Updated: July 08, 2026, 5:18 PM IST
| Dublin
آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے اشیاء کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے والا قانون سازی کا بل منظور کر لیا ہے، جو کسی یورپی ملک کی طرف سے اسرائیل کے خلاف اٹھایا گیا اب تک کا سب سے سخت تجارتی اقدام شمار کیا جا رہا ہے۔
غیر قانونی یہودی آباد کار۔ تصویر: ایکس
آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے اشیاء کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے والا قانون سازی کا بل منظور کر لیا ہے، جو کسی یورپی ملک کی طرف سے اسرائیل کے خلاف اٹھایا گیا اب تک کا سب سے سخت تجارتی اقدام شمار کیا جا رہا ہے۔یہ بل ان مصنوعات پر پابندی عائد کرتا ہے جو بعض اسرائیلی بستیوں سے آتی ہیں۔ان میں وہ رہائشی، زرعی، اور تجارتی علاقے شامل ہیں جو اسرائیل کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں سے باہر واقع ہیں۔ اگرچہ آئرلینڈ ایسی پابندی تجویز کرنے والا پہلا ملک تھا، تاہم اسپین نے گزشتہ اکتوبر میں ہی درآمدی پابندیوں کا ایک پیکج نافذ کر دیا تھا۔آئرلینڈ کی مرکز-دائیں اتحادی حکومت، جس نے یہ بل تیار کیا، نے کہا کہ اس کا متن بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کی۲۰۲۴ء کی مشاورتی رائے کے گرد تشکیل دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے نے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم، اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی موجودگی کو بین الاقوامی قانون کے تحت ایک غیر قانونی قبضہ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع
دراصل آئرلینڈ ہمیشہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید تنقید کرنے والوں میں شامل رہا ہے، خاص طور پر اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد۔ جواب میں، اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے ڈبلن میں اپنے سفارت خانے کو بند کرنے کی ہدایت دی، اور آئرلینڈ پر ’’ اسرائیل مخالف پالیسیوں‘‘ کا الزام عائد کیا۔مزید برآں گزشتہ مہینے، آئر لینڈنے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل ا سموٹریچ کو آئرلینڈ میں داخلے سے روک دیا، جس کی وجہ فلسطین کارکنوں کے ساتھ ان کے جابرانہ رویے کو قرار دیا گیا۔ مزید برآں، آئر لینڈمسلسل یوروپ اور اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لینے کی وکالت کرتا رہا ہے، یہ معاہدہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات کا فریم ورک ہے۔اگرچہ یورپی یونین نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو روکنے کے لیے حکمت عملی تلاش کرے گی، تاہم اس اتحاد میں ابھی تک اپنے رکن ممالک کے درمیان اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات نافذ کرنے کے لیے وسیع تر اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ نتیجتاً، آئرلینڈ کی یکطرفہ درآمدی پابندی بڑی حد تک علامتی ہے اور اس کا معاشی اثرنہ ہونے کے برابر ہے۲۰۲۰ء اور۲۰۲۴ء کے درمیان ان علاقوں کے ساتھ کل تجارت، جس میں بنیادی طور پر پھل، سبزیاں، اور لکڑی جیسی اشیاء شامل تھیں، دس لاکھ یورو (ایک اعشاریہ ایک ملین ڈالر) سے بھی کم رہی۔