ہندوستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوگا، یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کی حفاظت ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
ہندوستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوگا، یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کی حفاظت ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے جمعرات کو بتایا کہ ہندوستان آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے برطانیہ کی طرف سے بلائی گئی بات چیت میں شرکت کرے گا۔وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا، ’’برطانیہ نے آبنائے ہرمز پر بات چیت کے لیے کئی ممالک کو مدعو کیا ہے، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ ہماری طرف سے خارجہ سکریٹری (وکرم مصری) اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔‘‘ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ ان ممالک میں شامل نہیں ہے جو اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ان کے ملک کی ذمہ داری نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یو اے ای نے ہرمز کھلوانے کیلئے طاقت کے استعمال کا مطالبہ کیا
خبر رساں ادارے کے مطابق، وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد تفصیلات طے کرنے کے لیے ’’ورکنگ لیول میٹنگ‘‘ متوقع ہیں۔تاہم جیسوال نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ہندوستان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایران اور خطے کے دیگر ممالک سے رابطے میں ہے۔جیسوال نے مزید کہا، ’’ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ان رابطوں کے دوران چھ ہندوستانی جہاز آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اور ہم متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہیں۔‘‘بعد ازاں مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے ہندوستان کو توانائی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہم اپنے آخری دم تک مزاحمت کریں گے: بحریہ کمانڈر تنگسیری کے جنازے میں ایرانیوں کا عہد
دریں اثناء ایران نے مؤثر طریقے سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جس سے دنیا کی تقریباً۲۰؍ فیصد پٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔اس سے ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ دراصل ہندوستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا۶۰؍ فیصد درآمد کرتا ہے، جو زیادہ تر خلیجی ممالک سے آتی ہے۔بعد ازاں بدھ کو تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں۱۹۵؍ اعشاریہ ۵؍ روپے کا اضافہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملہ کیا۔ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور خلیجی ممالک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے علاقائی سلامتی کا توازن بدل سکتا ہے۔ اس کے برخلاف تہران طویل عرصے سے کہتا آرہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیے ہے۔