Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنس راج بہل کی موسیقی میں پنجاب کی مٹی کی خوشبوہوتی تھی

Updated: May 20, 2026, 9:59 AM IST | Agency | Mumbai

ہنس راج بہل ہندوستان کے اُن موسیقاروں میں شمار کئے جاتےہیں جنہوں نے ہندوستانی فلمی موسیقی کو ایک خاص لوک رنگ، مٹھاس اور سادگی عطاکی۔

Hans Raj Bahl`s Music Is Still Heard Today.Photo:INN
ہنس راج بہل کی موسیقی آج بھی سنی جاتی ہے-تصویر:آئی این این
ہنس راج بہل ہندوستان کے اُن موسیقاروں میں شمار کئے جاتےہیں جنہوں نے ہندوستانی فلمی موسیقی کو ایک خاص لوک رنگ، مٹھاس اور سادگی عطاکی۔ وہ ایسے دور کے موسیقار تھے جب فلمی گیت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ جذبات، تہذیب اور کلاسیکی روایت کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہنس راج بہل نے اپنی دھنوں میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو، لوک موسیقی کی شیرینی اور ہندوستانی راگوں کی گہرائی کو اس خوبصورتی سے سمویا کہ ان کے کئی نغمے آج بھی موسیقی کے سنجیدہ شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
ہنس راج بہل ۱۹؍ نومبر۱۹۱۶ءکو شیخوپورہ(موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے، جو اُس زمانےمیں متحدہ ہندوستان کا ایک  علاقہ تھا۔ انہوں نے ابتدائی عمر ہی سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی تھی۔ان کا رجحان خاص طور پر پنجاب کی لوک موسیقی کی طرف تھا، جس نے بعد میں ان کی موسیقی کی شناخت قائم کی۔
فلمی دنیامیںقدم رکھنے سےپہلے وہ ریڈیو اور اسٹیج سے بھی وابستہ رہے۔انہوں نے موسیقی کی تربیت کے ساتھ ساتھ کئی لوک دھنوں پر کام کیا۔ تقسیم ہند کے بعدجب لاکھوں لوگوں کی طرح انہیں بھی ہجرت کرنی پڑی تو وہ ممبئی آگئے۔ اس دور میں بے شمار فنکاروں کی زندگیاں بکھر گئیں، مگر ہنس راج بہل نے اپنے فن کے ذریعے دوبارہ اپنی شناخت قائم کی۔ممبئی میں ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ فلمی صنعت میں پہلے ہی بڑے بڑے موسیقار موجود تھے، مگر ہنس راج بہل نے اپنی الگ طرز کی بدولت جلد ہی توجہ حاصل کرلی۔ ان کی موسیقی میں ایک سادہ مگر دلکش کیفیت ہوتی تھی۔ وہ بھاری آرکسٹرا کے بجائے دھن کی روح پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔
 
 
۱۹۴۰ءاور ۱۹۵۰ءکی دہائی میں انہوں نے متعدد فلموں کیلئے موسیقی ترتیب دی۔ چنریا،چکوری،کروٹ اورسکندراعظم جیسی فلموں میں ان کی موسیقی کو بے حد پسند کیا گیا۔ ان کے گیتوں میں پنجاب کی لوک دھنوں کا اثر نمایاں نظر آتا تھا۔ہنس راج بہل نےاُس دور کے تقریباً تمام بڑے گلوکاروں کے ساتھ کام کیا۔ محمد رفیع،لتا منگیشکر،آشا بھوسلے،ثریا اور مکیش جیسے عظیم فنکاروں نے ان کی دھنوں کو اپنی آواز دی۔ان کے کئی گیت بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی موسیقی کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں تصنع کم اور خلوص زیادہ ہوتا تھا۔ وہ گیت کو سادہ رکھتے تھے مگر اس کی تاثیر گہری ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گیت سننے والوں کے دل میں اتر جاتے تھے۔
 
 
وقت کے ساتھ فلمی موسیقی کے رجحانات بدلتے گئے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد نئے موسیقاروں اور جدید طرز کی موسیقی نے جگہ بنانی شروع کردی، جس کے باعث ہنس راج بہل کی موجودگی کچھ کم ہوتی گئی۔اس کے باوجود ان کے فن کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ موسیقی کےسنجیدہ شائقین آج بھی ان کے کام کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہنس راج بہل نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ موسیقی کو وقف کردیا تھا۔ان کی دھنوں میں ایک ایسی سادگی تھی جو آج کے شور شرابے والے دور میں کم دکھائی دیتی ہے۔۲۰؍مئی ۱۹۸۴ءکو ہنس راج بہل اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی موسیقی آج بھی زندہ ہے۔ وہ اُن موسیقاروں میں شامل ہیں جنہوں نے شہرت سے زیادہ فن کی سچائی کو اہمیت دی۔ ان کے نغموں میں نہ صرف ایک دور کی خوشبو محفوظ ہے بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی مٹھاس بھی سنائی دیتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK