تعلیمی سال میں کسی قسم کا مسئلہ پیدا نہ ہو اس لئے اسکولوں کو جاری رکھنے کی اپیل پر غور کرنے کے بعد ہی فیصلہ سنایا جائے گا۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 4:07 PM IST | Nadeem Asran | Malvani
تعلیمی سال میں کسی قسم کا مسئلہ پیدا نہ ہو اس لئے اسکولوں کو جاری رکھنے کی اپیل پر غور کرنے کے بعد ہی فیصلہ سنایا جائے گا۔
میونسپل محکمہ تعلیم نے ملاڈ مغرب کے ۱۴؍ اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بند کرنے اور موجودہ تعلیمی سال میں نئے بچوں کا داخلہ نہ لینے کا نوٹس جاری کیا تھا ۔ تاہم مذکورہ نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے نذیر خان نامی شخص نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہونے اور نوٹس پر روک لگانے کی اپیل کی ہے۔ اس معاملہ پر شنوائی کرتے ہوئے عدالت نے بچوں کے تعلیمی نقصان پر فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم سی ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنانے اتنے برسوں سے اسکولوں کے غیر قانونی ہونے کے باوجود جاری رہنے پر حیرت کا اظہار کیا ۔چیف جسٹس نےمذکورہ معاملہ کو مزید واضح طور پر سمجھنے کیلئے متعلقہ محکموں کو مذکورہ اسکولوں کی قانونی حیثیت ، ۱۴؍ اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کی کل تعداد،تسلیم شدہ تعلیمی بورڈوں سے ان کی وابستگی، اسکولوں کے آغاز کی تاریخ کے علاوہ انہیں نوٹس بھیجنے اور کارروائی کی وجوہات کے ساتھ تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں بھی مسلمانوں کیخلاف فارم ۷؍ کا استعمال
کورٹ نے کہا کہ’’ اسکولوں کے غیر قانونی ہونے اور اب جاکر کارروائی کرکے بند کرنے کی وجوہات کے ساتھ اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ ۱۴؍ اسکولوںکے طلبہ کے موجودہ تعلیمی نقصان کو کیسے روکا جاسکتا ہے اور یہ کہ طلبہ کو موجودہ تعلیمی سال مکمل کرنے کی اجازت دینے کیلئےکیارعایت دی جا سکتی ہے ۔‘‘ ہائی کورٹ نے درخواست گزار نذیر خان کی داخل کردہ عرضداشت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بھی کہا کہ وہ ان حالات کا جائزہ لے گی جن کے تحت متعلقہ حکام نے مبینہ طور پر غیر مجاز اسکولوں کو اس موقع پر اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی جب مذکورہ اسکولوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے ۔
دریں اثناء بی ایم سی کے وکیل پورنیماکانتھاریا نے عدالت کو بتایا کہ اسکولوں کو نوٹس دیتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ نئے طلبہ کو داخلہ نہ دیں، اس کے باوجود ان اداروں نے طلبہ کو داخلہ دیا اور تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ۔ فراہم کردہ اطلاع پر بنچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متعلقہ حکام نے غیر قانونی قرار دیئے جانے والے ۱۴؍ اسکولوں پرکیس بھی درج کرایا ہے۔ کورٹ نے مذکورہ معاملہ پر شہری انتظامیہ کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت کو ۴؍ نومبر تک کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔