اوسلو میں وزیراعظم نریندرمودی کی یقین دہانی، کہا: ناروے اور ہندوستان کے درمیان تعاون کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر اسٹورے-تصویر:آئی این این
وزیر اعظم مودی نےہندوستان اور ناروے کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناروے کی کمپنیوں کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں، اسلئے انہیں صاف توانائی، جہاز سازی، سمندری صنعتوں اور صحت ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کیلئے آگے آنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس غذائی تحفظ، کھاد، ماہی پروری اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے بہترین مواقع موجود ہیں۔
ناروے کے دو روزہ دورے پر گئے وزیراعظم مودی نے پیر کی رات ہند، ناروے تجارتی اور تحقیقی سربراہ اجلاس سے خطاب کیا۔بعد ازاں وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کاروباری شعبے اور تحقیقی برادری کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرنا ایک خوشگوار موقع تھا۔انہوں نے کہا کہ ’’اوسلو سٹی ہال میں وزیر اعظم یوناس گاہر اسٹورے اور میں نے ایک تجارتی اور تحقیقی سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ تجارتی شعبے اور تحقیقی دنیا سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت ایک بہترین موقع تھا۔میں نے ہندوستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت میں اپنے خیالات پیش کیے۔ جہاز سازی ایک ایسا شعبہ ہے جو وسیع اور لامحدود امکانات فراہم کرتا ہے۔‘‘
اس چوٹی کانفرنس میں ناروے کے ولی عہد شہزادہ ہاکون کے علاوہ۵۰؍ سے زائد کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران سمیت دونوں ممالک کے تجارتی اور تحقیقی شعبوں کے۲۵۰؍ سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔یہ پروگرام ہند،ای ایف ٹی اے تجارت اور اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے نافذ ہونے کے بعد ہند،ناروے تعلقات میں بڑھتی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعظم مودی نے ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے اسٹیک ہولڈروں سے تجارتی معاہدے کے تحت طے کیے گئے بلند اہداف کے حصول کیلئے کام کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ’’فریقین کے متعلقہ اداروں کو ٹی ای پی اے کے تحت۱۰۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ہدف اور ہندوستان میں۱۰؍ لاکھ روزگار پیدا کرنے کے مقصد کے حصول کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔‘‘انہوں نے ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی، سازگار آبادیاتی صورتحال اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے ملک کو عالمی سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش مقام قرار دیا۔ انہوں نے ناروے کو سمندری معیشت، قابل تجدید توانائی، سبز تبدیلی، اہم معدنیات، اختراعی صنعتوں اور جہاز سازی جیسے شعبوں میں مزید شراکت داری کی دعوت دی، ساتھ ہی پائیدار ترقی اور موسمیاتی اقدامات کے تئیں ہندستان کے عزم کو بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا وسیع حجم، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور موسمیاتی عہد قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تیز توسیع کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے سمندری شعبے میں کاربن اخراج میں کمی، سمندری استحکام اور موسمیاتی مالیات میں ناروے کی مہارت کی بھی تعریف کی۔
وزیر اعظم مودی نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو نئی شراکت داریاں قائم کرنے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ سربراہ اجلاس کے دوران ہندوستانی اور ناروے کی کمپنیوں اور اداروں کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس سے قبل دن میں اوسلو میں چار گول میز مذاکرات منعقد کیے گئے، جن میں صحت خدمات میں اختراع، سمندری تعاون، بیٹری اور توانائی ذخیرہ نظام، ڈیجیٹلائزیشن اور برقی کاری اور ہوا سے توانائی پر توجہ مرکوز کی گئی۔