دہلی ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ قاسم کے ساتھ تقریباً دو ماہ تک رہنے کے دوران خاتون کے پاس شور مچانے یا مدد مانگنے کے کئی مواقع تھے لیکن اس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اس کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ خوشی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔
EPAPER
Updated: May 29, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ قاسم کے ساتھ تقریباً دو ماہ تک رہنے کے دوران خاتون کے پاس شور مچانے یا مدد مانگنے کے کئی مواقع تھے لیکن اس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اس کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ خوشی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے ریاست کے ایک بِندی فروش محمد قاسم کو ۲۰۰۴ء میں ایک ہندو خاتون سے شادی کے بعد اغوا اور عصمت دری کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ خاتون نے اپنی مرضی سے قاسم کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی، لیکن بعد میں سماج اور والدین کے دباؤ میں آ کر اپنے بیانات بدل دیئے۔ جسٹس وِمل کمار یادو نے قاسم کو ۲۰۰۸ء میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا، جس سے اس ۱۸ سالہ قانونی لڑائی کا خاتمہ ہوگیا۔ اس دوران قاسم نے تقریباً دو سال جیل میں گزارے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، قاسم اور مذکورہ ہندو خاتون ۲۰۰۴ء میں ایک ساتھ دہلی سے نکلے اور مغربی بنگال کے علاقے آسنسول پہنچے، جہاں انہوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرلی۔ ان کی شادی جولائی ۲۰۰۴ء میں اس وقت کے ضلع بردوان کے علاقے کلٹی (Kulti) میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے اپنے ابتدائی بیانات میں، خاتون نے مستقل طور پر یہی کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے قاسم کے ساتھ گئی تھی، اپنی مرضی سے قاسم کے ساتھ شادی کی تھی اور اسی کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ بیانات ہر اہم پہلو سے قاسم کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عیدالاضحیٰ پر گونجا بھائی چارے اور محبت کا پیغام
تاہم، بعد میں ٹرائل کے دوران، خاتون نے قاسم پر اغوا اور عصمت دری کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں قاسم کو ۲۰۰۸ء میں سزا سنائی گئی۔ عدالت نے خاتون کی بعد کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ گواہی ”کسی قسم کے سماجی یا والدین کے دباؤ“ کے تحت دی گئی تھی۔ بنچ نے کہا کہ خاتون اپنی مرضی سے قاسم کے ساتھ گئی تھی اور اس نے خوشی سے اس شادی کو قبول کیا تھا۔
عدالت کے سامنے ایک اہم مسئلہ شادی کے وقت خاتون کی عمر کا تھا۔ اس کے والدین نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت وہ نابالغ تھی۔ طبی شواہد بشمول آسیفیکیشن ٹیسٹ اور اسکول کے ریکارڈ پر بھروسہ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ متعلقہ وقت پر خاتون کی عمر تقریباً ۱۸ سال تھی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ۲۰۰۴ء میں لاگو قانون کے تحت، عصمت دری کے معاملات میں رضامندی کی عمر ۱۶ سال تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہاپوس سے کیسر تک کو جھٹکا:جاپان نے ہندوستانی آموں پر پابندی عائد کردی
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سفر کے دوران اور قاسم کے ساتھ تقریباً دو ماہ تک رہنے کے دوران خاتون کے پاس شور مچانے یا مدد مانگنے کے کئی مواقع تھے لیکن اس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اس کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ خوشی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔ وسیع تر سماجی تناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے کہا کہ بین المذاہب تعلقات کو اکثر ”بکھرے ہوئے، طبقوں میں بٹے ہوئے اور گہرے منقسم“ معاشرے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان گٹھ جوڑ کو اکثر منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد قاسم نے کہا کہ وہ دونوں رشتے میں تھے اور خاندانی مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے شادی کی تھی۔ ان کے وکیل ثمر سنگھ کچھواہا نے اس کیس کو دو باہمی رضامندی رکھنے والے بالغ نوجوانوں کا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ قاسم نے تمام الزامات سے پاک ہونے سے قبل تقریباً دو دہائیاں مجرمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنے میں گزاریں۔