Updated: February 05, 2026, 5:16 PM IST
| New Delhi
ریگولیٹر نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسابقتی ایکٹ کی دفعات ۴ (۲)( اے )(آئی) اور ۴ (۲)( بی )(آئی) کی خلاف ورزی کا تعین کرے اور۹۰؍ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔سی سی آئی کے حکم کے مطابق، دسمبر ۲۰۲۵ءمیں ہزاروں پروازیں منسوخ کر کے انڈیگو نے مؤثر طور پر اپنی خدمات کو مارکیٹ سے واپس لے لیا، جس کے نتیجے میں مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔
انڈیگوایئرلائن۔ تصویر:آئی این این
کمپیٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی ) نے بدھ کے روز ایوی ایشن شعبے میں اپنی غالب پوزیشن کے غلط استعمال اور ہندوستان میں مسابقت پر نمایاں منفی اثر ڈالنے کے الزام میں انڈیگو کے خلاف تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا۔ سی سی آئی کے حکم میں کہا گیا ہے کہ دسمبر ۲۰۲۵ء میں ہزاروں پروازیں منسوخ کر کے انڈیگو نے مارکیٹ میں اپنی خدمات روک لیں، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور زیادہ طلب کے دوران صارفین کی فضائی سفر تک رسائی محدود ہو گئی۔
حکم میں کہا گیا کہ ’’ انڈیگو نے سیکڑوں پروازیں منسوخ کیں، جس کے باعث مختلف روٹس پر نشستوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر کی گئی منسوخی، جس کے متبادل بہت کم یا نہ ہونے کے برابر تھے، نے مسافروں کو وسیع پیمانے پر متاثر کیا۔ ۲۵۰۷؍ پروازوں کی منسوخی اور ۱۸۵۲؍ پروازوں میں تاخیر کے بعد مسافر محدود ترین آپشنز کے ساتھ پھنس کر رہ گئے، جبکہ کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس سے مختلف ہوائی اڈوں پر تین لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔‘‘
۶۰؍ فیصد مارکیٹ شیئر زیرِ نگرانی
حکم میں کہا گیاکہ ’’انڈیگو مسلسل مجموعی گھریلواے ایس کے ایم کا تقریباً ۶۰؍ تا ۶۱؍ فیصد حصہ رکھتی ہے، جو نہ صرف مسافروں کی تعداد بلکہ مارکیٹ کی گنجائش اور سپلائی کی صورتحال پر مؤثر کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے۔ گھریلو مسافر ایوی ایشن مارکیٹ میں انتہائی زیادہ اور بڑھتی ہوئی مرکزیت پائی جاتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی کمپنیاں مسابقتی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کیونکہ مؤثر حریفوں کی موجودگی نمایاں طور پر محدود ہے۔‘‘
انڈیگو کا ڈی جی سی اے کے دائرہ اختیار کا حوالہ
اپنے دفاع میں، انڈیگو نے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر کو بتایا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر ہندوستانی ہوابازی قانون ، ۲۰۲۴ء اور ایئرکرافٹ رولز،۱۹۳۷ء کے تحت آتا ہے، جن کے مطابق شعبہ جاتی ریگولیٹر ڈی جی سی اے (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) کو سی سی آئی کے اٹھائے گئے معاملات پر خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہے۔ مزید یہ کہ انڈیگو نے دلیل دی کہ ہوائی کرایوں کا تعین وزارتِ شہری ہوابازی اور ڈی جی سی اے کی مسلسل نگرانی اور مداخلت کے تحت ہوتا ہے، جس میں عوامی مفاد میں کرایوں کی حد بندی اور قیمتوں کے اصول شامل ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہوائی کرایوں کا ضابطہ مکمل طور پر ڈی جی سی اے کے ریگولیٹری دائرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بارڈر ۲‘‘ عالمی سطح پر ۴۰۰؍ کروڑ کلب میں شامل
سی سی آئی نے برقرار رکھا کہ ایوی ایشن شعبے کو محض ڈی جی سی اے کی نگرانی میں ہونے کی بنیاد پر کبھی بھی مسابقتی قانون کے اطلاق سے مستثنیٰ نہیں سمجھا گیا۔ حکم میں کہا گیاکہ ’’ کمیشن یہ بھی مشاہدہ کرتا ہے کہ اس نے ماضی میں ایوی ایشن شعبے سے متعلق ایسے معاملات کی جانچ کی ہے جن میں کارٹل سازی، غالب پوزیشن کے غلط استعمال اور غیر منصفانہ قیمتوں کے الزامات شامل تھے۔ شعبہ جاتی ریگولیشن اور مسابقتی قانون الگ مگر باہمی تکمیلی دائرہ کار میں کام کرتے ہیں اور ہر ایک مختلف ریگولیٹری مقاصد کو پورا کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو برازیل کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید
انڈیگو کے خلاف یہ تحقیقات بنگلورو کے ایک وکیل کی شکایت کے بعد شروع کی گئیں، جس نے سی سی آئی کو بتایا کہ اس کی واپسی کی پرواز مقررہ روانگی سے چند گھنٹے قبل منسوخ کر دی گئی اور ایئرلائن متبادل سفری انتظام فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ جب شکایت کنندہ نے متبادل پرواز بک کرنے کی کوشش کی تو اس نے مشاہدہ کیا کہ انڈیگو (اور دیگر ایئرلائنز) نے اسی روٹس پر معمول سے کہیں زیادہ کرایوں پر نشستیں پیش کیں۔ریگولیٹر نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسابقتی ایکٹ کی دفعات ۴ (۲)( اے )(آئی) اور ۴ (۲)( بی )(آئی) کی خلاف ورزی کا تعین کرے اور۹۰؍ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔