• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سب کا خیال رکھتے رکھتے خود کو بھول نہ جائیں

Updated: November 02, 2026, 4:52 PM IST | Tabassum Momin | Bhiwandi

جب عورت مسلسل اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے اندر چڑچڑاپن، اداسی، غصہ اور ذہنی تناؤ بڑھنے لگتا ہے۔ وہ جو کام پہلے محبت اور خلوص سے کرتی تھی، اب وہ کام اس کیلئے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ یاد رکھیں ایک پُرسکون خاتون احسن طریقے سے گھر سنبھال سکتی ہے، اس لئے اپنی ذات کو فراموش نہ کریں۔

Household chores are important, but it is not right to neglect oneself in the process. Image: INN
گھریلو کام کاج اہمیت رکھتے ہیں مگر اس درمیان اپنی ذات کو فراموش کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تصویر: آئی این این

صبح کی پہلی کرن پھوٹنے سے پہلے ہی گھر کی فضا میں ایک ہلکی سی آہٹ ابھرتی ہے۔ یہ گھر کی اس عورت کے قدموں کی آواز ہوتی ہے جو اپنے بچوں، شوہر اور پورے خاندان کی آسائش کے لئے اپنے دن کا آغاز سب سے پہلے کرتی ہے۔ سورج کی روشنی ابھی کھڑکیوں سے اندر بھی نہیں آئی ہوتی کہ اس کے ہاتھ کچن کے برتنوں اور چولہے کی گرمی کے ساتھ مصروفِ عمل ہو چکے ہوتے ہیں۔ بچوں کو نیند کی آغوش سے بیدار کرنا، ان کے لئے گرم ناشتہ تیار کرنا، ان کے اسکول کے لباس کو درست کرنا اور ان کے بستوں اور لنچ باکسز کو ترتیب دینا، یہ سب اس کے روزمرہ کا ایک ایسا غیر محسوس حصہ بن چکا ہوتا ہے جسے اکثر باقی گھر والے ایک قدرتی عمل سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بچے اسکول کے لئے روانہ ہوتے ہیں اور شوہر اپنے کام پر نکل جاتے ہیں، لیکن عورت کے لئے کام کی یہ شروعات ابھی صرف پہلا قدم ہوتی ہے۔

اس کے بعد شروع ہوتا ہے بے انتہا اور لامتناہی گھریلو کاموں کا ایک ایسا سلسلہ جو رات کی تاریکی تک جاری رہتا ہے۔ گھر کی صفائی، جھاڑو پونچھا، بکھری ہوئی چیزوں کو ان کی جگہوں پر ترتیب دینا، دوپہر اور رات کے کھانے کی فکر کرنا، سبزیوں کی کٹائی، کپڑوں کی دھلائی، برتنوں کی صفائی اور پھر شام کو بچوں کو اسکول سے واپس لا کر ان کے ہوم ورک میں مدد کرنا.... یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ اگر اسے کاغذ پر لکھا جائے تو شاید صفحات ختم ہو جائیں لیکن کام کی تفصیل ختم نہ ہو۔ اس تمام تر مصروفیات کے دوران وہ عورت صرف ایک ڈیوٹی مشین کی طرح ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور کچن سے صحن تک چکر کاٹتی رہتی ہے۔ اس مسلسل بھاگ دوڑ میں اسے نہ تو گھڑی دیکھنے کی فرصت ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے وجود کا احساس کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مراکشی رائل گلیم؛ خاص فنکشن کے لئے موزوں ہے

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس تمام تر خدمت اور دیکھ بھال کے دوران وہ اپنی سب سے بنیادی اور انسانی ضرورتوں کو بھی پس ِ پشت ڈال دیتی ہے۔ کتنی ہی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسے شدید پیاس لگتی ہے لیکن وہ کام نپٹانے کے چکر میں پانی پینا ہی بھول جاتی ہے۔ کھانے کا وقت ہو جاتا ہے لیکن وہ بچوں کو کھانا کھلانے اور کچن کی صفائی میں اس قدر مگن ہوتی ہے کہ خود ٹھنڈا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے یا جلدی میں دو نوالے نگل کر دوبارہ کام پر لگ جاتی ہے۔ اگر اس کے جسم میں کہیں درد ہو، ذہن پر عجیب بے چینی طاری ہو یا تھکن سے قدم بوجھل ہو رہے ہوں، تب بھی وہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنے درد کو دبائے رکھتی ہے اور اپنے آرام کو آگے کے لئے ٹال دیتی ہے۔ اس کی اپنی خواہشات، اس کے چھوٹے چھوٹے شوق اور پرسکون لمحات دن بہ دن، ہفتہ بہ ہفتہ اور مہینہ بہ مہینہ التوا کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عورت کی اس بے لوث قربانی کو اکثر ایک ’عظیم عورت‘ کا لقب دے کر سراہا تو جاتا ہے، لیکن اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کی قیمت پر اس قربانی کا تقاضا کرنا ایک گہری ناانصافی ہے۔ یہ تصور عام کر دیا گیا ہے کہ ایک اچھی ماں یا بہترین بیوی وہی ہے جو اپنے تمام احساسات، خواہشات اور وجود کو خاندان کی قربان گاہ پر نچھاور کر دے۔ اگر کوئی عورت اپنے لئے دن میں ادھا گھنٹہ بھی نکالنے کی کوشش کرے یا تھکن کا اظہار کرے تو اسے عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جاتا ہے یا اس کے اندر خود ہی ایک نام نہاد جرم کا احساس پیدا کر دیا جاتا ہے۔ یہ احساسِ جرم عورت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے اور وہ خود کو ہر روز نظر انداز کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

مسلسل نظر اندازی اور خود کو بھول جانے کا یہ رجحان نہ صرف عورت کی جسمانی صحت کے لئے تباہ کن ہے بلکہ اس کی ذہنی اور جذباتی صحت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اپنی ذات کا خیال رکھنا کوئی خود غرضی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی بنیادی اور ضروری ذمہ داری ہے۔ جس طرح ایک ہوائی جہاز میں ایمرجنسی کے وقت کہا جاتا ہے کہ دوسروں کو آکسیجن ماسک پہنانے سے پہلے اپنا ماسک پہنیں، بالکل اسی طرح ایک عورت کا اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے کے لئے خود صحتمند، پرسکون اور خوش رہنا ضروری ہے۔ اگر ایک ماں یا بیوی خود اندر سے خالی اور تھکی ہوئی ہوگی تو وہ دوسروں کو خوشی اور سکون کیسے بانٹ سکے گی؟ اپنی ذات کے لئے چند لمحات نکالیں، گرم چائے کا ایک کپ سکون سے بیٹھ کر پئیں، کھلی ہوا میں چند قدم چہل قدمی کریں، کوئی پسندیدہ کتاب پڑھیں یا صرف چند منٹ کے لئے آنکھیں بند کر کے آرام کریں۔ خواتین عزم کریں کہ وہ اپنی ذات کو روزمرہ کی ترجیحات کی فہرست میں ضرور شامل کریں گی۔ گھر کے کام کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس لئے اپنی ذات اور صحت کو پہلے ترجیح دیں۔ اپنے شوہر، بچوں اور گھر والوں کو بھی یہ تربیت دینی چاہئے کہ وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹائیں اور گھر کی عورت کو اس کا ذاتی وقت فراہم کریں۔ یہ ایک مثبت اور صحتمند خاندانی نظام کی نشانی ہے جہاں ہر فرد کی ذات کا احترام کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK