کے آس پاس ہونی چاہیے۔ لیکن حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔
سنگاپور میں فیول آئل کی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ فجیرہ جیسے اہم بندرگاہ پر اس کی قیمت۱۶۰؍ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ ماحول دوست معیار پر پورا اترنے والی اس کی کچھ اقسام تو۱۷۵؍ ڈالر فی بیرل کی حیران کن قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ ۲۰۰۸ء اور ۲۰۲۲ء کے تاریخی ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ تاجر فون پر صرف چند منٹ کے لیے ہی یہ قیمت دیتے  ہیں یا تو فوراً سودا طے کریں، ورنہ موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سرفراز احمد کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

آبنائے ہرمز کی بندش اصل وجہ
اس شدید بحران کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہے۔ یہ سمندری راستہ صرف خام تیل کے لیے ہی نہیں بلکہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات کی ریفائنریوں سے نکلنے والے فیول آئل کے لیے بھی اہم راستہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں تجارت ہونے والے فیول آئل کا تقریباً ۲۰؍فیصد انہی خلیجی ممالک کی ریفائنریوں سے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی سمیٹ لی

تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو خلیجی ممالک کا خام تیل دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ فیول آئل پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب سعودی عرب کے مشہور ’’عرب لائٹ‘‘ خام تیل کو ریفائن کیا جاتا ہے تو اس میں سے تقریباً ۵۰؍ فیصد حصہ باقیات یا فیول آئل کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ امریکہ کے ڈبلیو ٹی آئی  خام تیل سے ریفائننگ کے بعد صرف  ۳۳؍ فیصد باقیات نکلتی ہیں۔ اب چونکہ ایشیائی ریفائنریوں کو امریکی یا روسی تیل جیسے متبادل تلاش کرنے پڑ رہے ہیں، اس لیے قدرتی طور پر فیول آئل کی پیداوار کافی کم ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK