Inquilab Logo Happiest Places to Work

فہد فاضل نا کام آغاز سے ہندوستان کے منفرد اداکار تک کا سفر

Updated: August 08, 2026, 11:45 AM IST | Mumbai

فلمی دنیا میں بعض اداکار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شکل، آواز یا روایتی ہیرو والے انداز کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی اداکاری کے بل پر پہچانےجاتے ہیں۔ فہد فاضل بھی ایسے ہی فن کار ہیں۔

Fahad Fazil, who also acts in silence. Photo: INN
خاموشی میں بھی اداکاری کرنے والے فہد فاضل۔ تصویر: آئی این این

فلمی دنیا میں بعض اداکار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شکل، آواز یا روایتی ہیرو والے انداز کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی اداکاری کے بل پر پہچانےجاتے ہیں۔ فہد فاضل بھی ایسے ہی فن کار ہیں۔ ملیالم سنیما سےتعلق رکھنے والے فہد فاضل نے اپنے کریئرکا آغاز ایک ناکام فلم سےکیا، شدید تنقید برداشت کی، کئی برس فلمی دنیا سے دور رہے اور پھر ایسی اداکاری کے ساتھ واپس آئے کہ آج انہیں ہندوستان کے بہترین اور سب سے زیادہ قابلِ اعتبار اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ روایتی ہیرو بننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ کردار کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

فہد فاضل کا تعلق کیرالا کے ایک معروف فلمی خاندان سے ہے۔ وہ ۸؍اگست ۱۹۸۲ءکوالاپوژہا میں پیدا ہوئے۔ان کے والد فاضل ملیالم فلم انڈسٹری کے ممتاز ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ فاضل نےکئی کامیاب اور یادگار فلمیں بنائیں اور ان کا نام ملیالم سنیما کی ایک پوری نسل پر اثرانداز رہا ہے۔ ایسے گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے فہد کیلئے فلمی دنیا کا دروازہ کھولنا شاید دوسروں کے مقابلے میں آسان تھا، لیکن اس دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد خود کو ایک کامیاب اداکار ثابت کرنا ان کے لیے قطعی آسان نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’کِل‘‘ کے ہدایت کار نکھل ناگیش بھٹ کا ہالی ووڈ میں داخلہ

فہدنےکم عمری میں ہی فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔۲۰۰۲ء میں ان کے والد فاضل کی ہدایت میں بننے والی فلم ’کائییتھم دورَتھ‘ سے انہوں نے اداکاری کا آغاز کیا۔ اس فلم میں انہیں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملا، مگر فلم نہ تو تجارتی طور پر کامیاب ہوئی اور نہ ہی فہد کی اداکاری کو وہ پذیرائی مل سکی جس کی ایک نئے اداکار کو توقع ہوتی ہے۔یہ ناکامی ان کے لیے محض ایک فلم کی ناکامی نہیں تھی بلکہ ایک سخت سبق تھی۔ فہد نے فلمی دنیا سے طویل وقفہ لیا اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئےامریکا چلے گئے۔

یہ وقفہ فہد فاضل کی شخصیت اور اداکاری دونوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔ وہ جب دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے تو وہ وہی نوجوان نہیں تھے جو چند برس پہلے اپنے والد کی فلم میں ہیرو بن کر سامنے آیا تھا۔ اب ان کے اندر زندگی کو دیکھنے، کرداروں کو سمجھنے اور انسان کے نفسیاتی پہلوؤں کو محسوس کرنے کا ایک مختلف انداز پیدا ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: دلیپ کمار کو اپنے تبدیل شدہ نام کے بارے میں فلم کا پوسٹر دیکھ کر معلوم ہوا تھا

۲۰۰۹ءمیںانہوں نے ’کیرالا کیفے‘ کے ذریعے دوبارہ اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔۲۰۱۱ءکی فلم ’چپّا کریشو‘ نے فہد کو حقیقی معنوں میں توجہ دلائی۔اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں کام کیا اور کامیابی بھی حاصل کی۔پھر ’پشپا‘نےانہیں ملیالم سنیما سے باہر ملک گیر سطح پر نئی شناخت دی۔ سُکمار کی ہدایت کاری میں بننے والی ’پشپا: دی رائز‘میں فہد نے پولیس افسر بھنور سنگھ شیخاوت کا کردار ادا کیا۔ فلم میں ان کا سامنا اللو ارجن کے کردار پشپا راج سے ہوتا ہے۔ بھنور سنگھ ایک منفی کردار تھا، لیکن فہد نے اسے محض روایتی ولن کے طور پر ادا نہیں کیا بلکہ اس میں غرور، غصہ، احساسِ محرومی اور ذاتی ضد کے عناصر شامل کیے۔ آج فہد فاضل کو ہندوستانی سنیماکے ان اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے جو کرداروں کے ذریعے اپنی پہچان قائم کرتے ہیں۔ ان کی فلمیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ اچھا اداکار ہمیشہ پردے پر سب سے زیادہ بولنے والا شخص نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ صرف ایک نظر ڈالتا ہے، ہلکا سا مسکراتا ہے، چند لمحے خاموش رہتا ہے اور پورا کردار ناظرین کے ذہن میں نقش ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK