Updated: May 23, 2026, 7:09 PM IST
| Mumbai
’’دھرندھر‘‘ اور اس کے سیکوئل ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کی کامیابی کے درمیان دہلی ہائی کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم حساس انٹیلی جنس معلومات اور خفیہ آپریشنز سے متعلق تفصیلات کو بے نقاب کر سکتی ہے۔ عدالت نے وزارت اطلاعات و نشریات اور سینسر بورڈ کو معاملے پر غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔
’’دھرندھر‘‘ اور اس کے سیکوئل ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘نے باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی، لیکن اب یہ فلم سیریز ایک قانونی تنازعے میں گھر گئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو ہدایت دی کہ وہ فلم کے خلاف اٹھائے گئے خدشات کا جائزہ لیں۔ رپورٹس کے مطابق، درخواست ایک ایس ایس بی افسر کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم میں دکھائے گئے بعض مناظر اور خفیہ کارروائیوں کی تفصیلات ہندوستان کی انٹیلی جنس اور دفاعی حکمت عملیوں سے متعلق حساس معلومات کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: ایشوریہ رائے کےپنک گاؤن نے توجہ سمیٹ لی
آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں رنویر سنگھ ایک ہندوستانی خفیہ ایجنٹ حمزہ علی مزاری کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو پاکستان کے لیاری علاقے میں ایک خطرناک بلوچ گینگ میں دراندازی کرتا ہے۔ فلم میں اکشے کھنہ مخالف کردار رحمان ڈکیت کے روپ میں نظر آئے، جسے فلم کے سب سے طاقتور اور خوفناک کرداروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ فلم میں ’’ڈیپ کور شناخت‘‘ اور ’’کلاسیفائیڈ پروٹوکولز‘‘ کی ایسی عکاسی کی گئی ہے جو حقیقی انٹیلی جنس کارروائیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ درخواست گزار نے یہاں تک الزام لگایا کہ فلم کی وجہ سے کراچی میں حکام مبینہ طور پر جاسوسی سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ چوکس ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : موہن لال جذباتی ہوگئے، وائرل ویڈیو میں آنسو پونچھتے ہوئے نظرآئے
چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگرچہ فلمیں بنیادی طور پر تفریح کے لیے بنائی جاتی ہیں، لیکن ان کے سماجی اور عوامی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا، ’’سینسر بورڈ کے پاس ایسے معاملات کے لیے واضح رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس نمائندگی پر غور کیا جائے اور باخبر فیصلہ لیا جائے۔‘‘ بنچ نے مزید کہا کہ اٹھائے گئے خدشات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں لگتے، اسی لیے وزارت اطلاعات و نشریات اور سی بی ایف سی کو درخواست کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ جاسوسی اور خفیہ آپریشنز پر مبنی فلموں کے لیے الگ ’’اسپائی فلم پروٹوکول‘‘ متعارف کرایا جائے، تاکہ مستقبل میں حساس معلومات کی نمائش کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔ عرضی میں فلم کے سرٹیفیکیشن کو منسوخ کرنے اور تھیٹرز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر اس کی نمائش روکنے کی بھی درخواست کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : وعدہ ہے، چھپ کر شادی نہیں کروں گی: شادی کی افواہوں پر کنگنا رناوت کا بیان
دوسری جانب، تنازعے کے باوجود فلم کی مقبولیت برقرار ہے۔ ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ ۲۲؍ مئی ۲۰۲۶ء سے جیو ہاٹ اسٹار اور نیٹ فلکس پر اسٹریمنگ کے لیے دستیاب ہوگی۔ فلم کی کامیابی اور اس کے گرد پیدا ہونے والا قانونی اور سیاسی تنازع اب اسے صرف ایک جاسوسی تھریلر نہیں بلکہ ایک بڑے عوامی مباحثے کا حصہ بنا رہا ہے، جہاں سنیما، قومی سلامتی اور تخلیقی آزادی کے درمیان توازن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔