ممتا بنرجی نے دھمکی تو بہت سخت الفاظ میں دی ہے کہ ’’اگر مغربی بنگال میں ایس آئی آر بند نہیں کیا گیا تو سب کچھ ہلا کر رکھ دوں گی‘‘ مگر کیا اس کی وجہ سے ایس آئی آر کی مہم رُک جائیگی؟ اِس کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
ممتا بنرجی نے دھمکی تو بہت سخت الفاظ میں دی ہے کہ ’’اگر مغربی بنگال میں ایس آئی آر بند نہیں کیا گیا تو سب کچھ ہلا کر رکھ دوں گی‘‘ مگر کیا اس کی وجہ سے ایس آئی آر کی مہم رُک جائیگی؟ اِس کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ مختلف ریاستوں کے جو مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اُن سے کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بی ایل اوز کی خود کشی اور اموات سے بھی فرق نہیں پڑرہا ہے۔ ممتا بنرجی کے بارے میں مشہور ہے کہ جرأتمند ہیں، لڑنا اور لڑ کر جیتنا جانتی ہیں۔ اُن کے پاس ایک ریاست کی طاقت بھی ہے جہاں بحیثیت وزیر اعلیٰ وہ اقتدار کی تیسری مدت ۲۰۲۶ء میں مکمل کریںگی۔ سابقہ اسمبلی الیکشن (۲۰۲۱ء) میں اُن کی پارٹی مخالف فضا کے باوجود ۴۸؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۲۱۵؍ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی مگر کیا اِس بار بھی ایسا ہی معرکہ سر انجام دیا جائیگا یہ سوال وقت کے ساتھ بہت اہم ہوتا جارہا ہے۔
بہار میں ایس آئی آر کی وجہ سے ناموں کے حذف و اضافہ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی وضاحت نہیں آئی ہے جبکہ الیکشن ختم ہوچکا ہے اور نئی حکومت بھی تشکیل پا چکی ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے کوئی دوٹوک فیصلہ نہیں سنایا تو بہار میں گزشتہ دنوں قائم ہونے والی حکومت کی توثیق ہوجائیگی جو فی الحال نتیش کمار کی قیادت میں جاری ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ انتخابی فہرست کا حذف و اضافہ کتنا درست تھا اور کتنا نادرست۔ اگر ایسے ہی حالات مغربی بنگال میں بھی پیدا ہوئے اور نتائج بہار ہی کی طرح بالکل یک رُخے انداز کے ظاہر ہوئے تو ممتا بنرجی اپنے جارحانہ تیوروں کے باوجود کیا کرلیں گی اس پر اُنہیں بھی غور کرنا چاہئے۔ اُن کی پارٹی نے کچھ عرصہ قبل ایس آئی آر کے بارے میں اپنا موقف یہ کہتے ہوئے بیان کیا تھا کہ ’’یہ نظر نہ آنے والی خاموش انتخابی دھاندلی (رِگنگ) ہے، ہم اس بات کو یقینی بنائینگے کہ تمام اہل رائے دہندگان کا نام انتخابی فہرست میں درج ہو، ہم ریاست کے عوام کیلئے انتھک کوشش کرینگے۔‘‘
ممتا کے مخالفین بھی یہ گواہی دیں گے کہ وہ دھن کی پکی ہیں اور اُن کے عزم پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ جاری تنازع سے اُنہیں ایک بار پھر اپنے لڑاکا تیور اپنانے کا موقع ملا ہے مگر گھوم پھر کر وہی سوال آجاتا ہے کہ وہ کریں گی کیا؟ ۲۰؍ نومبر کو اُنہوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر روکنے کی اپیل کی، اس سے قبل بڑی رَیلی نکالی تھی پھر بھی ریاست میں ایس آئی آر نہیں رُکا اور اس میں کوئی تبدیلی یا لچک نہیں آئی ۔ خبروں کے مطابق ایک بی ایل او اُن کے گھر بھی فارم لے کر پہنچا ہے۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ جہاں جہاں اپوزیشن اقتدار میں ہے وہاں وہاں بے چینی ہے مگر اپوزیشن کی تمام پارٹیوں میں ایس آئی آر کے موضوع پر بھی اتفاق اور اتحاد نہیں ہے۔ سب الگ الگ لڑ رہے ہیں۔ کانگریس نے دستخطی مہم جاری کی ہے اور ۱۴؍ دسمبر کو زبردست رَیلی کا اعلان کرچکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں دستخطی مہم میں شامل ہوجاتیں اور کانگریس کی رَیلی کی حمایت کرتیں۔ یہ بھی نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن جتنی تیزی اور دلیری کے ساتھ اس مہم کو جاری کئے ہوئے ہے، اُس کے مقابلے میں مل جل کر حالات کا مقابلہ کرنے کی اپوزیشن کی متحدہ تیاری بالکل نہیں ہے۔ کیا یہ صورتحال اپوزیشن کو مزید کمزور نہیں کردیگی؟