کانگرس کی قیادت میں اپوزیشن کی کم و بیش دو درجن جماعتوں کی مہا رَیلی جو اتوار کو رام لیلا میدان پر منعقد کی گئی، اپنے آپ میں بڑی شاندار اور جاندار تھی، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 4:48 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
کانگرس کی قیادت میں اپوزیشن کی کم و بیش دو درجن جماعتوں کی مہا رَیلی جو اتوار کو رام لیلا میدان پر منعقد کی گئی، اپنے آپ میں بڑی شاندار اور جاندار تھی، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔
کانگرس کی قیادت میں اپوزیشن کی کم و بیش دو درجن جماعتوں کی مہا رَیلی جو اتوار کو رام لیلا میدان پر منعقد کی گئی، اپنے آپ میں بڑی شاندار اور جاندار تھی، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ جس کو ہے (مثلاً بی جے پی کے ترجمان) دراصل اس کو بھی نہیں ہے۔ وہ زبان سے تسلیم کرنے کو بھلے ہی تیار نہ ہو لیکن اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہوگا کہ رام لیلا میدان بھرا ہوا تھا۔ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ایک روز پہلے ہی لوگ وہاں پہنچ گئے تھے اور پھر جو ق در جوق پہنچتے رہے۔ دہلی کے اس تاریخی میدان پر لکھی گئی نئی تاریخ پر اور بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن اسی واقعہ کو موضوع بنانا ٹھیک نہیں۔ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔
اس کو ایک روز پہلے کے اُس اجلاس سے جوڑ کر دیکھنا چاہئے جسے سہولت کیلئے مہا اجلاس کہا جاسکتا ہے۔ یہ اجلاس کھرگے کی رہائش گاہ پر گیانیش کمار کے مواخذہ کیلئے برپا کیا گیا۔ اس میں اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے اراکین پارلیمان شریک ہوئے۔ بڑی کارگر حکمت عملی کے تحت، پہلے دن کے اجلاس کی دوسرے دن توسیع کی گئی۔ پہلے دن اراکین پارلیمان اور سول سوسائٹی کے لوگ اور ایسے افراد شریک ہوئے جو ووٹ سے محروم کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے:بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج کا پیغام
دوسرے دن اپوزیشن کی پارٹیوں کے کارکنان اور ایسے عام لوگوں کا جم غفیر تھا جو ووٹ چوری کو آئین پر حملہ اور عوام کے جمہوری حق پر قدغن کے روپ میں دیکھ رہے ہیں اور اسے سنگین مسئلہ مانتے ہیں۔ سنیچر کے عوامی مواخذہ نے اتوار کی مہا رَیلی کیلئے زبردست ماحول بنایا۔ ہم نہیں کہتے کہ پہلے دن کی وجہ سے دوسرے دن مجمع بڑھا مگر یہ ضرور کہتے ہیں کہ پہلے دن کی وجہ سے دوسرے دن کا جوش و خروش بڑھا۔
دونوں دن ایک ہی موضوع چھایا رہا۔ مقصد بھی وہی تھا۔ اس طرح پورے ملک نے دیکھا کہ اپوزیشن متحد ہے اور عوام بھی متحد ہیں۔ وہ جان رہے ہیں کہ ووٹ چوری کسی ایک حلقے کا مسئلہ نہیں ہے، کسی ایک طبقے اور فرقے کا مسئلہ نہیں ہے اور کوئی ایک سیاسی جماعت ہدف نہیں ہے۔ اس سے سب متاثر ہیں۔ جو لوگ آج متاثر نہیں ہیں وہ کل ہو سکتے ہیں۔ عوام یہ بھی جان رہے ہیں کہ اس کا مقصد ملک میں یک جماعتی نظام قائم کرنا ہے۔ اس کا مقصد اپوزیشن کو بے اثر کرنا ہے۔ یعنی ملک کے جمہوری نظام کی روح کو ختم کرنا اور انتخابات کو بے معنی بنا دینا ہے۔ اپوزیشن، سول سوسائٹی، طلبہ تنظیموں، وکلاء، سماجی تنظیموں اور کانٹینٹ رائٹروں کو مبارکباد دی جانی چاہئے کہ انہوں نے ووٹ چوری کو اس طرح سمجھایا کہ عوام میں بیداری جیسی بیداری پیدا ہوئی اور حکمراں جماعت کے حامی بھی پریشان ہوئے کہ یہ تو خطرناک ہے۔ راہل نے یہ کیوں کہا کہ یہ سب کا مارچ اور سب کی ریلی ہے۔ اُنہیں یقیناً یہ اطلاع ہوگی کہ اس کی وجہ سے حکمراں جماعت کے حامی بھی متفکر ہیں۔ بہرکیف، یکے بعد دیگرے دو دن تک ووٹ چوری کی مہم کو چہار جانب موضوع گفتگو بنائے رکھنے میں اپوزیشن کی کامیابی یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ اس مہم کا اثر اپوزیشن کی انتخابی مہم پر بھی پڑے گا۔ یہاں شیر و شکر دکھائی دینے والے وہاں بھی شیر و شکر رہیں گےاور مل جل کر الیکشن جیتیں گے۔