Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوالیفائر ۲؍ میں مداحوں کی نظریں سوریا ونشی کی جارحانہ بلے بازی پر مرکوز

Updated: May 29, 2026, 10:39 AM IST | Mallanpur

راجستھان رائلز کے جارح نوجوان کھلاڑی ویبھو سوریا ونشی ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز ہوں گے، جب جمعہ کو ملاں پور میں آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے دوسرے کوالیفائر میں ان کی ٹیم کا مقابلہ گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔

Vaibhav Suryavanshi.Photo:X
ویبھوسوریا ونشی۔ تصویر:ایکس

راجستھان رائلز کے جارح نوجوان کھلاڑی ویبھو سوریا ونشی ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز ہوں گے، جب جمعہ کو ملاں پور میں آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے دوسرے کوالیفائر میں ان کی ٹیم کا مقابلہ گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔ اس ۱۵؍ سالہ کھلاڑی نے اپنی شاندار بلے بازی سے راجستھان کے بیٹنگ لائن اپ کو پوری طرح بدل دیا ہے۔ اب محمد سراج اور کگیسو ربادا کی قیادت والی گجرات کی مضبوط تیز گیند بازی کے سامنے اس ٹورنامنٹ کے سب سے دھماکے دار نوجوان بلے باز کو روکنے کا چیلنج ہے۔ جب اس سیزن میں یہ دونوں ٹیمیں پہلی بار آمنے سامنے آئی تھیں، تو سراج نے ایک لمبا چھکا کھانے کے بعد، بالاآخر ایک شارٹ بال پر سوریہ ونشی کو آؤٹ کر دیا تھا۔ ربادا کو بھی اس نوجوان بلے باز کی نڈر بلے بازی کے سامنے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
 اس کے بعد سے، سوریا ونشی نے اپنے کھیل کے معیار کو مزید بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ایلیمینیٹر میچ میں صرف ۲۹؍گیندوں پر بنائی گئی ان کی ۹۷؍ رن کی طوفانی اننگز نے کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا اور رائلز کو ایک اور ناک آؤٹ مقابلے میں پہنچا دیا۔ ملاں پور کی پچ ایک بار پھر بلے بازوں کے لیے سازگار ثابت ہونے کی امید ہے، ایسے میں یہ نوجوان کھلاڑی حریف گیند بازوں کے دبدبے کی پرواہ کیے بغیر اپنی جارحانہ بلے بازی جاری رکھے گا۔ پیٹ کمنز کو اس کا براہِ راست تجربہ اسی ہفتے ہوا، جب سوریہ ونشی نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس آسٹریلیائی تیز گیند باز پر زوردار حملہ کیا۔ اس نوجوان بلے باز کی بلے بازی میں واحد کمزوری شارٹ بال کے خلاف دیکھی ہے؛ گجرات کے تیز گیند باز جمعہ کے مقابلے میں اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
 راجستھان کی پوری مہم کافی حد تک سوریا  ونشی اور جوفرا آرچر کے ارد گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ ان دونوں ہی کھلاڑیوں نے ایلیمینیٹر میں ملی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آرچر کی تیز گیند بازی نے حیدرآباد کو شروعات میں ہی بیک فٹ پر دھکیل دیا جبکہ سوریا  ونشی کی طوفانی بلے بازی نے میچ کا رخ ہی پوری طرح بدل دیا۔ یشسوی جیسوال، اپنی قابلیت کے باوجود، اس نوجوان کھلاڑی کی مسلسل شاندار رن بنانے کی ہوڑ کے باعث کافی حد تک سرخیوں سے دور ہی رہے ہیں۔ دھرو جوریل کو بھی ان جارحانہ شروعات کا فائدہ ملا ہے، اور انہوں نے تیسرے نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے کئی نپی تلی اننگز کھیلی ہیں۔
ایلیمینیٹر میچ کے بعد کپتان ریان پراگ نے یہ تسلیم کیا کہ رائلز کو ۲۶۰؍ رن کے ہندسے سے بھی آگے نکلنا چاہیے تھا، لیکن میچ کے آخری لمحات میں گرنے والی اچانک وکٹوں نے انہیں کافی نقصان پہنچایا۔ کوالیفائر ۲؍ میں جانے سے پہلے، ڈیتھ اوورز میں اپنی فنشنگ کو بہتر بنانا ان کا بنیادی ہدف رہے گا۔

 


گجرات ٹائٹنز کے لیے، یہ میچ اتوار کے فائنل میں جگہ بنانے کا دوسرا موقع ہے، خاص طور پر کوالیفائر وَن میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے ہاتھوں ملی زبردست ہار کے بعد۔ ٹائٹنز کی بیٹنگ کافی حد تک ٹاپ آرڈر کے تین بلے بازوں - شبھ من گل، سائی سدرشن اور جوس بٹلر پر منحصر ہے۔ ان کے تسلسل نے گجرات کو پورے سیزن میں آگے بڑھایا ہے، لیکن جب بھی ٹاپ تین بلے باز ناکام ہوتے ہیں، تو مڈل آرڈر میں گہرائی کی کمی صاف نظر آتی ہے۔ یہ تشویش دھرم شالہ میں تب صاف دیکھی گئی، جب گجرات نے آر سی بی کے خلاف  ۲۵۰؍سے زیادہ رن لٹا دیے؛ اس سے گل اور سدرشن پر ایک تقریباً ناممکن ہدف کا تعاقب کرنے کا بھاری دباؤ آ گیا۔
گیند بازی کا شعبہ، جو پورے سیزن میں گجرات کی سب سے بڑی طاقت رہا ہے، اس ہار کے دوران ڈیتھ اوورز میں بری طرح لڑکھڑا گیا؛ رجت پاٹیدار کے جوابی حملے نے میچ کا رخ پوری طرح سے بدل دیا تھا۔ فیلڈنگ ایک اور ایسا شعبہ ہے جس میں فوری سدھار کی ضرورت ہے، حالانکہ پچھلے میچ میں راہل تیوتیا کی دیر سے کی گئی تیز بلے بازی ٹائٹنز کے لیے ایک مثبت پہلو رہی۔

یہ بھی پڑھئے:بقرعید پر ماں کو یاد کرکے سوزین خان کا درد چھلک پڑا، علی فضل نےبہتر مستقبل کی دعا کی


کوالیفائر وَن میں ملی ہار کے باوجود، گجرات اس مقابلے میں پورے اعتماد کے ساتھ اتر رہا ہے، جو اس کے پورے سیزن کی مستقل مزاج کارکردگی پر مبنی ہے۔ گل نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والے اس ناک آؤٹ میچ سے پہلے کہا،’’ہاں، بالکل، آپ جانتے ہیں، یہ (کوالیفائر وَن) جیسا کہ آپ نے کہا - ان میچوں میں سے ایک ہے جسے ہم بھول کر موہالی میں ایک نئی شروعات کرنا چاہیں گے۔‘‘
اس علاقے کی حبس بھری گرمی بھی سوریا  ونشی  کی ایک اور ممکنہ شاندار کارکردگی کو لے کر لوگوں کے جوش کو کم نہیں کر پائی ہے؛ جمعہ کی شام کو ہزاروں ناظرین سے اسٹیڈیم کے بھرے ہونے کی امید ہے۔ تاریخی طور پر، اس حریفانہ مقابلے میں گجرات ٹائٹنز کا پلہ بھاری رہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے ۱۰؍ میچوں میں سے گجرات نے سات جیتے ہیں، جبکہ راجستھان کو تین بار جیت ملی ہے۔ تاہم، حالیہ مقابلے زیادہ برابری کے رہے ہیں؛ آئی پی ایل ۲۰۲۵ء اور موجودہ سیزن کو ملا کر دونوں ٹیموں نے دو دو میچ جیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سنچری کے بجائے ٹیم کیلئے کردار ادا کرنے پر پوری توجہ تھی: سوریاونشی


ملاں پور کی پچ پر اس سال مسلسل ہائی اسکورنگ میچ دیکھنے کو ملے ہیں، جہاں۲۰۰؍ سے زیادہ کا اسکور بننا ایک عام بات ہو گئی ہے۔ اس سیزن میں اس میدان پر کھیلے گئے پانچ میچوں میں سے تین میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیموں کو جیت ملی ہے۔ پھر بھی، راجستھان کی دھماکے دار بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے، جس کی قیادت سوریا ونشی کر رہے ہیں، گجرات کو پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح غوروخوض  کرنا پڑ سکتا ہے؛ یہ وہی فیصلہ ہے جو کوالیفائر وَن  میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف ان کے لیے الٹا پڑا تھا۔ جمعہ کی شام کو کرکٹ کے لیے موسم کافی اچھا رہنے کی امید ہے، بھلے ہی درجہ حرارت ۳۰؍ ڈگری کے آس پاس ہی کیوں نہ ہو۔ بارش کا کوئی امکان نہ ہونے اور بیٹنگ کے لیے ایک اور سازگار پچ ملنے کی امید کے ساتھ، ملاں پور میں فینز کو ایک بار پھر رنوں کی برسات دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK