Inquilab Logo Happiest Places to Work

میکرون کی اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان پیرس میں جنگ بندی مذاکرات کرانے کی پیشکش

Updated: March 15, 2026, 10:26 PM IST | Paris

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سنیچر کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کی میزبانی پیرس میں کرنے کی پیشکش کی ہے۔میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ لبنان کو انتشار کا شکار ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

French President Emmanuel Macron. Photo: INN
فرانس کے صدرایمانویل میکرون۔ تصویر: آئی این این

 فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سنیچر کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کی میزبانی پیرس میں کرنے کی پیشکش کی ہے۔میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ لبنان کو انتشار کا شکار ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ،’’حزب اللہ کو فوری طور پر اپنی کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں بند کرنی ہوں گی۔ اسرائیل کو اپنی بڑے پیمانے پر جارحیت اور فضائی حملے ترک کرنے ہوں گے۔‘‘فرانسیسی صدر نے تبصرہ کیا کہ’’ اسرائیلی حملوں کے باعث ہزاروں افراد پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف جنگ کی کوریج پر براڈکاسٹرز لائسنس کی ممکنہ منسوخی: ٹرمپ انتظامیہ

واضح رہے کہ میکرون کا یہ بیان اقوام متحدہ کی اس تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے کہ لبنان میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے، اور بتایا کہ دس لاکھ سے زیادہ حزب اللہ کے حامی لبنانی شہریوں نے نقل مکانی کی ہے۔تاہم میکرون نے مزید کہا کہ ’’لبنان کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ملک کے تمام طبقات کی نمائندگی ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل کو جنگ بندی کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیےاور ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو لبنانی حکومت کو لبنان کی خودمختاری سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم رہنے کے قابل بنائے۔ 
مزید برآں میکرون نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ،’’فرانس پیرس میں ان مذاکرات کی میزبانی کر کے سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘میکرون کا حزب اللہ کے حملوں اور اسرائیلی زمینی کارروائی کو غلطی قرار دینااس ماہ کے شروع میں جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کھلی جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو میکرون نے کہا تھا کہ ’’جنگ لبنان تک پھیل گئی ہے، جہاں سے حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کرکے اور لبنانی عوام کو خطرے میں ڈال کر بڑی غلطی کی۔ یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے تہران میں اسلامی حکومت کے خلاف ’’آپریشن رورنگ لائن‘‘ شروع کرنے کے بعد، حزب اللہ نے لبنان کی جنوبی سرحد پر راکٹ اور ڈرون فائر کرکے اسرائیلی سرزمین پر ایرانی حملوں میں شمولیت اختیار کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس میزائل شکن کی شدید قلت: رپورٹ

بعد ازاں اسرائیلی فوج کے مطابق، اس کارروائی میں اب تک۳۵۰؍ سے زائد حزب اللہ کے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔جبکہ اس موقع پر میکرون نے کہا تھا کہ ’’اسرائیل مبینہ طور پر زمینی کارروائی پر غور کر رہا ہے، جو کہ خطرناک غلطی ہوگی۔‘‘چھ دنوں بعد، وزیر اعظم نیتن یاہو، میکرون، لبنانی صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام نے لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔گزشتہ پیر کو صدر عون نے اسرائیل کے ساتھ نئے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔تاہم، رائٹرز کی جمعے کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی جانب سے براہ راست مذاکرات کی پیشکش کے باوجود، اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ پیشکش بہت دیر سے کی گئی ہے اور وہ لبنانی حکومت کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرنے کے قابل نہیں سمجھتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK