• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ انڈیا ‘ کی ریلی، عوام کا جم غفیر، جمہوریت کو ختم نہ ہونے دینے کا عزم، گیانیش کو انتباہ

Updated: November 02, 2026, 2:02 PM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi

لاکھوں کے ہجوم نے برسراقتدار طبقہ کی نیند اڑا دی، ۱۹۷۴ء کے بعد سب سے بڑی ریلی ہونے کا اندازہ ، راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ گیانیش کمار کو غداری کیلئے جیل جانا ہوگا، مودی اور شاہ کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

Opposition leaders, accompanied by thousands of protesters, marched from Connaught Place to Ramlila Maidan for a rally.  Picture: PTI
رام لیلا میدان میں ریلی کیلئے کناٹ پیلس سے اپوزیشن لیڈروں نے ہزاروں مظاہرین کےساتھ مارچ کیا۔ تصویر: پی ٹی آئی

اپوزیشن اتحاد  نے اتوار کو رام لیلا میدان میں تاریخ رقم کردی۔ ووٹ چوری ، گیانیش کمار کی برطرفی اورایس آئی آر کی منسوخی کیلئے کناٹ  پیلس سے رام لیلا میدان تک  مارچ اور رام لیلا میدان کی ریلی میں امڈنے والی  غیر معمولی بھیڑ  نے حکمراں طبقہ کی نیند حرام کردی ہے۔  ایک اندازہ کے مطابق ۱۹۷۴ء کے  جے پرکاش آندولن کے بعد یہ سب سے بڑی ریلی   ہے۔ ریلی کے شرکاء اور قائدین  نے اسے مودی سرکار کے خاتمے کا آغاز قرار دیا ہے۔ 

اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین کا عزم 

 راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے ، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی ، نیہا بورا ، ایم اے بے بی اور دیگر مقررین نے  دہلی کے تخت کو براہ راست چیلنج کرتے ہوئے اس کو اکھاڑپھینکنے  اور ملک میں جمہوریت کو ختم نہ ہونے دینے کا عزم کیا۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر براہ راست وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو چیلنج کیا۔  انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو ملک  سے غداری کے الزام میں جیل جانا ہوگا جبکہ وزیراعظم مودی اور امیت شاہ  کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ 

رام لیلا میدان کا منظر

کناٹ  پیلس سے رام لیلا میدان تک راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے مارچ   کے پہنچنے سے پہلے ہی رام لیلا میدان بھر چکا تھا۔ اپوزیشن کی ۲۱؍جماعتوں، طلبہ تنظیموں، کسانوں، سابق فوجی اہلکاروںاور سماج کے دیگر طبقات کے لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ میدان میں  جتنی بھیڑ تھی اس سے  باہر سڑکوں پر موجود تھی۔ بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کسی سیاسی وابستگی  کے بغیر موضوع  کی بنیاد پر احتجاج میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔ سیاسی کارکنوں  سے زیادہ  نوجوانوں،طلبہ، خواتین، دانشوروں اور سماجی کارکن میگا ریلی میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے:جرمنی: بہتر تعلیم، کم رہائشی اخراجات اور لازمی فوجی سروس کے خلاف پرتشدد مظاہرے

 مختلف ریاستوں کے روایتی لباس میں ملبوس افراد خاص توجہ کا مرکزرہے۔ ریلی کے مقام کی طرف مارچ کرنے والے حامیوں نے ڈھول باجے اور لوک گیتوں کی تھاپ پر رقص اور گاتے ہوئے احتجاج کیا۔ کئی مقامات پر فنکاروں نے اسٹریٹ ڈراموں اور کارٹون بینرز کے ذریعےووٹرلسٹ سے ناموں کو حذف کئے جانے پر تنقید کی۔ ڈھول کی تھاپ کے ساتھ جوش و خروش کا یہ ماحول رام لیلا میدان سے کئی کلومیٹر دور محسوس کیا گیا۔سینئر صحافی پربھو چاولہ نے اس کو ۱۹۷۴ء کے جے پی موومنٹ کے بعد اب تک کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا ہے۔ مارچ کے دوران ترنگا، بینر اور پوسٹر اٹھائے کارکنان آگے بڑھ رہے تھے اور نعرے لگارہے تھے ’ووٹ چور، گدی چھوڑ! کرناٹک سے مظاہرین ایک میٹر لمبے کپڑوں کے بینر کے ساتھ پہنچے جس پر ان  ووٹر کے نام درج تھے جنہیں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا  ہے۔

  میگا ریلی کے آغاز سے پہلے ۲۰؍ پارٹیوں کے سینئر لیڈران جن میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، رراہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سبراہ  ممتا بنرجی، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، این سی پی کی لیڈر سپریہ سولے نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ،شیو سینا ادھو ٹھاکرے کے لیڈر سنجے راوت، سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، سی پی ایم لیڈر ایم اے بے بی، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے منٹو روڈ سے رام لیلا میدان تک ایک زبردست مارچ کی قیادت کی۔ سینئر رہنما کھلی گاڑیوں میں سوار ہوئے۔ مارچ کے دوران ہزاروں حامی سڑک کے دونوں طرف قطار میں کھڑے تھے۔ بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ لیڈروں کو رام لیلا میدان تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگے۔ رام لیلا میدان میں اسٹیج پر لیڈروں کے بیک وقت مبارکباد نے اپنے حامیوں کے مبارکبادوں کو تسلیم کرنے کیلئے ہاتھ اٹھا کر اپوزیشن اتحاد کا ایک طاقتور پیغام دیا، جس سے لوگوں میں زبردست جوش و خروش پیدا ہوا۔

میگاریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات کو بھی ووٹ چوری کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں برسوں سے ووٹ کی چوری ہو رہی ہے۔کانگریس لیڈر نے مدھیہ پردیش، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مہاراشٹراور دیگر ریاستوں کی مثال دی  اور کہا کہ ان سبھی ریاستوں میں ووٹ چوری کئے گئے۔ راہل گاندھی نے پریقین لہجے میں کہا کہ ’’گیانیش کمار جیل جائیں گے۔ یہ کوئی عام چوری نہیں۔ یہ شہریوں کی آزادی اور اظہار رائے کی چوری ہے۔ یہ غداری ہے۔گیانیش کمار کے بغیرنریندر مودی وزیر اعظم نہیں بن پاتے اور نہ ہی امیت شاہ وزیر داخلہ بن پاتے۔ ‘‘بی جے پی کے ’’مودی کہیں نہیں جائیں گے‘‘ سوشل میڈیا ٹرینڈ کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ’’ وہ کہتے ہیں امیت شاہ اور مودی کہیں نہیں جائیں گے۔ مودی کہیں جا بھی  نہیں سکتے۔ مودی جانا  چاہیں تو بھی جانے نہیں دیا جائے گا۔گیانیش کے بعد مودی اورامیت شاہ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے محبت کے پیغام کو بھی عام کیا اور کہا کہ ’’مودی، امیت شاہ اور گیانیش ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ ہم مودی، امیت شاہ، آر ایس ایس سے نفرت نہیں کریں گے، ہم انہیں ماریں گے کاٹیں گےنہیں لیکن ہم آئین کو بچائیں گے۔‘‘

 ریلی میں سادھو سنتوں کی بھی شرکت، چڑھاوا چوری پر سوال

رام لیلا میدان میں   سادھو سنتوں کا بھی  ایک ہجوم موجود  تھا۔ وہ یہاں رام مندر  سے چڑھاوا چوری  کے خلاف  جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مالی معاملات کی جانچ کی جائے اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ سادھو سنتوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف ہندوؤں کے مذہبی جذبات اور آستھا کی بات کرتی ہے، لیکن اس کے  اقدامات سے انہی جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کیرالا کے محمد شہنشاہ نے عرب ریڈنگ چیلنج میں عالمی سطح پر تیسرا مقام حاصل کیا

’’ یوپی سے ہی وِداعی بھی  ہوگی‘‘

 سماج وادی پارٹی کے سربراہ  اکھلیش یادو نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ رام لیلا میدان ’جمہوریت کی ہلدی گھاٹی‘ بن گیا ہے، جہاں نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔یہاں پر گونجنے والے ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے تبدیلی کی علامت ہیں۔  اتر پردیش کے لوگ جس طرح استقبال کرنا جانتے ہیں، اسی طرح رخصتی بھی اچھی طرح کرنا جانتے ہیں۔۲۰۲۷ءکے اسمبلی انتخابات میں ایسی وداعی ہوگی کہ اقتدار سے جانے والے دوبارہ واپس نہیں آئیں گے۔ڈبل انجن والی سرکار کو بنارس میں ڈبل زیرو کی شکست ملی۔ ہم مسلسل بی جے پی کی ’’ووٹ چوری‘‘ کو دیکھ رہے ہیں۔ بی جے پی  مسلسل سازش کر رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ  وہ عوام کے درمیان انتخابی مقابلہ میں  وہ  جیت نہیں سکتی۔

~امیت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی کہیں نہیں جا رہے ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ مودی کہیں نہیں جا سکتے، اگر وہ جانا بھی چاہیں تو ہم انہیں جانے نہیں دیں گے۔ یاد رکھیے کہ آپ نے ووٹ چوری کی ہے، اس کیلئے آپ کہیں بچ کر نہیں جا سکیں گے۔ امیت شاہ اور نریندر مودی کے خلاف قانونی کارروائی  ہو گی۔‘‘
- راہل گاندھی 

~ان چوروں کو اقتدار سے ہٹانا ہوگا۔ مودی اقتدار سے جائیں گے، تبھی جمہوریت بچے گی۔  وہ خود ہی اپنے آپ کو منتخب کرتے ہیں، عوام انہیں منتخب نہیں کرتے۔ آج ملک میں حکومتیں  عوام کے ووٹ کے بجائے  ووٹ چوری کے ذریعہ بنی ہیں  مہاراشٹر، بہار اور یوپی  کی حکومتیں بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں۔
-ملکارجن کھرگے

~ جمہوریت کے تحفظ کیلئے آخری دم تک لڑیں گے،ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہار نہیں مانیں گے۔ اپنی جانیں دے دیں گےمگرلڑیں گے۔ انہوں نے ہمارے بنگال کو لوٹا ہے۔ ہم جمہوریت کو بچائیں گے اور اسے واپس لائیں گے۔ ہم سیاست کے ذریعہ  اور جمہوریت کے ذریعے بدلہ لیں گے۔ 
- ممتا بنرجی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK