Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا ۱۵۰ بار دورہ کرنے والا ایک جرمن شہری، روانی کے ساتھ ہندی اور بھوجپوری بولتا ہے

Updated: August 14, 2026, 11:02 AM IST | Bangkok

سوشل میڈیا صارفین، جرمن شہری کی سلیس ہندی اور غیر متوقع بھوجپوری سے کافی لطف اندوز ہوئے۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ ہندوستان کیلئے ان کی محبت تقریباً ایک مقامی باشندے جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ایک صارف نے لکھا: ”ان کا ’ماں قسم‘ کہنا ثابت کرتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں۔“

Rainer Krack. Photo: X
رینر کریک۔ تصویر: ایکس

سوشل میڈیا پر ایک جرمن شہری کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں انہیں ہندوستان کیلئے اپنی محبت کا اظہار کرتے اور ہندی اور بھوجپوری زبانیں روانی کے ساتھ بولتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ رینر کریک (Rainer Krack) نامی اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے تقریباً ۱۵۰ بار ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہ یہاں کی زبانوں، کھانے اور ثقافت سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Why Simplified | Shubham Jain (@why_simplified)

شبھم جین نامی صارف کی طرف سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں، کریک نے تانیہ نامی ایک خاتون سے ہندوستان کے اپنے متعدد دوروں کے بارے میں گفتگو کی۔ ویڈیو میں انہیں روانی کے ساتھ ہندی بولتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کو سبزی خوروں کیلئے ”جنت“ قرار دیا اور پورے ملک میں دستیاب سبزی خور کھانوں کی وسیع اقسام کی تعریف کی۔

اس گفتگو نے اس وقت ایک دلچسپ موڑ لیا جب ایک دوسری خاتون نے پوچھا کہ کیا کریک مراٹھی بول سکتے ہیں۔ مراٹھی کے بجائے، انہوں نے بھوجپوری بول کر سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے ان کتابوں کے بارے میں بھی بات کی جو انہوں نے جرمن زبان میں ہندوستان کی متنوع ثقافتوں کے بارے میں لکھی ہیں۔ ان کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ انڈیا کے بھن بھن سنسکرتیوں کے بارے میں ہیں۔“ (ہندوستان کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں ہیں)

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: میٹا نے حتمی تاریخ سے قبل ۷؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار نوعمروں کے اکاؤنٹ ہٹا ئے

ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے: ”تھائی لینڈ میں، جب میں ایک جرمن اور ان کی ہندوستان کیلئے محبت سے ملا۔“ جین کے مطابق، کریک بنکاک، تھائی لینڈ میں مقیم ایک جرمن شہری ہیں جو کئی برسوں سے ہندوستان کا سفر کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے یونیورسٹی کے دنوں میں متعدد ہندوستانی زبانیں سیکھی تھیں اور بار بار کے دوروں کے ذریعے ملک کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید گہرا کرنا جاری رکھا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین، ان کی سلیس ہندی اور غیر متوقع بھوجپوری سے کافی لطف اندوز ہوئے۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ ہندوستان کیلئے ان کی محبت تقریباً ایک مقامی باشندے جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ایک صارف نے لکھا: ”ان کا ’ماں قسم‘ کہنا ثابت کرتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں۔“ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ”ہم کلاسیز لینے کے بعد بھی جرمن بولنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ یہ جرمن...“ ایک تیسرے نے مذاقاٌ لکھا: ”جس لمحے انہوں نے ماں قسم کہا، انہیں ہندوستانی شہریت مل گئی!“ جبکہ ایک اور نے لکھا کہ ”اوہ کتنا پیارا ہے! اسے دیکھتے ہوئے میں پورے وقت مسکراتا رہا... میرا بھارت مہان۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK