ہندی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نغموں کو عام زندگی کے ساتھ منسلک کرکے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2021, 1:59 PM IST | Agency | Mumbai
ہندی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نغموں کو عام زندگی کے ساتھ منسلک کرکے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
ہندی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نغموں کو عام زندگی کے ساتھ منسلک کرکے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔جاں نثار اختر ۱۸؍ فروری ۱۹۱۴ء کو مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر میں پیدا ہوئے، ان کے والد مضطر خیرآبادی بھی ایک مشہور شاعر تھے۔ ان کا بچپن سے شاعری سے گہرا تعلق تھا۔انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لئے ان کی شاعری میں زندگی ؤ کے فسانے کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی غزل کا ایک شعر آج بھی لوگوں کے ذہن پر چھایا ہے۔
انقلابوں کی گھڑی ہے ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے
ان کی غزلیں بھی جو مزاج کے اعتبار سے جدید تر بھی ہیں اور پرانی شعری روایت کا تسلسل بھی۔ انکی شاعری نعروں کی شاعری نہیں۔ مجموعی طور پر یہ شاعری کلاسیکیت ، رومانیت ، حقیقیت نگاری کا امتزاج اور عاشقانہ و نظریاتی شاعری کا نمونہ ہے۔
۱۹۴۵ء اختر کے لئے خوشیوں کی سوغات لے کر آیااس سال ان کا بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام انہوں نے ’جادو‘ رکھاجوبعدمیں’’جاوید اختر‘‘ کے نام سے فلم انڈسٹری میں مشہور ہوئے۔۱۹۴۷ءمیں تقسیم کے بعد ملک بھر میں ہو رہے فرقہ وارانہ فسادات سے تنگ آکر اختر گوالیار چھوڑ کر بھوپال آ گئے۔ بھوپال میں وہ مشہور حمیدیہ کالج میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوگئے لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کا دل وہاں نہیں لگا اور وہ اپنے خوابوں کو نئی شکل دینے کے لئے ۱۹۴۹ء میں ممبئی آ گئے۔
ممبئی پہنچنے پرانہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کچھ دنوں تک وہ مشہور ناول نگار عصمت چغتائی کے یہاں بھی رہے۔ انہوں نےسب سے پہلے فلم ’شکایت‘ کیلئے نغمہ لکھا لیکن فلم کی ناکامی کے بعدانہیں اپنا فلمی کریئر ڈوبتا نظر آیا لیکن انہوں نےہمت نہیں ہاری اورجدوجہد جاری رکھی۔ آہستہ آہستہ ممبئی میں ان کی شناخت بنتی گئی لیکن۱۹۵۲ءمیں انہیں گہرا صدمہ پہنچا جب ان بیگم کا انتقال ہو گیا۔
تقریباً۴؍سال تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کے بعد ۱۹۵۳ءمیں فلم ’نغمہ‘ میں گلوکارہ شمشاد بیگم کی آواز میں ’’بڑی مشکل سے دل کی بیقراری میں قرار آیا‘‘ کی کامیابی سے وہ فلم انڈسٹری میں خود کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
فلم نغمہ کی کامیابی کے بعد اخترکو اچھی فلموں کی پیشکش ملنے لگی۔اس دوران انہوں نے چھوٹے بجٹ کی فلموںمیں بھی کام کیا جس سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔اچانک هي ان کی ملاقات موسیقار اوپي نیر سے ہوئی جن کی موسیقی میں انہوں نے فلم ’باپ رے باپ‘ کیلئے ’’اب یہ بتا جائیں کہاں‘‘ اور’’دیوانہ دل اب مجھے راہ دکھائے‘‘ جیسے نغمے لکھے۔ آشا بھوسلے کی آواز میںیہ نغمے کافی مقبول ہوئے۔
اس کے بعد وہ او پی نیر کےپسندیدہ نغمہ نگار بن گئے۔۱۹۵۶ءمیں او پی نیرکی موسیقی سے سجی گرودت کی فلم سی آئی ڈی میں’اے دل ہےمشکل جینا یہاں، ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے یہ ہے ممبئی میری جاں‘کی کامیابی کے بعد انہوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔
۶۰ءکی دہائی میں اختر نے موسیقار خیام کی موسیقی میں بہت سے غیر فلمی نغمہ بھی لکھے۔ ان کے غیر فلمی گیتوں میںاشعار میرےیوں تو زمانے کے لئے ہے، ہر ایک حسن تیرا، ہم سے بھاگا نہ کرو، راہی ہے دی طلب، تھر تھرا اٹھی ہے، ذرا سی بات پر جیسے نہ بھولنے والے نغمے شامل ہیں۔۱۹۷۶ میں اختر کی قیمتی شراکت کو دیکھتے ہوئے انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سےنوازاگیا۔تقریباً۴؍ دہائیوں کے اپنے فلمی کریئر میں انہوں نے۸۰؍ فلموں کیلئےنغمےلکھے۔ اپنے نغموں سے سامعین کے دل میں خاص شناخت بنانے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار جاں نثار اختر ۱۹؍ اگست ۱۹۷۶ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔