تجارت اور صنعت کی وزارت کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر ۲۰۲۵ء میں تھوک قیمتوں پر مبنی ہندوستان کی افراط زر کی شرح ۸۳ء۰؍فیصد رہی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر تیار شدہ مصنوعات اور معدنیات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 7:01 PM IST | Mumbai
تجارت اور صنعت کی وزارت کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر ۲۰۲۵ء میں تھوک قیمتوں پر مبنی ہندوستان کی افراط زر کی شرح ۸۳ء۰؍فیصد رہی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر تیار شدہ مصنوعات اور معدنیات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔
تجارت اور صنعت کی وزارت کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر ۲۰۲۵ء میں تھوک قیمتوں پر مبنی ہندوستان کی افراط زر کی شرح ۸۳ء۰؍فیصد رہی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر تیار شدہ مصنوعات اور معدنیات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔دسمبر میں اشیائے خوردونوش کی ہول سیل قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس لیے اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کی شرح صفر فیصد رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ مہنگی نہیں ہوئیں۔
مینوفیکچرڈ گڈز گروپ، جو کہ تھوک مہنگائی (ڈبلیو پی آئی ) میں سب سے زیادہ حصہ دار ہے، نے قیمتوں میں ۲۳ء۶۴؍فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، دسمبر میں قیمتوں میں۴۱ء۰؍فیصد اضافہ ہوا۔ اس گروپ کی ۲۲؍ مصنوعات میں سے، ۱۳؍ کی قیمتیں بڑھیں، ۸؍ کی قیمتیں کم ہوئیں اور کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔دسمبر میں جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں بنیادی دھاتیں، کیمیکل اور کیمیائی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور دیگر غیر دھاتی معدنی مصنوعات شامل ہیں۔ربڑ اور پلاسٹک کی مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء، کمپیوٹر اور الیکٹرانک سامان، کاغذ اور مشروبات کی قیمتوں میں کمی ہوئی ۔
یہ بھی پڑھئے:عامر خان، راجکمار ہیرانی کی ’’دادا صاحب پھالکے‘‘ کی شوٹنگ مارچ میں شروع کریں گے
نومبر۲۰۲۵ء میں تھوک مہنگائی صفر (-۳۲ء۰؍فیصد) سے نیچے تھی۔ اس سے قبل اکتوبر میں یہ -۲۱ء۱؍ فیصد تھی جبکہ گزشتہ سال نومبر میں یہ ۱۶ء۲؍ فیصد تھی۔کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی خردہ افراط زر دسمبر ۲۰۲۵ء میں ۳۳ء۱؍ فیصد تھی، جو نومبر میں ۷۱ء۰؍ فیصد سے قدرے زیادہ تھی۔دسمبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) -۷۱ء۲؍ فیصد تھا، یعنی خوراک کی قیمتیں پچھلے سال سے کم تھیں۔ یہ مسلسل ساتواں مہینہ ہے جب اشیائے خوردونوش کی مہنگائی منفی رہی ہے جس سے عام لوگوں کے گھریلو بجٹ کو ریلیف ملا ہے۔ مجموعی طور پر مہنگائی کی صورتحال قابو میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایرانی کرنسی بری طرح کریش، ریال صفر ڈالر کے برابر ہو گیا
ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ ماہ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے افراط زر کی پیش گوئی کو۶ء۲؍ فیصد سے کم کر کے ۲؍فیصد کر دیا تھا۔آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کی وجہ سے ریپو ریٹ میں۲۵ء۰؍ فیصد کمی کی گئی ہے، جو اب ۲۵ء۴؍فیصد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ۲ء۸؍ فیصد اقتصادی ترقی اور افراط زر میں کمی نے ہندوستان کو ایک منفرد ’’سنہری دور‘‘ دیا ہے جس میں ترقی اور استحکام دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔