اداکاری کی دنیامیں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو بچپن میں جب پردے پر نمودار ہوتے ہیں تو دل میں گھرکرلیتے ہیں، اور جب وہی چہرے وقت کے ساتھ نکھرتےہیں تو دیکھنے والے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انہیں سراہتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 09, 2025, 12:08 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
اداکاری کی دنیامیں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو بچپن میں جب پردے پر نمودار ہوتے ہیں تو دل میں گھرکرلیتے ہیں، اور جب وہی چہرے وقت کے ساتھ نکھرتےہیں تو دیکھنے والے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انہیں سراہتے ہیں۔
اداکاری کی دنیامیں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو بچپن میں جب پردے پر نمودار ہوتے ہیں تو دل میں گھرکرلیتے ہیں، اور جب وہی چہرے وقت کے ساتھ نکھرتےہیں تو دیکھنے والے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انہیں سراہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہنسیکا موٹوانی ہے۔
ہنسیکا موٹوانی کاجنم۹؍اگست۱۹۹۱ءکوممبئی میں ہوا۔ اُن کا تعلق ایک سندھی ہندوخاندان سے ہے۔ ان کے والد پردیپ موٹوانی ایک کاروباری شخص ہیں جبکہ والدہ منجو موٹوانی ایک ماہرِ امراض جلد (ڈرمٹولوجسٹ)ہیں۔ بچپن سے ہی ہنسیکا میں فنکارانہ جھلک دکھائی دیتی تھی۔ تعلیم کا آغاز پودار انٹرنیشنل اسکول، ممبئی سے ہوا، اور کم عمری ہی میں انہوں نے شو بز میں قدم رکھ دیا۔
ہنسیکا موٹوانی کو پہچان سب سے پہلے ٹی وی سیریلز کے ذریعے ملی۔ ’شکا لکا بوم بوم‘ میں اُن کا کردارکرینہ خاص طور پر مقبول ہوا۔ یہ سیریل۲۰۰۰ءکی دہائی میں بچوں کاپسندیدہ شو تھا۔ اس کے بعد’دیش میں نکلا ہوگا چاند‘، ’کرشمہ کا کرشمہ‘ اور کئی دیگر شوز میں انہوں نےبچوں کی معصومیت اور چنچل مزاج کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ہنسیکا کی پہلی فلمی جھلک بالی ووڈ فلم’کہو نہ پیار ہے‘ میں بطور چائلڈ آرٹسٹ دکھائی دی، جہاں وہ ایک اسکول کی طالبہ کے کردار میں تھیں۔ لیکن اُن کا سب سےنمایاں بچپن کا رول۲۰۰۳ءکی فلم ’کوئی...مل گیا‘ میں رہا، جہاں وہ پریتی زنٹا کی چھوٹی بہن کے طور پر دکھائی دیں۔ چائلڈ آرٹسٹ سے ہیروئن کا سفر بہت کم اداکاروں کے حصے میں آتا ہے۔ ہنسیکا نے یہ کامیابی صرف ۱۵؍سال کی عمر میں حاصل کر لی جب ۲۰۰۷ءمیں وہ فلم’آپ کا سرور‘میں ہماچل کے خوبصورت نظاروں کے بیچ ہمیش ریشمیا کے ساتھ نظر آئیں۔ اُس وقت ان کی عمر اور ہیروکی عمرکے بیچ کے فرق پر تنازع بھی ہوا، لیکن ہنسیکا نے بڑی خوداعتمادی سے جواب دیا اور اپنے کریئر کی گاڑی آگے بڑھائی۔
جب بالی ووڈ میں آگے کا راستہ ہموار نہ رہا تو ہنسیکا نےساؤتھ انڈین سنیماکارخ کیا، اور یہ فیصلہ ان کے حق میں رہا۔ ان کی پہلی تیلگو فلم ’دیسمدھورو‘(۲۰۰۷ء)سپرہٹ ثابت ہوئی۔ بعد ازاں تمل اور تیلگو سنیما میں انہوں نے’کاندیڈا‘، ’اینگے یم کاڈھل‘، ’اوک کالہ کدم‘، ’ویلاسام‘اور’سنگھم۲؍جیسی کامیاب فلمیں دیں۔ ساؤتھ کے بڑے اداکاروں جیسے وجے، سوریہ، دھنوش اور دیگر کے ساتھ انہوں نے کام کیا۔ ان کی خوبصورتی، رقص میں مہارت اور سادہ سی معصومیت نے انہیں تمل اور تیلگو ناظرین کے دلوں میں جگہ دلا دی۔
۲۰۲۲ءمیں ہنسیکانےسوشل میڈیا پر ایک خوبصورت انداز میں اعلان کیا کہ وہ کاروباری شخصیت سہیل کھتری سے رشتہ ازدواج میں بندھ رہی ہیں۔ ۴؍ دسمبر۲۰۲۲ءکو راجستھان کے جے پور میں ان کی شادی کی تقریبات دھوم دھام سے ہوئیں، جن کی تصاویر اور ویڈیوز میڈیا اور مداحوں کے درمیان خوب وائرل ہوئے۔
اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہنسیکا ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔ وہ کینسر سے لڑنے والے بچوں کے لیے کام کرتی ہیں، اور کئی خیراتی اداروں سے وابستہ ہیں۔ انہیں اپنی والدہ سے انسانیت کی خدمت کا جذبہ وراثت میں ملا ہے۔