جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے ضمانت نہ دینے کیلئے سہ رکنی بنچ کے مقابلہ ۲؍ رکنی بنچ کے فیصلے پر انحصار کو عدالتی ڈسپلن کے خلاف بتایا،کہا: ’’یو اے پی اے کیس میں بھی ضمانت اصول اور جیل استثنیٰ ہے‘‘
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 11:36 PM IST | New Delhi
جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے ضمانت نہ دینے کیلئے سہ رکنی بنچ کے مقابلہ ۲؍ رکنی بنچ کے فیصلے پر انحصار کو عدالتی ڈسپلن کے خلاف بتایا،کہا: ’’یو اے پی اے کیس میں بھی ضمانت اصول اور جیل استثنیٰ ہے‘‘
دہلی فساد کی ’’وسیع تر سازش ‘‘ کیس میں ماخوذ کئے گئے عمر خالد اور شرجیل امام کیلئے پیر کو اس وقت امید کی کرن نظر آئی جب سپریم کورٹ میں جسٹس اُجّل بھوئیاں اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے انہیں ضمانت نہ دینے کے سپریم کورٹ ہی کی دوسری بنچ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایااور عدالتی ڈسپلن کے خلاف قرار دیا۔ بنچ نے یو اے پی اے کے ایک دوسرے کیس میں ۶؍ سال سے قید سید افتخار اندرابی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یو اے پی اے کے مقدمات میں بھی ’’ضمانت معمول اور جیل استثنیٰ ‘‘ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔
عدالت نےاس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں میں یو اے پی اے کے مقدمات میں شخصی آزادی کے حق کو کمزور کیا گیا ہے۔ جسٹس بھوئیاں اور ناگرتنا کی بنچ نے افتخار اندرابی کو ضمانت پر رہا کرنے کیلئے ۲۰۲۱ء کے ’’کے اے نجیب کیس‘‘ میں سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ کے فیصلے پر انحصار کیا۔ یہ فیصلہ جسٹس سوریہ کانت نے لکھاتھا جو اَب چیف جسٹس آف انڈیا ہیں۔ ان کے ساتھ مذکورہ بنچ میں جسٹس این وی رامنا اور جسٹس انیرودھ بوس تھے۔شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت سے محروم کرنے کیلئےجسٹس اروند کمار اور این وی انجاریہ کی بنچ نے نجیب کیس کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پہلے کے یعنی ۲۰۱۹ء کے’’این آئی اے بنام ظہور احمد وِٹالی‘‘ کیس کے ۲؍رکنی بنچ کے فیصلے پر انحصار کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے ’’کیس لاء‘‘(عدالتی قانون) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں بعد کےفیصلوں کیلئے بطور نظیراس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے جب تک کہ بعد کی کوئی بڑی بنچ اس کو بدل نہ دے۔اس بنیاد پر کسی معاملے میں جو سب سے بعد کا اور بڑی بنچ کافیصلہ ہوگا وہ آئندہ کے فیصلوں میں بطور نظیر استعمال کیا جائےگا۔ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینےسے انکار کرنے کیلئے جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریہ کی بنچ نے ان دونوں اصولوں کو نظر انداز کیا۔ ۲۰۲۱ء میں ’کے اے نجیب کیس‘ میں سہ رکنی بنچ نے یہ اصول قائم کیا تھا کہ طویل قید وبند اور مقدمے کی سماعت کے باقاعدہ آغاز میں تاخیر یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت بھی ضمانت کا جواز ہوگی۔ سہ رکنی بنچ کے طے کردہ اس اصول کو ذاتی آزادی کے حق کے معاملے میں سپریم کورٹ کے موقف میں واضح تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا مگر عمر خالد کے معاملے میں فیصلہ سنانے کیلئے اس سے پہلے کے اورچھوٹی بنچ کے ’این آئی اے بنام ظہور احمد وٹالی کیس ‘ پر انحصار کیاگیا۔