امریکی اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ نے اسرائیل کو مصر اور ترکی پر حملے کا مشورہ دیا ہے،ایک انٹرویو میں اس نے کہا کہ نے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 29, 2026, 10:04 PM IST | Tel Aviv
امریکی اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ نے اسرائیل کو مصر اور ترکی پر حملے کا مشورہ دیا ہے،ایک انٹرویو میں اس نے کہا کہ نے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
اسرائیلی-امریکی جاسوس جوناتھن پولارڈ نے مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل مستقبل قریب میں مصر اور ترکی پر حملہ کر سکتا ہے۔نیوز آؤٹ لیٹ اروتز شیوا کے پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے، پولارڈ نے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اس نے کہا، ’’مجھے اتنا یقین نہیں ہے کہ ترکی کے ساتھ ہمارا اتنا آسان مقابلہ ہوگا جتنا ایران کے ساتھ رہا ہے۔ہمیں اگلی جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا، جو شاید ترکی اور مصر کے خلاف ہوگی۔ طوفان آرہا ہے۔‘‘انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ شام میں ترکی کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کو ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی اجازت نہ دے جو اسرائیلی افواج کے قبضے میں ہیں، کیونکہ اس سے ترکی ہماری سرحد پرآجائے گا۔
واضح رہے کہ پولارڈ نے۱۹۸۴ء میں اسرائیل کو امریکی راز فراہم کرنے پر۳۰؍ سال جیل میں گزارے، اور ۲۰۱۵ءمیں رہائی کے بعد امریکہ چھوڑ کر اسرائیل چلا گیا۔ اسرائیل میں رہائش اور شہریت حاصل کرنے کے بعد، پولارڈ قومی سلامتی کے وزیر اتامار بین گویر کاحامی اور دوست رہاہے۔اس کے علاوہ وہ اسرائیل کے ذریعے غزہ میں کی جارہی فلسطینیوں کی نسل کشی کا بھی حامی رہا ہے۔حالانکہ مصر اور ترکی دونوں کے دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات رہے ہیں، لیکن غزہ میں نسل کشی کے باعث گزشتہ چند سالوں میں یہ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے ۷؍ اکتوبر سے غزہ میں جارحیت کا آغازکیا تھا، اور بمباری کرکے پورے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا،اس کے علاوہ ۹۰؍ فیصد شہری نظام کو تباہ کردیا۔ فلسطینیوں کی اس نسل کشی کی دنیا کے بیشتر ممالک نے مذمت کی، اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ عوام کا بڑھتا دباؤ دیکھ کر متعدد ملکوں کے سربراہان نے بھی اسرائیل کی اس حیوانیت کی مذمت کی۔ اس میں ترکی اور مصر بھی شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل اپنے خلاف آواز کو اپنے وجود کیلئے خطرہ قرار دیتا آیا ہے، پولارڈ کا یہ بیان اسی جانب اشارہ ہے۔