Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایٹمی پلانٹ پر حملہ ہوا توخلیجی ممالک میں زندگیاں تباہ ہونگی

Updated: April 06, 2026, 12:43 PM IST | Tehran

ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا انتباہ، آئی آر جی سی نے کہا کہ جنگ کا دائرہ بڑھا تو یہ خطہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے جہنم بن جائیگا۔

A hoarding in Tehran`s Inqilhab Square, declaring Hormuz a hunting ground, with an Iranian woman holding the national flag. Photo: INN
تہران کے انقلاب اسکوائر پر نصب ہورڈنگ، جس میں ہرمز کو شکار گاہ قرار دیا گیا ہے، ایک ایرانی خاتون قومی پرچم کیساتھ۔ تصویر: آئی این این

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری تنصیبات سے تابکاری کا اخراج ہوا تو خلیجی ممالک میں زندگی ختم ہو جائے گی۔ انادولو خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ ریڈیو ایکٹو تابکاری خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دارالحکومتوں میں زندگی ختم کر دے گی، تہران میں نہیں۔ یہ بیان امریکہ-اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا جو ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ عباس عراقچی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس کے ذریعے کہا کہ یوکرین کے زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملوں پر مغرب کے غم و غصے کو یاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ بوشہر میں جوہری تنصیب پر اب تک ۴؍بار بمباری کر چکے ہیں، ہماری پٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے بھی دشمن کے اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئل انڈیا نے تھار ریگستان سے تیل کی پیداوار بڑھائی

دوسری جانب ایران نے دوٹوک انداز میں امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو پورا خطہ ان کے لیے جہنم بن سکتا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب صرف محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے خطے میں سخت اور وسیع ردعمل سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو زیر کرنے کا خواب اب مخالفین کے لیے ایک خطرناک دلدل بنتا جا رہا ہے جہاں وہ خود پھنس سکتے ہیں۔ واضح ہو کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کو۴۸؍ گھنٹوں کی مہلت دی ہے کہ وہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھول دے بصورت دیگر سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ واضح ہو کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تنازع کے دوران سیٹیلائٹ تصاویر پر پابندی، پلینٹ لیبز نے اشاعت روک دی

اسرائیل کی اگلے ہفتے ایران کے توانائی مراکز پر حملے کی تیاری
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اسرائیل ایران کے توانائی مراکز پر بڑے حملوں کی تیاری مکمل کر چکا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق حملے کا حتمی فیصلہ اب امریکہ کے گرین سگنل سے مشروط ہے۔ عہدیدار نے انکشاف کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے منظوری مل گئی تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایران کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل نے ایران کے تیل اور گیس کے مراکز پر حملہ کیا تو نہ صرف جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ خطے میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش میں مبتلا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK