Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی بی سی سروے: ہندوستان میں خواتین کرکٹروں کی تعداد ۲۰۲۰ءکے مقابلے دُگنی

Updated: March 15, 2026, 10:26 PM IST | Mumbai

بی بی سی اور کلیکٹیو نیوز روم کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۲۰۲۰ء کے بعد کرکٹ کے شعبے میں ہندوستانی خواتین کی شرکت دگنی ہو گئی ہے۔ ملک کے۱۴؍ ریاستوں میں کی گئی اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ۱۵؍سے ۲۴؍ سال کی چار میں سے ایک نوجوان خاتون نے کھیل کو بطور کیریئر منتخب کیا۔

Women Cricket.Photo:INN
خواتین کی ٹیم۔ تصویر:آئی این این

بی بی سی اور کلیکٹیو نیوز روم کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی  ہے کہ ۲۰۲۰ء کے بعد کرکٹ کے شعبے میں ہندوستانی خواتین کی شرکت دگنی ہو گئی ہے۔ ملک کے۱۴؍ ریاستوں میں کی گئی اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ۱۵؍سے ۲۴؍ سال کی چار میں سے ایک نوجوان خاتون نے کھیل کو بطور کیریئر منتخب کیا جب کہ ۲۰۲۰ء میں یہ تعداد ۱۶؍ فی صد تھی۔ مطالعہ میں شامل ریاستوں میں ان  خواتین کا تناسب، جو کہتی ہیں کہ وہ کرکٹ کھیلتی ہیں، ۲۰۲۰ء میں ۵؍فیصد سے بڑھ کر۱۰؍ فی صد تک پہنچ گیا ۔ نوجوان خواتین کی شرکت میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔۱۵؍ سے۲۴؍ سال کی عمر کی سولہ فی صد خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ کھیلتی ہیں جب کہ ۲۰۲۰ء میں یہ تعداد ۶؍ فی صد تھی۔
سروے میں شامل ریاستوں میں خواتین کے درمیان سب سے زیادہ کھیلے جانے والے کھیل کے طور پر کرکٹ نے بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ ۲۰۲۰ء میں اس نے کبڈی کو صرف ایک حد تک پیچھے چھوڑ دیا تھا لیکن نئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ اب مضبوطی سے آگے ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں اس شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں شامل دو ریاستوں کے علاوہ باقی سبھی ریاستوں میں کرکٹ کھیلنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اتر پردیش میں شرکت کی سطح دس گنا بڑھ گئی ہے پہلے یہ تعداد ایک فی صد تھی۔
سروے میں شامل ریاستوں میں کرکٹ کی شرکت میں صنفی فرق بھی کم ہو گیا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والی ہر خاتون کے لیے تین مرد کھیل کھیلتے ہیں۔ ۲۰۲۰ء میں یہ تناسب ایک سے پانچ تھا۔یہ مطالعہ وسیع تر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ سروے میں شامل ۲۶؍ فی صد نوجوان خواتین، جن کی عمر ۱۵؍سے۲۴؍ سال ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھیل میں کیریئر پر غور کیا ہے، جو ۲۰۲۰ء کی بہ نسبت ۱۰؍ فی صد زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ دلچسپی تمل ناڈو (۲۷؍ فی صد)، مدھیہ پردیش (۱۹؍ فی صد) اور میگھالیہ (۱۹؍ فی صد) میں دیکھنے کو ملی ہے۔ اس اسٹڈی میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہر دو میں سے ایک شخص (۵۱؍ فی صد) نے خواتین کے کھیلوں کی کوریج دیکھی۔ یہ تعداد مردوں کے کھیلوں کی کوریج دیکھنے والے لوگوں کے تناسب سے زیادہ پیچھے نہیں بلکہ ۱۰؍  فی صد پوائنٹس کے اندر ہے۔
ویمنز پریمیئر لیگ (سابقہ ویمنز ٹی ٹوینٹی چیلنج) کے لیے ناظرین کی  تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ۲۰۲۰ءمیں ۱۵؍ فی صد کے بنسبت اب یہ بڑھ کر ۲۸؍ فی صد ہو گئی۔ یہ تعداد اب مردوں کی لیگ کے  ناظرین  کے برابر پہنچنے کو ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی خواتین کھلاڑیوں کی حالیہ کامیابیوں کی اس ترقی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سروے کے مظابق نیشنل ٹیم کے لیے اسپورٹ بنیادی وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خواتین کے کھیل کی پیروی کرتے ہیں یا اس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کے بعد انفرادی خواتین کھلاڑیوں کو حمایت حاصل ہوتی ہے جب کہ پہلے اس کی بنیادی وجہ کھیل میں عام دلچسپی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:سرفراز احمد کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

اس سروے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیڈمنٹن میں حصہ لینے والی خواتین میں بھی خاص طور پر پنجاب، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ مطالعہ اس ضمن میں درپیش چلینجز کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ ۱۳؍ فیصد خواتین جو کوئی کھیل نہیں کھیلتی ہیں وہ حفاظتی خدشات کو رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔۴۳؍ فی صد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ خواتین کا کھیل مردوں کے مقابلے کم تفریحی ہے۔ تقریباً نصف (۴۶؍ فی صد) کا خیال ہے کہ کھیلوں میں خواتین کو پرکشش ہونا چاہیے، جو کہ  ۲۰۲۰ء میں۳۷؍ فی صد سے زیادہ ہے۔۶۵؍ فی صد جواب دہندگان جو کھیل نہیں کھیلتے ہیں اس کی بنیادی وجہ وقت کی کمی بتاتے ہیں۔
بی بی سی نیوز کے جنوبی ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر ٹم اوفورڈ نے کہاکہ یہ دیکھنا حوصلہ افزا ہے کہ ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں زیادہ ہندوستانی خواتین کھیل کھیل رہی ہیں، اس کی پیروی کر رہی ہیں اور کھیل دیکھ رہی ہیں۔ بی بی سی کو ہمارے پلیٹ فارموں پر خواتین کی پروفائل کو بڑھانے میں مدد کرنے پر فخر ہے اور وہ ان کی کہانیاں سنانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی سمیٹ لی


یہ مطالعہ دسمبر ۲۰۲۵ء اور جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان عالمی تحقیق و بصیرت کی کمپنی کنٹر کے زیر انتظام ایک سروے کے نتائج پر مبنی ہے۔ محققین نے ۱۴؍ ہندوستانی ریاستوں میں ۱۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے۱۰؍ہزارسے زیادہ لوگوں سے آمنے سامنے (کیپی) انٹرویو کیا۔ نتائج کا موازنہ ۲۰۲۰ء میں بی بی سی کے انڈین اسپورٹس وومن آف دی ایئر  اقدام کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے اسی طرح کے سروے سے کیا گیا، جو ہندوستانی خواتین کی کامیابیوں کا اعزاز اور جشن مناتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK