• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سائی مانجریکر ’’دی انڈیا ہاؤس ‘‘کی شوٹنگ کے تعلق سے پُر جوش

Updated: February 08, 2026, 9:07 PM IST | Mumbai

اداکارہ سائی ایم مانجریکر، جنہوں نے مختلف فلمی صنعتوں میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے، ان دنوں اپنی آنے والی پین انڈیا پیریڈ ڈراما فلم ’’دی انڈیا ہاؤس‘‘ کا حصہ بننے کے تعلق سے بے حد پُرجوش ہیں۔ اس فلم کی پروڈکشن پاور ہاؤس رام چرن اپنی پہلی پروڈکشن کے طور پر کر رہے ہیں۔

Saiee Manjrekar.Photo:INN
سائی مانجریکر۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ سائی ایم مانجریکر، جنہوں نے مختلف فلمی صنعتوں میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے، ان دنوں اپنی آنے والی پین انڈیا پیریڈ ڈراما فلم ’’دی انڈیا ہاؤس‘‘ کا حصہ بننے کے تعلق سے بے حد پُرجوش ہیں۔ اس فلم کی پروڈکشن پاور ہاؤس رام چرن اپنی پہلی پروڈکشن کے طور پر کر رہے ہیں۔ فلم کو بیک وقت ہندی اور تیلگو زبان میں بنایا جا رہا ہے، جو سائی  کے لیے ’ ’میجر‘ ‘ کے بعد دوسری ایسی فلم ہے جس کی شوٹنگ دونوں زبانوں میں ساتھ ساتھ ہوئی ہے۔
 ہندی اور تیلگو سنیما میں پہلے بھی کام کر چکی سائی کا کہنا ہے کہ  ’’دی انڈیا ہاؤس‘ ‘ ان کے کریئر کا ایک فطری مگر نہایت بھرپور مرحلہ ہے۔ بڑے پیمانے پر بننے والی یہ فلم ایک مضبوط پیریڈ کہانی پیش کرتی ہے، جس میں سائی ’’سَتی‘‘ نام کے ایک اہم کردار میں نظر آئیں گی، جو کہانی میں جذباتی گہرائی کا اضافہ کرتا ہے۔
  اپنے تجربے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سائی نے ایک تفصیلی نوٹ میں کہاکہ ’’دی انڈیا ہاؤس‘‘ اب تک میرے کریئر کے سب سے زیادہ گہرے اور تسکین بخش تجربات میں سے ایک رہی ہے۔ ایک ہی فلم کو ہندی اور تیلگو میں بیک وقت شوٹ کرنا جہاں پُرجوش ہوتا ہے، وہیں چیلنجنگ بھی ہوتا ہے  کیونکہ کئی بار ایک ہی دن میں جذبات، زبان اور ثقافتی باریکیوں کے درمیان بار بار تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ توجہ اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ ایک اداکار کے طور پر آپ کو مزید نکھارتا ہے۔‘‘
 انہوں نے آگے کہا کہ ’’ “میں پہلے ’’میجر‘‘ جیسی فلم کر چکی ہوں، جو ہندی اور تیلگو دونوں میں بنی تھی، اس لیے اس عمل سے کسی حد تک واقف تھی۔ لیکن ہر فلم کچھ نیا سکھاتی ہے۔ ’’دی انڈیا ہاؤس‘‘ ایک خاص دور پر مبنی ہے اور اس میں جذبات بہت گہرے اور تہہ دار ہیں۔ ستی کا کردار نبھانے کے لیے مجھے نہ صرف اس کے کردار کو بلکہ اس دور کو بھی سمجھنا پڑا—اس کی طاقت، اس کی کمزوریاں اور اس کی خاموش مضبوطی۔‘‘
 ایک حقیقی پین-انڈیا ماحول میں کام کرنے کے بارے میں سئی کہتی ہیں کہ   ’’مجھے ایسے پروجیکٹس اس لیے پسند ہیں کیونکہ یہاں سنیما واقعی ایک مشترکہ زبان بن جاتا ہے۔ سیٹ پر مختلف صنعتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ مل کر ایک ہی کہانی کو زندہ کرتے ہیں۔ نکھل سدھارتھ، ہدایتکار وامسی اور پوری ٹیم کے ساتھ کام کرنا بے حد متاثرکن رہا ہے۔ یہاں نظم و ضبط، جذبہ اور کام کے لیے احترام نظر آتا ہے، جو آپ کو اپنا بہترین دینے کی ترغیب دیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ کے یونیورسٹی تنازع پر منوج منتشر کا ردعمل

 آخر میں سائی نے شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’  میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ مجھے دی انڈیا ہاؤس جیسی پرعزم فلم میں ستی جیسا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے۔ مختلف صنعتوں میں آسانی سے کام کرنا مجھے صرف ایک اداکارہ کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک کہانی سنانے والی کے طور پر بھی آگے بڑھنے کا احساس دلاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ناظرین فلم اور ستی کے سفر سے اتنا ہی جڑاؤ محسوس کریں گے، جتنا میں نے اس کردار کو نبھاتے وقت کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:آرسنل کی فتوحات کا سلسلہ برقرار، سنڈر لینڈ کو شکست،۹؍ پوائنٹس کی برتری

’’دی انڈیا ہاؤس‘‘ ایک بڑی پین-انڈیا ریلیز کے طور پر شکل اختیار کر رہی ہے اور ایسے میں سائی ایم مانجریکر کا کردار ناظرین کے درمیان خاصی بحث میں ہے۔ وہ ہندی اور تیلگو سنیما میں مسلسل مضبوط، بامعنی اور چیلنجنگ پروجیکٹس کے ذریعے اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرتی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK