Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی: ۱۷؍ سے ۴۵؍ سالہ مردوں کیلئے ۳؍ ماہ سے زائد ملک چھوڑنے سے قبل اجازت لازمی

Updated: April 05, 2026, 7:05 PM IST | Berlin

جرمنی میں فوجی خدمات قوانین میں ترمیم کے تحت۱۷؍ سے ۴۵؍ سالہ مردوں کو تین ماہ سے زائد عرصے کیلئے ملک چھوڑنے سے قبل اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

جرمن میڈیا کے مطابق،ایک جنوری۲۰۲۶ء سے نافذ العمل فوجی خدمات قانون سازی میں تبدیلیوں کے تحت،۱۷؍ سے۴۵؍ سال کی عمر کے مردوں کو تین ماہ سے زائد عرصے کے لیے ملک سے باہر جانے سے پہلے اجازت حاصل کرنا لازمی ہے۔یہ قانون طویل مدتی بیرون ملک قیام پرعائد ہوتا ہے، جس میں تعلیم، ملازمت، یا سفر شامل ہیں۔ اس کا انتظام جرمن فوج کے کیریئر دفاترکے ذریعے کیا جاتا ہے، جو سرکاری فوجی بھرتی اور انتظامی دفاتر ہیں۔ توقع ہے کہ اجازت نامہ کا حصول آسان ہوگاکیونکہ موجودہ قانون کے تحت فوجی خدمت اب بھی رضاکارانہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں نظریاتی تبدیلی: مذہبی گروہ فوجیوں کی کمی پوری کر ر ہے

بعد ازاں حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی ایمرجنسی کی صورت میں ان افراد کا درست ریکارڈ رکھنے کے لیے ہے جو ممکنہ طور پر بیرون ملک ہوں۔ دراصل یہ قانون ’’ملٹری سروس ماڈرنائزیشن ایکٹ‘‘ کے حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا، جس سے عوام کے بڑے حصے نے عدم توجہی کا اظہار کیا، تاہم اس کے نفاذ کے بعد وسیع تر بحث کا سبب بنا۔
واضح رہے کہ دنیا کے متعدد ممالک میں ایک مخصوص عمر کے بعد ملک کی فوج میں خدمات لازمی قرار دی گئی ہے، جس کے تحت ہر بالغ مرد و عورت کو فوج میں دو سالہ خدمت انجام دینا لازمی ہوتا ہے، اور اس کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد فرد اپنی مستقبل سازی کر سکتا ہے۔ اس قانون کا مقصدملک کی فوج میں افرادی قوت کو برقرار رکھنا ہے، اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں تربیت یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ جرمنی میں فوجی خدمت لازمی قرار نہیں دی گئی ہے، پھر بھی حکومت ایسے تمام افراد کا انداراج رکھنا چاہتی ہے، وقت آنے پر جن کی خدمات حاصل کی جاسکے، اور ان کی دستیابی اور عدم دستیابی کے تعلق سے آگاہ رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK