Updated: May 23, 2026, 7:09 PM IST
| New Delhi
دیپکے نے وضاحت کی کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں سے باضابطہ طور پر احتجاج کرنے کی اپیل نہیں کی ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت پوری تحریک کو بدنام کرنے کیلئے کسی ایک ناخوشگوار واقعے کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے ”تمام کاکروچوں سے پرامن اور محتاط رہنے کی درخواست“ کی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی طنزیہ تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سنیچر کو بتایا کہ حکومت نے آن لائن تحریک کی ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے اور اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک یا بلاک کر دیئے گئے ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں دیپکے نے لکھا کہ مرکزی حکومت نے سی جے پی (CJP) کی ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے، جس پر ان کے بقول چند ہی دنوں میں تقریباً ۱۰ لاکھ افراد نے رجسٹریشن کرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۶ مئی کو قائم کی گئی تحریک کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر دو کروڑ ۲۰ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔
دیپکے نے دعویٰ کیا کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ہیک ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق، میٹا (Meta) نے مہم کا بیک اپ اکاؤنٹ بھی انسٹاگرام سے ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نیٹ (NEET) امتحان تنازع اور مبینہ پیپر لیک پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی آن لائن پٹیشن مہم پر ۶ لاکھ سے زائد لوگ دستخط کرچکے ہیں۔
سی جے پی کے بانی لیڈر نے لکھا کہ ”حکومت کاکروچوں سے اتنی کیوں ڈری ہوئی ہے؟ ہمارا واحد جرم یہ ہے کہ ہم اپنے لئے ایک بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لیکن آپ اتنی آسانی سے ہم سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم اس وقت ایک نئے گھر پر کام کر رہے ہیں۔ کاکروچ کبھی نہیں مرتے۔“
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی وائرل تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے متاثر ہوکر پاکستان میں بھی ’کاکروچ پارٹیوں‘ کا قیام
واضح رہے کہ جمعرات کو کاکروچ جنتا پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ ہندوستان میں ہٹا دیا گیا تھا، جس کے چند گھنٹوں بعد، دیپکے نے ایک نیا اکاؤنٹ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ سنیچر کو صبح تقریباً ۸:۴۵ بجے، دیپکے نے پوسٹ کیا کہ وہ مہم سے منسلک تمام آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز تک رسائی کھوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”اس کے بعد کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی کا آفیشل بیان نہ سمجھا جائے۔“
ایک اور بیان میں، دیپکے نے کہا کہ تعلیمی نظام میں جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر تحریک کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”کارروائی دھرمیندر پردھان کے خلاف ہونی چاہئے تھی۔ لیکن نئے ہندوستان میں، جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت کو قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں؛ دیپکے خاندان فکرمند
سی جے پی نے احتجاج کی اپیل نہیں کی: دیپکے کی وضاحت
دیپکے نے وضاحت کی کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں باضابطہ طور پر احتجاج کرنے کی اپیل نہیں کی ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت پوری تحریک کو بدنام کرنے کیلئے کسی ایک ناخوشگوار واقعے کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے ”تمام کاکروچوں سے پرامن اور محتاط رہنے کی درخواست“ کی ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب بنگلورو پولیس نے کہا کہ انہوں نے ٹاؤن ہال کے قریب مجوزہ مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ایک پوسٹر میں شہریوں سے اتوار کو ”کاکروچ جنتا پارٹی کرناٹک“ کے بینر تلے احتجاج میں شامل ہوکر ہیومن چین (انسانی زنجیر) بنانے کی اپیل کی گئی تھی۔ پولیس نے شہریوں کو واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پر احتجاج سے متعلق پیغامات فارورڈ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟ وائرل ہونے کے بعد ناقدین کے شدید ردِعمل کا سامنا
اسکیم الرٹ: پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے مشتبہ واٹس ایپ گروپ لنکس کے خلاف وارننگ جاری کی
لدھیانہ، پنجاب میں پولیس نے سائبر فراڈ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو کاکروچ جنتا پارٹی کے نام پر وائرل مشکوک واٹس ایپ لنکس کے خلاف خبردار کیا ہے۔ پنجاب پولیس کے سائبر سیل سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ نے بتایا کہ دھوکہ باز اس مہم کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر ممبرشپ رجسٹریشن کا جھسا دے کر فشنگ لنکس پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے موبائل فون ہیک ہوسکتے ہیں اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سمیت حساس ذاتی ڈیٹا چوری ہوسکتا ہے۔ پولیس ایڈوائزری کے مطابق، اسکیمرز مالیاتی فراڈ یا متاثرین کے نام پر لون (قرض) لینے کیلئے چوری شدہ معلومات کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے شہریوں سے نامعلوم لنکس پر کلک کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے اور سائبر فراڈ کے متاثرین کو فوری طور پر قومی سائبر ہیلپ لائن ۱۹۳۰ پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔