• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امول نے مکھن اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، ایک کلو گھی ۶۸۰ ؍روپے کا ہوگیا

Updated: November 04, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

ملک میں دودھ اور ڈیری مصنوعات کی معروف کمپنی امول نے مکھن اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں صارفین کے گھریلو اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

Amul Ghee.Photo:INN
امول گھی۔ تصویر:آئی این این

ملک میں دودھ اور ڈیری مصنوعات کی معروف کمپنی امول   نے مکھن اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں صارفین کے گھریلو اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ قیمتوں میں یہ تبدیلی دیوالی سے قبل سامنے آئی ہے، جب مٹھائیاں اور روایتی پکوان تیار کرنے کے لیے گھی اور مکھن کی مانگ عام طور پر بڑھ جاتی ہے۔ گجرات کوآپریٹیو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن (GCMMF) کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ دودھ کی پیداوار پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ امول ٹیبل بٹر، امول گھی اور امول گائے کا گھی کی نئی قیمتیں ۲؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے نافذ کی گئی ہیں۔ 
 امول کے ایک کلو گھی کے کارٹن کی قیمت میں ۵۰؍ روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ۵۰۰؍ گرام مکھن کا پیکٹ ۱۵؍روپے مہنگا ہوگیا ہے۔ اسی طرح ۵۰۰؍گرام خالص گھی کے پاؤچ پر ۲۰ ؍روپے اور ۱۰۰ ؍گرام مکھن کے پیکٹ پر ۳ ؍روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ امول کاؤ گھی کے ۵۰۰ ؍ملی لیٹر پاؤچ کی قیمت ۳۵۰ ؍روپے سے بڑھ کر ۳۷۰ ؍روپے اور ایک لیٹر پاؤچ کی قیمت ۶۹۵؍روپے سے بڑھ کر ۷۳۵؍روپے ہوگئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:گلوکارہ کنیکا کپور کا شوہر گوتم ہتھی رامانی سے علاحدگی کا اعلان

گجرات کوآپریٹیو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ دودھ کی پیداوار پر بڑھنے والی لاگت کو قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق دودھ کی خریداری اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث گھی اور مکھن کی قیمتوں پر نظرثانی ضروری ہوگئی تھی۔ امول کا کہنا ہے کہ وہ ۳۶ ؍لاکھ کسانوں کی ملکیت پر مبنی کوآپریٹو ادارہ ہے اور پیداواری لاگت میں تبدیلی کا اثر مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ 
دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں گھی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور بعض علاقوں میں سپلائی کی کمی کو بھی قیمتوں میں اضافے کے پس منظر سے جوڑا گیا ہے۔ گجرات کے احمد آباد اور وڈودرا سمیت بعض بازاروں میں خاص طور پر گائے کا گھی کی دستیابی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ملاوٹ شدہ گھی کے خلاف کارروائیوں کے بعد بعض صارفین نے معروف برانڈز کی مصنوعات کو ترجیح دینا شروع کیا، جس سے برانڈڈ گھی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ تاہم کمپنی کی جانب سے باضابطہ طور پر قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ دودھ کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت بتائی گئی ہے۔ 
دیوالی کے موقع پر گھروں اور مٹھائی کی دکانوں میں گھی اور مکھن کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں اضافے سے ان خاندانوں کے بجٹ پر اثر پڑنے کا امکان ہے جو تہواروں کی تیاری کے لیے بڑی مقدار میں ڈیری مصنوعات خریدتے ہیں۔ گھی کی قیمت میں ۵۰ ؍روپے اور مکھن کے ۵۰۰ ؍گرام پیکٹ میں ۱۵ ؍روپے کا اضافہ خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو روزمرہ کھانے پکانے اور مٹھائیاں بنانے میں ان مصنوعات کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:۳۱؍سال کی عمر میں بھی ۲۱؍ جیسا جوش، ورلڈ ٹور فائنلس پر سندھو کی نظریں

 یہ اضافہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح ۱۲؍ فیصد سے کم کرکے ۵؍ فیصد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس وقت امول نے کئی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تھی، لیکن اب دودھ کی پیداوار پر بڑھتی لاگت اور مارکیٹ کی صورتحال کے باعث گھی اور مکھن کے نرخ دوبارہ بڑھائے گئے ہیں۔  امول کی قیمتوں میں اس تبدیلی سے ملک بھر کے صارفین متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ نئی قیمتوں والے پیکٹ مرحلہ وار بازاروں اور خوردہ دکانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ صارفین کو خریداری کے وقت پیکٹ پر درج تازہ زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت   ضرور دیکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK