Updated: January 15, 2026, 6:18 PM IST
| New Delhi
اشیاء اور خدمات کو ملا کر ملک کی مجموعی برآمدات مسلسل تیسری سہ ماہی میں ریکارڈ سطح پر درج ہوئیں۔ وزارت تجارت و صنعت نے جمعرات کے روز جاری اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ء کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات کسی بھی تیسری سہ ماہی کا نیا ریکارڈ ہے۔
برآمدات۔ تصویر:آئی این این
اشیاء اور خدمات کو ملا کر ملک کی مجموعی برآمدات مسلسل تیسری سہ ماہی میں ریکارڈ سطح پر درج ہوئیں۔ وزارت تجارت و صنعت نے جمعرات کے روز جاری اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ء کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات کسی بھی تیسری سہ ماہی کا نیا ریکارڈ ہے۔ پہلی اور دوسری سہ ماہی میں بھی متعلقہ سہ ماہی کی برآمدات بلند ترین سطح پر تھیں، اس طرح یہ پورے نو ماہ کا نیا ریکارڈ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں اپریل سے دسمبر تک ملک کی کل برآمدات ۲۶ء۶۳۴؍ ارب ڈالر رہیں۔ اس میں ۳۳ء۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جب کہ درآمدات بھی ۹۵ء۴؍ فیصد بڑھ کر۸۴ء۷۳۰؍ ارب ڈالر ہو گئیں۔ اس طرح کل تجارتی خسارہ ۲۱ء۹؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۵۸ء۹۶؍ ارب ڈالر رہا۔ اس میں اشیاء کی برآمدات ۴۴ء۲؍فیصد بڑھ کر۲۹ء۳۳۰؍ ارب ڈالر اور خدمات کی برآمدات ۴۶ء۶؍فی صد بڑھ کر۹۷ء۳۰۳؍ ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ جبکہ اشیاء کی درآمدات ۹۰ء۵؍ فیصد بڑھ کر۶۱ء۵۷۸؍ ارب ڈالر اور خدمات کی درآمدات ۴۸ء۱؍ فیصد بڑھ کر ۲۳ء۱۵۲؍ارب ڈالر رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:موہن لال نے ٹیزر کے ذریعہ اپنی فلم ’’دِرِشیم۳ ‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان کیا
پہلے نو ماہ کی مدت میں امریکہ کو اشیاء کی برآمدات ۷۵ء۹؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۸۸ء۶۵؍ ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ چین کو اشیاء کی برآمدات میں ۶۸ء۳۶؍ فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ ۲۵ء۱۴؍ ارب ڈالر ہو گئی۔ اپریل سے دسمبر کے دوران غیر پیٹرولیم اشیاء کی برآمدات ۵۱ء۵؍فیصد بڑھ کر ۱۶ء۲۸۸؍ ارب ڈالر اور درآمدات ۴۵ء۹؍فیصد بڑھ کر۱۸ء۴۴۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ پیٹرولیم کی درآمدات میں ۲۵ء۴؍فیصد کمی آئی اور یہ ۴۳ء۱۳۵؍ ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اپریل تا دسمبر کے دوران ہندوستان سے سب سے زیادہ برآمد ہونے والی اشیاء میں انجینئرنگ اشیاء، پیٹرولیم مصنوعات اور الیکٹرانک اشیاء سب سے اوپر تین پر رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ کے لیے۵۰؍کروڑ سے زائد ٹکٹ درخواستیں موصول
درآمدات میں پیٹرولیم، خام تیل اور ان کی مصنوعات سب سے اوپر رہیں۔ اس کے بعد الیکٹرانک اشیاء اور سونے کی درآمد رہی۔ قیمت کے لحاظ سے۳۹ء۴۹؍ ارب ڈالر کے سونے کی درآمد کی گئی۔ اس دوران سب سے زیادہ ۸۸ء۶۵؍ ارب ڈالر کی برآمدات امریکہ کو کی گئیں۔ اس کے بعد بالترتیب متحدہ عرب امارات (۹۲ء۲۸؍ارب ڈالرس) اور چین (۲۵ء۱۴؍ارب ڈالر) رہی۔ نیدرلینڈس، برطانیہ، جرمنی، بنگلہ دیش، سنگاپور، سعودی عرب اور ہانگ کانگ بھی بالترتیب ٹاپ ۱۰؍میں شامل رہے۔ سب سے زیادہ ۹۵ء۹۵؍ ارب ڈالر کی درآمدات چین سے کی گئیں۔ متحدہ عرب امارات سے ۵۵ء۴۹؍ ارب ڈالر اور روس سے ۹۸ء۴۴؍ ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ ٹاپ ۱۰؍ میں باقی ممالک بالترتیب امریکہ، سعودی عرب، عراق، ہانگ کانگ، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور جاپان رہے۔