Updated: November 05, 2026, 7:04 PM IST
| New Delhi
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کسی بھی قیمت پر دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا عزم ظاہر کیا ہے، ۲۰۲۵ءمیں، ڈھاکہ میں ایک خصوصی ٹریبونل نے حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے سزائے موت سنائی، فیصلہ دیا کہ سابق وزیر اعظم کریک ڈاؤن کا حکم دینے کی ذمہ دار تھیں جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئےتھے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ۔ تصویر: آئی این این
۲۰۲۴ءمیں عوامی بغاوت میں معزول ہونے والی بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ وہ مظاہرین پر اپنی حکومت کے مہلک کریک ڈاؤن پر سزائے موت سنائے جانے کے باوجود اگلے ماہ ہندوستان میں جلاوطنی سے بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے پرعزم ہیں۔ واضح رہے کہ حسینہ طلبہ کی زیر قیادت مظاہروں کے بعد انہیں اقتدار سے ہٹانے کے بعد ہندوستان فرار ہو گئیں اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔بعد ازاں ۲۰۲۵ء میں، ایک بنگلہ دیشی خصوصی ٹریبونل نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے سزائے موت سنائی، فیصلہ دیا کہ وہ کریک ڈاؤن کا حکم دینے کی ذمہ دار تھیں، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں دیگر زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ
اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی میں تقریباً ۱۴۰۰؍ افراد مارے گئے۔ تاہم حسینہ کسی بھی الزام سے انکار کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے ٹریبونل کے فیصلے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور مقدمے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔جبکہ بنگلہ دیش نے بار بار حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ہندوستان نے انہیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اگست میں دسمبر میں واپس آنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔
شیخ حسینہ نے ای میل کے ذریعے سوالات کے جواب میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’اگر موت میری تقدیر ہے، تو میں اپنے ملک کی مٹی پر، اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کروں گی۔لہذا، میں بنگلہ دیش واپس آؤں گی۔ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘‘حسینہ، جو۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۴ء تک وزیر اعظم رہیں، نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ ہندوستان سے واپس آنے کا ارادہ کیسے رکھتی ہیں۔ جبکہ بنگلہ دیش پہنچنے پر انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے اے پی کو بتایا، ’’میں جانتی ہوں کہ جب میں واپس آؤں گی تو مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ مجھے قید کیا جا سکتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا یہاں تک کہ مارا جا سکتا ہے۔ میں ان امکانات سے پوری طرح واقف ہوں۔ لیکن میں اپنی باقی زندگی اپنے لوگوں کو دور سے تکلیف میں دیکھتے ہوئے نہیں گزار سکتی۔‘‘
حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس نے ایک عبوری انتظامیہ کا چارج سنبھالا، اگلے۱۸؍ ماہ تک ملک کی قیادت کی۔فروری میں، سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور حسینہ کے دیرینہ سیاسی حریف طارق رحمان نے یونس کی انتظامیہ کے تحت ہونے والےانتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ جبکہ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو ووٹ میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ حسینہ کی منصوبہ بند واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ان کی پارٹی کو وسیع کریک ڈاؤن کے درمیان غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ پارٹی پر پابندی برقرار ہے، سینئر لیڈر گرفتار یا جلاوطنی پر مجبور ہیں۔حسینہ نے الزام لگایا کہ اگست۲۰۲۴ء سے اب تک کم از کم۲۰؍ ہزار پارٹی اراکین مارے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں کو گرفتار، تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا روپوش ہونے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حامیوں نے اپنی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے گھر، کاروبار اور روزگار بھی کھو دیے ہیں۔انہوں نے حکام پر پارٹی کو منظم طریقے سے دبانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا،’’کوئی معمول کا سیاسی یا جمہوری ماحول نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وسط مدتی انتخابات میں جین زی امیدواروں کی تاریخ ساز کامیابی
مزید برآں ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی حقوق کے گروپوں نے حالیہ مہینوں میں شہری اور سیاسی حقوق پر حملوں کے لیے رحمان کی حکومت پر تنقید کی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں توقع ہے کہ امریکہ اور ہندوستان جیسے ممالک بنگلہ دیش پر دباؤ ڈالیں گے تاکہ ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے، حسینہ نے کہا کہ وہ غیر ملکی تحفظ نہیں چاہتیں۔انہوں نے کہا، ’’میں تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور تعاون کی قدر کرتی ہوں۔ یہ ہمیشہ ہماری (بنگلہ دیش کی) خارجہ پالیسی رہی ہے۔ لیکن مجھے اپنے ملک واپس آنے کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘علاوہ ازیں عالمی حقوق کے گروپوں اور آزاد مبصرین نے اس سے قبل عبوری انتظامیہ کے دوران لبرل قوتوں کو دبانے کی کوشش کرنے والے بنیاد پرست گروپوں کے عروج پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اقلیتی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ حکومت کو ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تنقید کا سامنا ہے، جبکہ یونس کی زیر قیادت حکومت نے الزامات کی تردید کی ہے۔