نرمداکے کنارے آباد یہ قدیم شہر صدیوں سے مسافروں،راجاؤں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا آیا ہے، آج یہ مدھیہ پردیش کا سب سے اہم سیاحتی شہرہے۔
بھیڑا گھاٹ میں سنگ مرمر کی چٹانیں دیکھی جاسکتی ہیں-تصویر:آئی این این
وسطی ہندکی سرزمین پر اگر کوئی شہر اپنے اندر تاریخ، فطرت، تہذیب اور روحانیت کو ایک ساتھ سموئے ہوئے ہے تو وہ جبل پور ہے۔نرمداکے کنارے آباد یہ قدیم شہر صدیوں سے مسافروں، سنتوں،راجاؤں اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا آیا ہے۔ کبھی یہ گونڈ راجاؤں کی سلطنت کا اہم مرکز رہا، کبھی مراٹھوں اور انگریزوں کی نگاہ میں اس کی فوجی اہمیت رہی، اور آج یہ مدھیہ پردیش کے سب سے اہم سیاحتی شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں فطرت اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ کہیں سنگ مرمر کی سفید چٹانیں نرمدا کے پانی میں عکس بناتی ہیں،کہیں آبشاروں کا شور جنگلوں کی خاموشی توڑتا ہے، اور کہیں قدیم مندروں کی گھنٹیاں وقت کی گرد میں لپٹی تاریخ سناتی محسوس ہوتی ہیں۔
بھیڑاگھاٹ
جبل پور کا نام آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں بھیڑاگھاٹ کا تصور ابھرتا ہے۔ یہ مقام دراصل نرمدا ندی کے کنارے واقع وہ حیرت انگیز علاقہ ہے جہاں سنگ مرمر کی بلند و بالا چٹانیں ایک قدرتی شاہکار کی صورت میں کھڑی ہیں۔ سفید، ہلکے سبز اور سرمئی رنگوں میں ڈھلی یہ چٹانیں سورج کی روشنی کے ساتھ اپنے رنگ بدلتی محسوس ہوتی ہیں۔ شام کے وقت جب کشتی نرمدا کے پانی پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے انسان کسی خوابیدہ دنیا میں داخل ہوگیا ہو۔ مقامی کشتی بان اپنی مخصوص شاعرانہ انداز میں چٹانوں کی شکلوں کو مختلف نام دیتے ہیں۔ کوئی چٹان ہاتھی جیسی دکھائی دیتی ہے تو کوئی کسی محل کا گمان پیدا کرتی ہے۔ چاندنی رات میں اس مقام کی خوبصورتی اور بھی بڑھ جاتی ہے، اسی لیے یہاں کی ’مون لائٹ بوٹنگ‘ دور دور تک مشہور ہے۔
دھواں دھار آبشار
بھیڑاگھاٹ کے قریب ہی دھواں دھار آبشار واقع ہے، جو نرمدا ندی کا ایک نہایت دلکش آبشار ہے۔ یہاں پانی بلندی سے اس زور کے ساتھ گرتا ہے کہ دور سے دھوئیں جیسا منظر پیدا ہوتا ہے، اسی لیے اسےدھواںدھارکہا جاتا ہے۔ بارش کے موسم میں اس آبشار کا جلال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ پانی کی گرج، اڑتی ہوئی بوندیں، اور چاروں طرف سبزہ ایک ایسا سماں باندھتے ہیں کہ انسان دیر تک وہیں کھڑا رہنا چاہتا ہے۔ اب یہاں رَوپ وے کی سہولت بھی موجود ہے جہاں سے پورا منظر پرندوں کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔
بیلنسنگ راک
قدرتی حسن کے دلدادہ افراد کے لیے بیلنسنگ راک بھی کم حیرت انگیز مقام نہیں۔ یہ ایک ایسی قدرتی چٹان ہے جو دوسری چٹان کے اوپر اس انداز میں ٹکی ہوئی ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ۱۹۹۷ءکے شدید زلزلے میں بھی یہ چٹان اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔ سائنس دان اسے قدرت کا توازن قرار دیتے ہیں جبکہ عام سیاح اسے قدرتی کرشمہ سمجھتے ہیں۔
مدن محل قلعہ
جبل پور کا ذکر مدن محل قلعہ کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ یہ قلعہ گونڈ راجا مدن شاہ نےگیارہویں صدی میں تعمیر کروایا تھا۔ پہاڑی پر واقع یہ قلعہ آج کھنڈر کی شکل اختیار کرچکا ہے، لیکن اس کی دیواریں اب بھی ماضی کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔ یہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ قلعے کے ارد گرد خاموش چٹانیں اور پرانے راستے انسان کو تاریخ کے دریچوں میں لے جاتے ہیں۔
دمنا نیچر ریزرو پارک
اگر کوئی شخص جنگلی حیات اور فطرت سے قریب ہونا چاہے تو دمنا نیچر ریزور پارک ایک بہترین مقام ہے۔ یہ ایک وسیع قدرتی علاقہ ہےجہاں ہرن، مور، بندر اور مختلف پرندے دیکھے جاسکتے ہیں۔ صبح کے وقت یہاں کی فضا نہایت پرسکون ہوتی ہے۔ سائیکلنگ اور نیچر واک کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہ کسی نعمت سے کم نہیں۔
برگی ڈیم
جبل پور کے آس پاس کئی ایسے مقامات بھی ہیں جو نسبتاً کم مشہور ہونے کے باوجود بے حد خوبصورت ہیں۔ برگی ڈیم ان میں شامل ہے۔ نرمدا پر تعمیر کیا گیا یہ ڈیم شام کے وقت سنہری روشنیوں میں نہایت حسین نظر آتا ہے۔ یہاں کروز کی سہولت بھی موجود ہے جہاں سےغروب آفتاب کا نظارہ کیا جاسکتا ہےکیوںکہ پانی کےبیچ سورج ڈوبنے کا منظر انسان کے دل میں دیر تک محفوظ رہتا ہے۔
رانی درگاوتی میوزیم
تاریخ اور آثارِ قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے رانی درگاوتی میوزیم خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں گونڈ سلطنت، قبائلی ثقافت، قدیم مجسموں اور تاریخی نوادرات کا عمدہ ذخیرہ موجود ہے۔ رانی درگاوتی کی بہادری کی داستانیں آج بھی مدھیہ پردیش کی تاریخ کا روشن باب سمجھی جاتی ہیں۔ان کی یاد میں بنایا گیا یہ میوزیم بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔