Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور نئے سرے سے جوہری مذاکرات شروع کرنے پر عارضی معاہدہ

Updated: May 29, 2026, 8:06 PM IST | Washington/Tehran

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، عارضی معاہدے کے تحت ایران کو ۳۰ دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی اور آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے سے گریز کرنا ہوگا۔ اس کے بدلے، امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی کو بتدریج کم کرے گا اور تہران پر پابندیوں میں نرمی لائے گا۔

Donald Trump and Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پیزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ بندی میں ۶۰ دنوں کی توسیع اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے کیلئے ایک عارضی معاہدہ طے پایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یادداشتِ تفاهم (MoU) مسودے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ابھی تک اس کیلئے حتمی منظوری نہیں دی ہے۔

اس سے قبل، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کی شام کو تصدیق کی تھی کہ مذاکرات کاروں نے نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن مزید بتایا تھا کہ یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ آیا ٹرمپ بالآخر اس معاہدے پر دستخط کریں گے یا نہیں۔ وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم زبان کے چند نکات پر بحث و تکرار کر رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیوں پر بات چیت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ہوائی اڈے پرامریکی طیاروں کی موجودگی سے محکمہ کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، عارضی معاہدے کے تحت ایران کو ۳۰ دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی اور آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے سے گریز کرنا ہوگا۔ اس کے بدلے، امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی کو بتدریج کم کرے گا اور تہران پر پابندیوں میں نرمی لائے گا، جس سے ایران کے تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے گا۔ جاری مذاکرات کے باوجود، امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی فوج کے تیل کی فروخت کے نیٹ ورک کو نشانہ بناتے ہوئے اضافی پابندیوں کا اعلان کیا۔

مرکزی حل طلب مسائل میں سے ایک ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔ بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق، ایران کے پاس ۶۰ فیصد پاکیزگی تک افزودہ کیا گیا تقریباً ۹ء۴۴۰ کلوگرام یورینیم موجود ہے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے قابل مواد کے انتہائی قریب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی ویزا کے ’’انتظار کے اوقات‘‘ میں ریکارڈ اضافہ

ایران کا مؤقف؛ یادداشتِ تفاهم ابھی حتمی نہیں ہوئی

ایرانی میڈیا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ معاہدہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کا متن ابھی زیرِ بحث ہے اور اسے حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایران نے پاکستانی ثالثوں کو یہ اطلاع نہیں دی ہے کہ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد تہران کی طرف سے باضابطہ طور پر کوئی بھی اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK