Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلجیت دوسانجھ نے ’’ستلج‘‘ بلامعاوضہ کی، فلم عوام تک پہنچانا مقصد تھا: ہنی ٹریہن

Updated: July 08, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai

اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’’ستلج‘‘ (سابقہ نام: پنجاب ۹۵) کے ہدایت کار ہنی ٹریہن نے انکشاف کیا ہے کہ دلجیت نے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی اس فلم میں بغیر کسی معاوضے کے کام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دلجیت اس کہانی سے اتنے متاثر تھے کہ اسکرپٹ پڑھتے ہی فلم کا حصہ بننے پر آمادہ ہو گئے۔

Diljit Dosanjh and Honey Trehan. Photo: INN
دلجیت دوسانجھ اور ہنی ٹریہن۔ تصویر:آئی این این

اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’ستلج‘‘ ایک بار پھر وں میں ہے۔ فلم کے ہدایت کار ہنی ٹریہن نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ دلجیت دوسانجھ نے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی اس فلم میں بغیر کسی معاوضے کے کام کیا۔ ان کے مطابق دلجیت کا مقصد مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک اہم اور حساس کہانی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا تھا۔ ہنی ٹریہن نے بتایا کہ جب انہوں نے فلم کا ابتدائی مسودہ دلجیت دوسانجھ کو سنایا تو اداکار نے فوراً اس کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ ان کے بقول دلجیت نے کہا کہ ’’واہے گرو جی… بس مجھے بتائیں کب اور کہاں آنا ہے، آپ مجھے وہاں پائیں گے۔‘‘ ہدایت کار کا کہنا تھا کہ دلجیت نے نہ صرف فلم کے لیے فوری ہامی بھری بلکہ پوری شوٹنگ کے دوران انتہائی صبر، تعاون اور خلوص کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: روہت صراف کی سیریز ’’مس میچڈ‘‘ کے آخری سیزن کی شوٹنگ شروع

ہنی ٹریہن نے مزید کہا کہ فلم کی تیاری کے دوران کئی مشکلات پیش آئیں، تاہم دلجیت نے کبھی بھی معاوضے یا دیگر مالی معاملات کو موضوع نہیں بنایا۔ ان کے مطابق اداکار اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد اور قربانی کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنا ایک سماجی ذمہ داری ہے، اسی لیے انہوں نے فلم کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’’ستلج‘‘ کو ریلیز کے صرف دو روز بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو (ZEE5) سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد فلم کے متعلق ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ پلیٹ فارم کی جانب سے فلم ہٹانے کی وجہ ’’موجودہ حالات‘‘ کو قرار دیا گیا، تاہم اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے بھی اس معاملے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت قائم بین الوزارتی کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں فلم کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: راج کمار راؤ نے سورو گنگولی کو سالگرہ کا خصوصی تحفہ دیا،فلم ’’دادا ‘‘ کا پہلا پوسٹر شیئر کیا

دوسری جانب دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی (DSGMC) نے اعلان کیا ہے کہ فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے باوجود اسے عوام تک پہنچانے کے لیے مختلف مقامات پر خصوصی عوامی نمائشوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ’’ستلج‘‘، جس کا ابتدائی نام ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا، انسانی حقوق کے معروف کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے۔ فلم میں ان کی اس جدوجہد کو پیش کیا گیا ہے جس کے دوران انہوں نے پنجاب میں مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں اور نامعلوم افراد کی اجتماعی آخری رسومات کے معاملات کو منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی تھی۔ یہی حساس موضوع برسوں سے فلم کی ریلیز میں رکاوٹ بنتا رہا اور اسے متعدد سنسر اعتراضات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: نیہا دھوپیا کی پہلی انٹرنیشنل فلم’’۵۲؍ بلیو‘‘ لندن انڈین فلم فیسٹیول میں دکھائی جائے گی

فلم سے متعلق تازہ پیش رفت نے نہ صرف تفریحی صنعت بلکہ سماجی اور سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب دلجیت دوسانجھ کے بغیر معاوضہ کام کرنے کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، تو دوسری جانب فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال بھی مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK