فلم ’’’گھوس خور پنڈت‘‘‘ کے عنوان پر اعتراض کے بعد فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے پری ریلیز اسکریننگ کا مطالبہ کیا ہے۔ اراکین نے تنازع کم کرنے کے لیے فلم کا نام تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai
فلم ’’’گھوس خور پنڈت‘‘‘ کے عنوان پر اعتراض کے بعد فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے پری ریلیز اسکریننگ کا مطالبہ کیا ہے۔ اراکین نے تنازع کم کرنے کے لیے فلم کا نام تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
بالی ووڈ کی مجوزہ فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ اپنے عنوان کے باعث تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ فلم کے نام پر اعتراض سامنے آنے کے بعد ایف ڈبلیو آئی سی ای (فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز) نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ فلم کو ریلیز سے قبل تنظیم کے نمائندوں کو دکھایا جائے تاکہ اس کے مواد کا جائزہ لیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق فلم کا عنوان منظرِ عام پر آنے کے بعد بعض حلقوں نے اسے قابلِ اعتراض قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایک مخصوص برادری یا سماجی گروہ کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں ایف ڈبلیو آئی سی ای نے مداخلت کرتے ہوئے فلم کے مواد کی پری ریلیز اسکریننگ کا مطالبہ کیا۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اگر کسی فلم کا عنوان یا مواد سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کا امکان رکھتا ہو تو اسے پیشگی جانچ کے عمل سے گزارنا ضروری ہے۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں فلم کی مکمل اسکریننگ کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ اعتراض کو ریلیز سے قبل دور کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: انٹرنیشنل فلم ’’سیون ڈاگز‘‘ کے ٹریلر میں سلمان خان اور سنجے دت چھا گئے
رپورٹس کے مطابق فلم کے پروڈیوسرز نے تنظیم کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عنوان تبدیل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ٹائٹل پر غور جاری ہے اور باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فلم ساز تنازع کو بڑھانے کے بجائے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ابھی تک فلم کے نئے نام یا اسکریننگ کی حتمی تاریخ کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ فلم کے عنوان پر تنازع سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے تنظیم کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلمی مواد کو سماجی حساسیت کے دائرے میں رہ کر پیش کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب بعض افراد نے اسے تخلیقی آزادی کے تناظر میں دیکھا اور مؤقف اپنایا کہ فلم کو مکمل دیکھے بغیر محض عنوان کی بنیاد پر اعتراض مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سونُو سود کے بعد راجپال کی مدد کے لیے اندرجیت سنگھ آگے آئے
فلمی مبصرین کے مطابق بالی ووڈ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی فلم کے عنوان پر تنازع کھڑا ہوا ہو۔ ماضی میں بھی کئی فلمیں نام یا مواد کی وجہ سے احتجاج اور مطالبات کا سامنا کر چکی ہیں۔ اس کیس میں نمایاں بات یہ ہے کہ تنظیم نے براہِ راست پابندی کی بجائے پری ریلیز اسکریننگ کی بات کی، جبکہ پروڈیوسرز نے بھی عنوان کی تبدیلی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ فی الحال فلم کی ریلیز شیڈول پر کوئی باضابطہ اثر ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم آنے والے دنوں میں نئے عنوان اور اسکریننگ کے حوالے سے مزید وضاحت متوقع ہے۔