Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ : ارجنٹائنا اور مصر کے میچ میں وی اے آر کے فیصلے پر شدید تنازع

Updated: July 08, 2026, 4:06 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے راؤنڈ آف ۱۶؍ کے ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا نے مصر کو ۲۔۳؍گول سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ لیونل میسی کی شاندار کارکردگی کی بدولت ارجنٹائنا نے یہ میچ تو جیت لیا، لیکن میچ کے بعد اصل بحث ایک متنازع وی اے آر (VAR) فیصلے پر چھڑ گئی ہے جس نے مصر کو ایک یقینی برتری سے محروم کر دیا۔

Match.Photo:X
فیفا ورلڈ کپ کا میچ۔ تصویر:ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے راؤنڈ آف ۱۶؍ کے ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا نے مصر کو ۲۔۳؍گول  سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ لیونل میسی کی شاندار کارکردگی کی بدولت ارجنٹائنا نے یہ میچ تو جیت لیا، لیکن میچ کے بعد اصل بحث ایک متنازع وی اے آر (VAR) فیصلے پر چھڑ گئی ہے جس نے مصر کو ایک یقینی برتری سے محروم کر دیا۔


تنازع کیا تھا؟
میچ کے دوران جب مصر کو ۰۔۱؍گول  کی برتری حاصل تھی، تو محمد صلاح کے ایک بہترین پاس پر مصری کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے گول کر کے اپنی ٹیم کی برتری دُگنی کر دی۔ تاہم، مصری ٹیم کا جشن اس وقت ادھورا رہ گیا جب ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر نے وی اے آر کے اشارے پر اس گول کو منسوخ کر دیا۔
دوبارہ دکھائے جانے والے مناظر (ری پلے) کے مطابق، مصر کے اس کاؤنٹر اٹیک شروع کرنے سے پہلے، ارجنٹائنا کے پنالٹی ایریا کے باہر مروان عطیہ کا پیر ارجنٹائنا کے دفاعی کھلاڑی لیساندرو مارٹنیز کے پاؤں پر آیا تھا اور انہوں نے شرٹ بھی کھینچی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:راج کمار راؤ نے سورو گنگولی کو سالگرہ کا خصوصی تحفہ دیا،فلم ’’دادا ‘‘ کا پہلا پوسٹر شیئر کیا


قانون کیا کہتا ہے؟
قوانین کے مطابق  وی اے آر پروٹوکول کے تحت ہر گول سے قبل اٹیکنگ پوزیشن فیز کا جائزہ لینا لازمی ہے۔ اگر گول سے پہلے اسی تسلسل میں کوئی فاؤل ہوا ہو، تو گول منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ قانونی طور پر یہ فیصلہ درست قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن فٹبال پنڈتوں اور ماہرین نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق برطانوی گول کیپر اور فاکس اسپورٹس کے تجزیہ کار روب گرین نے سخت الفاظ میں کہا’’۱۰۰؍گز دور کسی کے پیر پر انگلی آ جانے کی وجہ سے وی اے آر کو فٹبال میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ریفری نے خود اس ٹکر کو دیکھا تھا اور فاؤل نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ایک شاندار جوابی حملے پر ہونے والے گول کو اس طرح رد کرنا کھیل کی روح کے خلاف ہے۔‘‘
مشہور کمنٹیٹر اور سابق کھلاڑی جیمی کیراگھر نے بھی اس فیصلے میں تسلسل کی کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ میچ پریمیئر لیگ، لا لیگا یا کسی اور بڑی ٹیم کا ہوتا، تو وی اے آر کے بعد بھی اسے گول ہی برقرار رکھا جاتا۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع


ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے: مصری کوچ کا الزام
میچ کے بعد مصری ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے آرگنائزرز اور آفیشلز پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نےبی ان اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ناانصافی کا شکار، ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور ہم ناانصافی کا شکار ہوئے ہیں۔ کھیل میں کوئی فیئر پلے نظر نہیں آیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ارجنٹائنا کے آخری اور فیصلہ کن گول سے پہلے مصر کو ایک پنالٹی ملنی چاہیے تھی، جسے وی اے آر نے چیک تک نہیں کیا۔ حسام حسن نے یہ سنسنی خیز اشارہ بھی کیا کہ شاید انتظامیہ چاہتی تھی کہ عالمی چیمپئن ارجنٹائنا اور لیونل میسی ٹورنامنٹ میں برقرار رہیں۔ارجنٹائنا ۰۔۲؍گول  کے خسارے سے نکل کر یہ میچ  ۲۔۳؍گول سے جیتنے میں کامیاب رہا، لیکن اس فیصلے نے ایک بار پھر فٹبال کی دنیا میں ٹیکنالوجی کے غیر ضروری استعمال اور کھیل کی اصل روح ( کو پہنچنے والے نقصان پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK