ہندی سنیما کے معروف نغمہ نگار اوراداکار گلشن باورا کااصل نام گلشن کمار مہتا تھا، ان کی پیدائش ۱۲؍اپریل ۱۹۳۷ء کو غیرمنقسم ہندوستان کے شیخوپورہ(اب پاکستان)میںہوئی۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 12:31 PM IST | Mumbai
ہندی سنیما کے معروف نغمہ نگار اوراداکار گلشن باورا کااصل نام گلشن کمار مہتا تھا، ان کی پیدائش ۱۲؍اپریل ۱۹۳۷ء کو غیرمنقسم ہندوستان کے شیخوپورہ(اب پاکستان)میںہوئی۔
ہندی سنیما کے معروف نغمہ نگار اوراداکار گلشن باورا کااصل نام گلشن کمار مہتا تھا، ان کی پیدائش ۱۲؍اپریل ۱۹۳۷ء کو غیرمنقسم ہندوستان کے شیخوپورہ(اب پاکستان)میںہوئی۔ان کے والدکا تعمیرات کاکاروبار تھا اور ان کے اس وقت کے خاندان میں لابھ چند مہتا، روپ لال مہتا اور چمن لال مہتا کے والد شامل تھے، اتفاق سے ان کے دونوں خاندان تقسیم کےفسادات کا شکار ہوگئے جہاں نوجوان گلشن نے اپنےوالد اور اپنے چچیرے بھائی کو لابھ چند مہتا کی حویلی میں اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا۔ ان کی بڑی بہن جے پور میں رہتی تھیں لہٰذا انہوں نے بھائیوں کو جے پور بلا لیا اور وہیں ان کی پروش ہوئی۔ ان کےبھائی کو ملازمت ملنے کے بعد،وہ دہلی چلے گئے، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کے زمانے میں ہی انہوں نے نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔گلشن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کیلئے جدوجہدکرنی پڑی،ابتدا میں انھوں نے اپنی ملازمت جاری رکھی۔ کلیان جی(کلیان جی- آنند جی کے)، جو اس وقت کلیان جی ویرجی شاہ کے نام سے جانے جاتے تھے، نے انہیں پہلا گانا فلم چندر سینا (۱۹۴۹ء)میں ’میں کیا جانو کہاں لگے یہ ساون متوالا رے‘لکھنے کا موقع دیا، جسے لتا منگیشکر گایا تھا۔کلیان جی آنند جی نے ایک ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں مینا کماری اور بلراج سہانی کی اداکاری سے سجی فلم ’سٹہ بازار‘میں انہیں کام کرنے کا موقع دیا۔ اس کیلئے انہوں نے ’تمہیں یاد ہوگا، کبھی ہم ملے تھے‘لکھا جسے لتا منگیشکر اور ہیمنت کمار نے گایا تھا۔ اس کے علاوہ محمد رفیع کی آواز میں ریکارڈ ہونے والاگانا’آکڑےکا دھندہ‘ اورہیمنت کمار کی آواز میں’چاندی کے چند ٹکڑوں کے لیے‘لکھا تھا جوبہت ہٹ ہوا۔ اس فلم کے ڈسٹری بیوٹر شانتی بھائی پٹیل نےانہیں باورا کا عرفی نام دیا تھا۔ بعد میں پوری فلم انڈسٹری انہیں اسی نام سے پکارنے لگی۔انہوں ہندی فلم انڈسٹری میں اپنی ۴۹؍سالہ خدمات کے دوران تقریباً ۲۵۰؍گانے لکھے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کی بایوپک کا برلن میں پریمیر، خاندان کی شرکت توجہ کا مرکز
انہوں نے کلیان جی آنند جی کی موسیقی کی ہدایت کاری میں ۶۹؍گانے لکھے جبکہ آر ڈی برمن کے ساتھ ۱۵۰؍گانےلکھے۔انہوں نے کھیل کھیل میں (۱۹۷۵ء) ، قسمیں وعدے (۱۹۷۸ء)اور ستے پہ ستہ (۱۹۸۲ء)،’صنم تیری قسم‘،’اگر تم نہ ہوتے‘،’یہ وعدہ رہا‘، ’ہاتھ کی صفائی‘ اور ’رفو چکر‘جیسی فلموں کے لیے گانے لکھے۔انہیں اپکار (۱۹۶۸ء)میں’میرے دیش کی دھرتی‘ اور زنجیر (۱۹۷۴ء) میں ’یاری ہے ایمان میرا‘ جیسے گانوں کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے،ان دونوں نغموں نے انھیں فلم فیئر کا بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ دلایا۔ بعدمیںوہ ۱۹۷۳ءکی بناکاگیت مالا کی سالانہ فہرست میںبھی سرفہرست رہے۔وہ تقریباً۲۳؍فلموں میں معاون اداکار کے طور پر نظر آئے۔ان کی آخری ہٹ فلم حقیت (۱۹۹۵ء)تھی۔ ان کی آخری ریلیز ظلمی(۱۹۹۹ء)تھی۔ان کی دیگر فلموں میں قربانی رنگ لائے گی، حقیت، لاٹ صاحب، میدان جنگ، اندراجیت اور چور پہ مور شامل ہیں۔ انہوں۷؍برسوں تک انڈین پرفارمنگ رائٹس سوسائٹی کے بورڈ کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا ۔گلشن باورا کا طویل علالت کے بعد۷؍اگست کو پالی ہل، ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے ۷۲؍برس کی عمر انتقال ہوا۔ ان کی خواہش کے مطابق ان کی لاش جے جے اسپتال کو عطیہ کی گئی۔