• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈونیشیا: خواتین حج افسران کا تاریخ کا سب سے بڑا دستہ تعینات کرنے کی تیاری

Updated: February 03, 2026, 12:19 PM IST | Jakarta

انڈونیشیا۲۰۲۶ءمیں خواتین حج افسران کا تاریخ کا سب سے بڑا دستہ تعینات کرنے جا رہا ہے، مشرقی جکارتہ میں ملک بھر کی تربیتی مہم مکمل ہونے کے بعد یہ تعیناتی عمل میں آئے گی، جس کے بعد ۵۰۰؍ سے زائد خواتین ،۱۶۰۰؍ سے زائد افسران میں شامل ہوکر ملک کے ایک لاکھ ۲۲۰۰۰؍ حجاج کرام کی خدمت کریں گی۔

Photo: INN
تصویر: ایکس

انڈونیشیا کیحج و عمرہ کی وزارت نے تصدیق کی ہے کہ ۲۰۲۶ءمیں خواتین حج افسران کا تاریخ کا سب سے بڑا دستہ تعینات کرنےکی تیاری کی جارہی ہے، مشرقی جکارتہ میں ملک بھر کی تربیتی مہم مکمل ہونے کے بعد یہ تعیناتی عمل میں آئے گی، جس کے بعد ۵۰۰؍ سے زائد خواتین ،۱۶۰۰؍ سے زائد افسران میں شامل ہوکر ملک کے ایک لاکھ ۲۲۰۰۰؍ حجاج کرام کی خدمت کریں گی۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی بانی عصام حجازی کی تیار کردہ ایپ ’اپ اسکرولڈ‘ امریکہ میں ایپل ایپ اسٹور پر سرفہرست

حکام نے بتایا کہ اب خواتین انڈونیشیا کے حج افسران کی کل تعداد کا تقریباً۳۳؍ فیصد ہیں، جو اس پروگرام کی تاریخ میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ خواتین افسران خصوصاً بزرگ خواتین حجاج کی مدد کے لیے زیادہ موزوں ہیں، خاص طور پر ذاتی دیکھ بھال، کمرے میں مدد اور رازداری سے متعلق ہنگامی حالات میں۔

یہ بھی پڑھئے: استنبول: عراقی خطاط علی زمان نے ۶؍ سال میں دنیا کا عظیم قرآنی نسخہ مکمل کرلیا

واضح رہے کہ ۲۰؍ روزہ تربیتی پروگرام میں پالیسی کی تعلیم، عملی مشقیں، مواصلاتی تربیت اور عربی زبان کی مہارتیں شامل تھیں۔ آن لائن اور مقام پر مبنی مزید تربیتی سیشن منعقد ہوں گے، کیونکہ انڈونیشیا بہتر ہم آہنگی و نظم و ضبط کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے حج دستے کی خدمت کی تیاری کر رہا ہے۔یہ یاد رہے کہ سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ہر سال حج کیلئے بڑی تعداد میں انڈونیشیائی شہری تشریف لاتے ہیں۔ جنہیں مختلف قسم کی سہولیات پہنچانے کا کام ملک کی وزارت حج و عمرہ انجام دیتی ہے، تاکہ زائرین یہ فریضہ بحسن خوبی انجام دے سکیں، سہولت کےتعلق سے حجاج کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں خواتین حجاج خاص ہیں، جو مرد خدمت گزاروں سے رزاداری کی خدمات حاصل کرنے میں پس و پیش میں مبتلا ہو جاتی ہیں، حالانکہ خواتین اہلکاروں کی ایک جماعت اس کام کیلئے موجود ہوتی ہے، تاہم اس قلیل تعداد کی بناء پر یہ خدمت گزار تمام عازمین تک اپنی خدمت پیش نہیں کرپاتیں، لہٰذا خواتین عملے کی تعداد میں اضافہ اسی درپیش مسئلے کے حل کے طور پر کیا جارہا ہے۔ بعد ازاں حکومت کو یقین ہے کہ اس کا یہ قدم خواتین کومزید خود مختار، اور پرعزم بنانے میں مددگار ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK